نقطہ نظر

ایمرجنسی کو مت بھولیے

ایمرجنسی کو مت بھولیے

کلدیپ نائر
بھارت کو اپنی تاریخ کے بعض دن کبھی فراموش نہیں کرنے چاہئیں۔ ان میں سے ایک 26 جون ہے جب 38سال پہلے رات گئے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ شخصی آزادی کی روشنیاں گْل کر دی گئیں اور قوم کو آمریت کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔آئین معطل کر دیا گیا۔ پریس پر پابندی لگا دی گئی اور آزادی سلب کر لی گئی۔ حکومت تنقید کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے، نقصان پہنچانے، گرفتار کرنے اور ان کی زبان بندی کے لیے ایک غیر قانونی اتھارٹی بن گئی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو انتخابی دھاندلی پر پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کی اسمبلی کی نشست منسوخ کر دی گئی تھی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف وہ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتی تھیں مگر انھوں نے پورے نظام کی بساط ہی لپیٹ دی اور ملک میں اپنا ذاتی اقتدار مسلط کر دیا۔
ایک جمہوری ملک کا آمریت سے ہم آغوش ہو جانا آزاد دنیا کے لیے ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔ بھارت میں عوام کے لیے یہ ناقابل یقین تھا۔ جنہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک آئینی جمہوریت کا لطف اٹھایا تھا۔ مسز گاندھی کے ایک قریبی ساتھی کا یہ تبصرہ بہت معنی خیز ہے:۔
’’میں اپنے دشمنوں سے تو نمٹ سکتا ہوں مگر اپنے دوستوں کو کیا کہوں؟‘‘ مسز گاندھی کے پاس کوئی وضاحت نہیں تھی سوائے اس کے کہ اپنے بیٹے سنجے گاندھی کے ذریعے اور زیادہ بے رحمی سے حکومت کرے۔ سنجے ایک ماورائے آئین اتھارٹی بن چکا تھا۔ ایمرجنسی تقریباً دو سال تک جاری رہی۔ خوش قسمتی سے انتخابات نے ماں بیٹے کا شکنجہ توڑ دیا اور جمہوریت دوبارہ بحال ہو گئی۔
جو ظلم و ستم ان دونوں نے روا رکھا، وہ انتہائی شرمناک تھا۔ جو سب سے بڑا جرم انھوں نے کیا وہ ہزاروں افراد کو زبردستی ان کے گھروں سے نکال کر کئی میل دور ویرانے میں پھینک دینا تھا۔ ان کی یہ حرکت بعد میں بعض انتہا پسند تنظیموں کے لیے ایک مثال بن گئی جن میں شیوسینا بھی شامل تھی جس نے چند سال بعد بنگلہ دیشیوں کو زبردستی بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف دھکیل دیا۔ درحقیقت مسز گاندھی نے اور بھی کئی افسوسناک مثالیں قائم کیں جیسے سول سروس کو طابع مہمل بنا دیا اور پولیس کو حکمرانوں کے اشار ابرو پر خدمات انجام دینے والا محکمہ بنا دیا۔ آج بھی بہت سے وزرائے اعلیٰ، ضروری نہیں کہ ان کا تعلق کانگریس سے ہی ہو، وہ بھی سول سرونٹس اور پولیس کو اپنے مخالفین کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ مسز گاندھی کرتی رہی ہیں۔
ایمرجنسی نے یہ بھی دیکھا کہ طاقتور عدلیہ کس طرح موم کی ناک بن چکی تھی۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں میں سے چار نے جن میں کہ نام نہاد آزاد خیال پی این بھاگوتی بھی شامل تھے، ایمرجنسی کے نفاذ کو جائز قرار دے دیا۔ صرف ایک جج جنہوں نے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کیا وہ جسٹس ایچ آر کھنہ تھے۔ جب مسز گاندھی نے چیف جسٹس آف انڈیا کا تقرر کیا تو کھنہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے جونیئر جج کو نامزد کر دیا گیا۔ اگر عدلیہ اب بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمرجنسی کے تاریک دنوں میں اس کے ساتھ جو بدسلوکی ہوئی وہ اس کے مضر اثرات سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکی۔
مسز گاندھی کے والد جواہر لعل نہرو مکمل طورپر مختلف تھے۔ آزادی کے بعد ان کو امید تھی کہ ان کا ملک ایک جمہوریہ بنے گا اور وہ جمہوریت کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھتے بھی رہے۔ عدلیہ کی ہی مثال لیجیے۔ ایک دفعہ انھوں نے سوچا کہ جسٹس مہر چند مہاجن پر کسی اور کو ترجیح دیدی جائے لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ سپریم کورٹ کا پورا بنچ ہی مستعفی ہونے پر تیار ہو گیا ہے تو انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا اور جسٹس مہاجن کو بھارت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔ سب سے زیادہ قابل ملامت چیز جبری خاندانی منصوبہ بندی تھی۔ سنجے گاندھی کے کہنے پر مسز گاندھی نے زبردستی نس بندی کرانی شروع کر دی۔ بچوں کی تعداد کم رکھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں تھی لیکن اس کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے وہ سٹالن یا ماوزے تنگ سے مختلف نہ تھے۔ ایمرجنسی کے دوران جہاں 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی نس بندی کی گئی وہاں ایسے لڑکوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوئے تھے۔ ایک پولیس والا آپ کی خوابگاہ میں داخل ہو سکتا تھا تا کہ دیکھے کہ خاندانی منصوبہ بندی کی ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
بغیر مقدمہ چلائے گرفتاریاں نو آبادیاتی دور کی یاد گار تھیں۔ مسز گاندھی نے 100,000 سے زیادہ افراد کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کر لیا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ وزارت داخلہ بھی وہی طریقے استعمال کر رہی ہے۔ وزارت دہشتگردی کے انسداد کے نام پر جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کے قانون کے تحت لوگوں کو کسی عدالت میں مقدمہ چلائے کے بغیر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملات کی حکومت کی مقرر کردہ مشاورتی کمیٹی سے منظوری لینا ہوتی ہے جس کے بعد مقدمہ جیل میں بھی چلایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ونائک سین، جو کہ مشہور ایکٹوسٹ ہیں، اس قانون کے تحت گرفتار کیے جانے والے پہلے شخص تھے۔ جھارکھنڈ میں بی جے پی کی حکومت نے ماؤ نوازوں کے ساتھ روابط کے الزام میں انھیں غدار قرار دے دیا۔
مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے حکمران آخر مسز گاندھی کی تقلید پر کیوں مْصر رہتے ہیں جس نے کہ جمہوریت کو ہی پٹڑی سے اتار دیا تھا۔ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادتیاں کرنے والے کسی شخص کو چونکہ سزا نہیں دی گئی تھی اس لیے دوسروں کو عبرت حاصل نہیں ہوئی۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جن کو قصور وار پایا گیا، ان میں سے بعض آج بھی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت میں بااختیار مناصب پر فائز ہیں۔
مسز گاندھی کے بعد آنے والی جنتا پارٹی کی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث مسز گاندھی کی حکومت دو سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ واپس آ گئی۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے انھوں نے نہ صرف بہت سے ایسے مقدمات کو طاق نسیاں پر رکھ دیا جن میں سزا کا فیصلہ سنایا جا چکا تھا بلکہ انھی داغدار افسروں کو دوبارہ تعینات کر دیا جو ایمرجنسی میں مسز گاندھی کے غیر قانونی احکامات پر عملدرآمد کراتے تھے۔ وہ اب بھی ایمرجنسی والا طرز عمل اختیار کیے ہوئے تھے۔ حالانکہ اب ایمرجنسی نافذ نہیں تھی۔
جمہوریت کو پہنچنے والا دھچکا کم و بیش فراموش کیا جا چکا تھا۔ نوجوان نسل کو معلوم نہیں کہ ملک کن بْرے حالات سے دوچار ہوا تھا۔ بڑی عمر کے لوگ جب اس دور کو یاد کرتے ہیں تو ان پر ترس آتا ہے۔ یہ ایک ڈراونا خواب تھا جس کو بھلا دینا ہی بہتر تھا۔ لیکن آج جب سیکیورٹی اور امن کے نام پر ویسے ہی اقدامات کیے جاتے ہیں جیسے ایمرجنسی کے دوران کیے گئے تھے تو اب اور تب میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔
ان تمام خرابیوں کا حل صرف احتساب میں ہے جس کے بغیر اقتدار پر فائز کوئی بھی شخص اپنے اختیارات کے غلط استعمال سے باز نہیں آ سکتا۔ لوک پال بل، جو کہ پارلیمنٹ میں زیر سماعت ہے، اس اعتبار سے ضروری ہے تا کہ ذمے داروں کا تعین کر کے انھیں سزا دی جا سکے۔ حکومت کا رویہ غیر مصالحانہ ہے۔ اگر لوک پال (محتسب)وزیراعظم یا عدلیہ کے خلاف الزامات کا جائزہ نہیں لے سکتا یا کرپشن میں ملوث اراکین پارلیمنٹ کا محاسبہ نہیں کر سکتا تو پھر اس قسم کے ادارے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) پر حکومت کا کنٹرول اس ایجنسی کے کسی بھی عمل کو بے معنی بنا دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے آنے والے دن اور زیادہ مشکل ہوں گے۔ مگر شکر ہے کہ اب دوبارہ ایمرجنسی نہیں لگائی جا سکے گی کیونکہ اس کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت کی منظوری لازمی ہے اور اتنی ہی تعداد میں ریاستی اسمبلیوں کی حمایت بھی حاصل کرنا ہو گی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)