اداریہ

اگلا پینترا کیا ہوگا؟

ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اب پوری طرح سے ناکام حکمران ثابت ہو رہی ہے۔ اگر چہ محبوبہ مفتی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طر ح8 جولائی2016 سے پہلے ہی ناکام نظر آرہی تھی، تا ہم حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد محبوبہ مفتی کی ناکام حکمرانی کے ثبوت اور بھی عیاں ہوگئے۔ محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہیں تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہ تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخوار نظر آرہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبان کے ذریعے ہی سہی ہمدردی رکھتی تھی اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت ہوتی تھی چاہے وہ شہری ہلاکت ہی ہو ضرور ان کے اہل خانہ کو تعزیت کرنے جاتی تھی، سوگواران کو نہ صرف زبانی تعزیت کرتی تھی بلکہ اپنے آنسو بھی وہاں ضرور بہاتی تھی اس طرح سے محبوبہ مفتی نے خاص کر وادی میں ایک طرح کی کشمیری عوام کی ہمدردی رکھنے والی لیڈر کی لائسنس حاصل کررکھی تھی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئی تو وہ اپنے تمام وعدے بھول گئیں جو وہ پہلے کشمیری عوام سے کی تھیں۔ اور وہ کسی بھی طرح سے عوام کی وہ لیڈر نظر نہیں آرہی تھی جو اقتدار سے پہلے تھی، یہاں محبوبہ مفتی کی ہی بات نہیں بلکہ یہاں تقریباً سبھی لیڈر جو آج تک اس اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئے یا وزیراعلیٰ کے عہدے پر رکھے گئے۔ تقریب سبھی لیڈروں نے عوام کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کثر نہیں چھورکھی۔ غریب عوام ہمیشہ لاچار اور مجبور ہوتا ہے ان کو سبزباغ دکھانا بھی آسان ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ عوام کو بعد میں اپنے کئے پر پچھتانے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے، اس میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ یہی عوام جو ایک ادنیٰ سا انسان کو بھی بڑے سے بڑا لیڈر تک پہنچاتا ہے ، پہلے محبوبہ مفتی بھی عوام میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے یہاں جان بحق ہوئے نوجوانوں کی گھر جا کر آنسو بہاتی تھی اور اب جبکہ وزیراعلیٰ کا منصب حاصل کیا تو پہلے جیسا معاملہ اُن میں بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ اب ان بے گناہوں کی غمخوار نہ رہی جو آئے روز کسی نہ کسی طرح عذاب و عتاب کے شکار ہورہے ہیں۔ آج یہ وہ محبوبہ مفتی نہ رہی جو وہ اقتدار سے پہلے تھی، آج یہ وہ لیڈر نہ رہی جو جان بحق نوجوانوں پرواویلا کرتی تھیں۔ آج ان کی بھولی الگ سی لگتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی وزیراعلیٰ آئے اور وہ بھی عوام کو سبز باغ دکھاکر چکے ہیں لیکن عملی میدان میں اُن کے وعدے بھی بعد میں سراب ثابت ہوئے۔ آج محبوبہ مفتی ریاست کی وزیراعلیٰ کی Designation تو رکھتی ہے مگر عملی طور ایسا لگتا ہےکہ جیسا کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر ہے ہی نہیں۔ سوچنے کی بات ہے 8 جولائی کے بعد اب تک کشمیر میں درجنوں شہری ہلاکتیں پیش آئیں آج پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ان جان بحق ہوئے شہریوں کے گھر جا کر آنسو بھی نہیں بہاتی۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ عوام کے غمخوار سبھی لیڈر نہیں ہوتے، ان لیڈروں میں محبوبہ مفتی بھی ایک لیڈر گنی جائے گی۔ ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے آنسو بہانے کاپینترا تو محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ بنا چکا ہے اب ان کا اگلا پینترا کیا ہوگا؟ دیکھنا باقی ۔