سرورق مضمون

این اسی اور کانگریس کے راستے الگ الگ/ حکومتی اتحاد،انتخابی علاحدگی معنی خیز

این اسی اور کانگریس کے راستے الگ الگ/ حکومتی اتحاد،انتخابی علاحدگی معنی خیز

ڈیسک رپورٹ
دہلی کانگریس میں کشمیری امور کی انچارج امبیکا سونی نے پچھلے دنوں اعلان کیا کہ جموں و کشمیر میں این سی اور کانگریس کے درمیان کوئی انتخابی سمجھوتہ نہ ہوسکا ۔ اس لئے دونوں جماعتیں آنے والے اسمبلی انتخابات میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہونگی ۔ امبیکا سونی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت ریاست میں تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی ۔ اس سے پہلے کئی ہفتوں تک دونوں جماعتوں کے سربراہوں کے درمیان بات چیت جاری رہی ۔ لیکن یہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی اور دونوں جماعتوں کے درمیان پری پول سمجھوتہ نہ ہوسکا۔ اس طرح سے وہ تعطل ختم ہوگیا جو دونوں جماعتوں میں انتخابی عمل کے حوالے سے پایا جاتا تھا۔دہلی سے اعلان ہونے سے پہلے این سی نے انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی ایک لسٹ شایع کی تھی۔امیدواروں کی اس لسٹ میں اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ کانگریس کے موجودہ اسمبلی ممبران کے مقابل کسی این سی امیدوار کا نام ظاہر نہ کیا جائے اور ایسے حلقوں کو خالی چھوڑ دیا گیا ۔ اب این سی نے جو دوسری فہرست منظر عام پر لائی ہے اس میں کئی کانگریسی حلقوں کے لئے امیدواروں کے نام ظاہر کئے گئے ہیں۔ ان میں قابل ذکر حلقہ اوڑی کا ہے ۔ اوڑی سے اس وقت کانگریس کے سینئر رہنما تاج محی الدین اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ موجودہ کابینہ میں ایک اہم وزیر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ این سی نے ان کے مقابل اپنا سینئر رہنما اور راجیہ سبھا ممبر محمد شفیع اوڑی کو میدان میں اتارا ہے۔ اس طرح سے این سی اور کانگریس کے درمیان پایا جانے والا چھ سالہ اتحاد ختم ہوگیا اور اب دونوں ایک دوسرے کے مقابل انتخابات لڑ رہے ہیں ۔
این سی کانگریس کے درمیان انتخابی اتحاد کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم اور معنی خیز قرار دی جارہی ہے کہ دونوں جماعتوں کی راہیں الگ الگ ہونے کے باوجود ان کے درمیان سرکار چلانے میں مفاہمت قائم رکھی گئی ہے ۔ دونوں جماعتوں نے حکومت کو مقرر معیاد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں۔ لیکن حکومت مل کر اکٹھے چلارہی ہیں۔ اس نے تمام سیاسی حلقوں کو حیران کردیاہے کہ حکومت کے مزے دونوں جماعتیں اکٹھے لوٹ رہی ہیں۔ لیکن انتخابات الگ الگ اور ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ دونوں جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسمبلی کی تمام نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرہی ہیں۔ البتہ کانگریس نے اس درمیان این سی سے باہر کچھ ہم خیال اسمبلی ممبران سے اتحاد بنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ ایسے ممبران میں حکیم یاسین ، یوسف تاریگامی اور غلام حسن میر کا نام لیا جاتا ہے۔ اس میں پارٹی کامیاب ہوجائے تو انتخابی عمل بہت ہی پرکشش بن جانے کا امکان ہے ۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ کانگریس اور پی ڈی پی کے درمیان پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ آئندہ حکومت بنانے میں دونوں جماعتوں کے درمیان کس طرح کا لائحہ عمل بن سکتا ہے۔ دونوں پارٹیاں اس سے پہلے مخلوط سرکار قائم کرچکی ہیں ۔ لیکن 2008 میں امرناتھ اراضی تنازع پر پی ڈی پی نے اپنی حمایت واپس لے کر سرکار برخاست کرادی۔ اس وجہ سے کانگریس نے پی ڈی پی کے بجائے این سی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ اتحاد عوامی حلقوں میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ کرسکا ۔ اس وجہ سے حالیہ پارلیمانی انتخاب کے دوران مخلوط سرکار کے تمام امیدوار الیکشن بری طرح سے ہار گئے۔ ادھر مرکز میں بھی بڑی تبدیلی آگئی جہاں بی جے پی نے کانگریس کو کراری شکست دے کر حکومت بنائی ۔ ان تبدیلیوں کے بعد اب کشمیر میں بھی ایک نیا سیاسی منظر نامہ بن رہاہے ۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی ایک بڑی جماعت کے طور ابھر آئے گی ۔ اندازہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کو ایک بار پھر سخت ہار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جموں سے اطلاع ہے کہ وہ اس بار اصل مقابلہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ہوگا۔ این سی اور کانگریس کے بہت پیچھے رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے۔ اس وجہ سے سب ہی لوگوں کی نظریں پی ڈی پی پر لگی ہوئی ہیں۔ اس جماعت نے الیکشن کے بعد کانگریس کے ساتھ اتحاد کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ ان تمام باتوں کو دیکھ کر لگ رہاہے کہ اسمبلی انتخابات بڑے دلچسپ ہونگے اور نتائج حیران کن ہونگے ۔