سرورق مضمون

این سی منڈیٹ منظر عام پر/ باپ بیٹے کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی

این سی منڈیٹ منظر عام پر/  باپ بیٹے کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی

ڈیسک رپورٹ
حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے نامزد امیدواروں کی پہلی فہرست شایع کردی ہے ۔ پہلے مرحلے پر ریاست کے بتیس حلقوں کے لئے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ۔ ان میں سے بیشتر موجودہ اسمبلی ممبران یا پچھلے انتخاب میں کھڑا کئے گئے اشخاص شامل ہیں۔ خاص ناموں میں پارٹی کے سینئر ارکان اسمبلی پائے جاتے ہیں۔ ایسے امیدواروں میں چرار شریف کے لئے عبدالرحیم راتھر ، خانیار کے لئے علی محمد ساگر ، کنگن کے لئے میاں الطاف اور عید گاہ کے لئے مبارک گل شامل ہیں۔ اسی طرح بٹہ مالو حلقے کے لئے عرفان شاہ کو میدان میں اتارا گیا ہے ۔ ترال کے لئے محمد اشرف بٹ کو منڈیٹ سے نوازا گیا ہے ۔ محمد اکبر لون کو سونا واری حلقے سے جبکہ مس سکینہ ایتو کو نورآباد کے لئے پھر سے منڈیٹ دیا گیا ہے ۔
این سی کے لئے ان منڈیٹوں کا اعلان حال ہی میں مقرر کئے گئے پارٹی جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کیا ۔ کہا گیا کہ اس سے پہلے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جہاں کئی امور پر بحث کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی ممبران حلقے بدلنے اور کئی لوگوں کو منڈیٹ دینے کے حق میں نہیں تھے ۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی کئی ناموں سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ اب کی بار نئے اور خاص طور سے نوجوان چہروں کو متعارف کیا جائے۔ لیکن کئی سینئر لیڈروں کے علاوہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ان کی اس تجویز سے متفق نہ تھے اور انہوں نے پرانے اشخاص کو میدان میں اتارنے پر زور دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے لئے جن لوگوں نے قربانیاں دیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حال ہی میں پارلیمنٹ انتخابات میں ہوئے تجربے کے پیش نظر عمر عبداللہ کئی اہم تبدیلیوں کے حق میں تھے ۔ خاص کر ایسے حلقوں سے جہاں سے نیشنل کانفرنس کو بہت کم ووٹ ملے آپ نئے لوگوں کو میدان میں اتارنے کے حق میں تھے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آپ سرینگر اور بارہمولہ کی کئی نشستوں کے لئے منڈیٹ بدلنا چاہتے تھے ۔ لیکن پارلیمانی کمیٹی نے ان کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔ اس وجہ سے پرانے ہی لوگوں پر اتفاق کرنا پڑا ۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ پارٹی اب بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد کے معاملے میں شش و پنج کی شکار ہے ۔ پارٹی کے کئی خیر خواہ چاہتے ہیں کہ این سی اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑے اور بعد میں نتائج دیکھ کر کانگریس کے ساتھ اتحاد کا سوچا جائے ۔ لیکن کانگریس کے دہلی دربار میں اس کے برعکس سوچ پائی جاتی ہے ۔ اس معاملے پر بھی وزیراعلیٰ اور ڈاکٹر فاروق کی سوچ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فا روق کسی بھی صورت میں کانگریس سے الگ ہوکر اور تنہا الیکشن لڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں مل سکتی ہے۔ اس لئے کانگریس کو پہلے ہی الگ کرکے پی ڈی پی کے لئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کا موقع مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق نہیں چاہتے ہیں کہ ریاست میں پی ڈی پی کانگریس کی اتحادی حکومت قائم ہوجائے۔ ادھر کانگریس کا ایک بڑا حلقہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے این سی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ اس حلقے میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں این سی کے خلاف سخت لہر پائی جاتی ہے جس کا خمیازہ کانگریس کو بھی اٹھانا پڑے گا ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ واضح طور پی ڈی پی کے حق میں ہے ۔ لہٰذا اتحاد این سی کے بجائے پی ڈی پی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ پی ڈی پی واضح کرچکی ہے کہ پارٹی انتخابات کے بعد ہی اتحاد کے بارے میں سوچ سکتی ہے اور انتخاب سے پہلے ہر گز اتحاد بنانے کے حق میں نہیں ہے ۔ اس دوران ایک بڑا اور اہم واقع یہ پیش آیا کہ کچھ دنوں پہلے کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے از خود جاکر پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید سے بات چیت کی اور انہیں باہم اتحاد کی دعوت دی ۔ لیکن انہیں مفتی کی طرف سے کورا جواب دیا گیا اور آپ منہ لٹکائے وہاں سے نکل گئے ۔ یاد رہے کہ پچھلے اسمبلی انتخابات کے بعد آزاد نے ہی این سی کے ساتھ مفاہمت کرکے چھ سال کے لئے عمرعبداللہ کو وزیراعلیٰ بنائے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ کانگریس کے مقامی رہنما خاص کر پردیش کانگریس کے صدر سیف الدین سوز اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ آزاد پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کے حق میں ہیں اور سوز اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مرکزی کانگریس سے اطلاع ہے کہ انہوں نے بال این سی کے کورٹ میں پھینکی ہے اور اسی پارٹی کو فیصلہ لینے کے لئے کہا ہے ۔ این سی کے ہاں یا ناں سے ہی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ لیکن این سی کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہورہاہے ۔ وادی کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ۔ حالات این سی کے بالکل خلاف جارہے ہیں۔ مقامی سطح پر این سی کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے ۔ خاص کر سرینگر میں این سی کے ایک بھی سیٹ جیتنے کے امکانات نظر انہیں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عمرعبداللہ اور نہ ڈاکٹر فاروق فیصلہ کرپاتے ہیں کہ وہ کہاں سے الیکشن لڑیں ۔ عمرعبداللہ اس وقت گاندربل کی نمائندگی کررہے ہیں۔ لیکن حالیہ پارلیمانی انتخاب میں وہاں این سی کو سخت دھچکا لگا تھا اور یہاں سے پی ڈی پی نے کافی ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس وجہ سے یہاں پر این سی کی شکست کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح سونہ وار سے بھی ڈاکٹر فاروق کے حق میں حالات سازگار نہیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق گاندبل سے جبکہ عمرعبداللہ سونہ وار سے قسمت آزمائی کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ابھی تک دونوں فیصلہ لینے سے قاصر ہیں اور اپنے لئے حلقہ انتخاب چننے میں سخت ابہام کا شکار ہیں ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جلد ہی فیصلہ لیا جائے گا ۔ لیکن حالات سے لگ رہاہے کہ باپ بیٹے کے لئے سخت آزمائش کی گھڑی ہے اور فیصلہ لینا ناممکن بن گیا ہے ۔ تاہم کچھ دنوں میں اس حوالے سے فیصلہ لینے کا اشارہ دیا جارہاہے ۔