اداریہ

ایسے واقعات رونماہوتے رہیں گے

محمد افضل گورو کی برسی کے موقعے پران کی پھانسی کے خلاف نئی دلی میں9فروری کو جواہر لعل یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاجی پروگرام نے راجدھانی میں ہلچل مچادی ہے۔ وہاں یونیورسٹی میں نعرے بازی کر نے والے طلباء اگر چہ پہلے ہی اس بات سے با خبر ہیں کہ اُنہیں یونیورسٹی میں احتجاج کرنے پر بعد میں لینے کے دینے پڑ جائیں گے لیکن تب بھی ان طلباء نے یونیورسٹی کے احاطے میں احتجاج کرنے سے گریز نہیں کیا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا سدباب نہیں کیا جاتا تب تک ملک میں ایسے واقعات رونماہوتے رہیں گے۔ کشمیر ہو یا دہلی طلباء ایسے واقعات رونما ہونے سے شاید پرہیز نہیں کرتے ، اس سے پہلے بھی اگر چہ کئی بار ایسا ہوا اور ان طلباء کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا بھی پڑا تاہم تب بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اب جبکہ دہلی میں رونما ہوئے اس واقعے کے خلاف اگر چہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قوم مخالف سرگرمیاں برداشت نہیں کی جائیں گی اورمذکورہ تقریب کے دوران ملک مخالف نعرے بازی کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ ایسے واقعات مستقبل میں بھی پیش آنے والے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ایک ناسور بن گیا ہے جو دونوں ممالک یعنی ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو چین سے رہنے نہیں دے گا۔ اب اگر ان طلباء کے خلاف حکومت ہند سخت سے سخت کارروائی بھی عمل میں لائے گی، تاتب بھی اس طرح کی سرگرمیاں مستقبل میں ہوتے رہیں گے کیونکہ اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہے کہ آج جولوگ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اندربھارت مخالف سرگرمیوں انجام دے رہے ہیں وہ کل دوسرے شہروں خاص کر ریاست جموں وکشمیر میں ایسے سرگرمیاں انجام دینے میں کیا قباحت محسوس کریں گے۔ اب اگر چہ ایسے لوگوں کیلئے کتنا بھی سنگین سے سنگین سزا دینے کا اعلان کیا جائے یا ان لوگوں پر ایسے سنگین سزا عائد کئے جائیں لیکن حقیقت یہ ہے جب تک مسئلہ کشمیر زندہ ہے تب تک ایسے واقعات رونما ہونے کے توقعات ہیں۔