سرورق مضمون

این سی کانگریس تنازع پھر عروج پر

این سی کانگریس تنازع پھر عروج پر
ڈیسک رپورٹ
ریاست کی مخلوط سرکار میں شامل دو اہم جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ ایک بار پھر عروج کو پہنچ گئی ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان لگتا ہے صلاح ہونا مشکل ہے ۔ اس بار یہ لڑائی نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور وزیراعلیٰ کے چچا مصطفےٰ کمال کے ایک تیز بیان پر شروع ہوئی ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ کمال نے ان کے ریاستی صدر کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کی ہے جس پر اسے معافی مانگنی چاہئے۔ کمال نے کانگریس کے اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے معافی مانگنے سے انکار کیا ۔ اس پر حکومت میں شامل وزرا نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے ۔ ان وزرا نے دھمکی دی ہے کہ کمال کے خلاف پارٹی کی طرف سے کاروائی نہ کرنے کی صورت میں کانگریسی وزرا کسی بھی کابینہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس وجہ سے ظاہر ہے کہ حکومت کے لئے کسی بھی معاملہ میں فیصلہ لینا مشکل ہے اور حکومت کا بحال رہنا ناممکن بن جائے گا ۔ کانگریس اس طرح کا واقعی کوئی فیصلہ لے گی تو یہاں کی سیاست ایک نئی ٹرن لے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے سیاسی حلقوں کی نظریں دونوں جماعتوں کے آئندہ لائحہ عمل پر لگی ہوئی ہیں ۔
این سی اور کانگریس کے درمیان کافی عرصے سے حالات سازگار نہیں ہیں۔ دونوں جماعتوں کے وزرا کافی عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں ۔ خاص کر جب سے کانگریس کے کئی وزرا کے خلاف کورپشن اور اقربا نوازی کے الزامات لگائے گئے ، این سی کے کئی لیڈر ان وزیروں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ مصطفےٰ کمال چونکہ متنازع بیانات میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ تازہ جنگ بھی ان ہی کے ایک بیان پر شروع ہوئی ہے ۔ کمال نے کانگریس کے ریاستی صدر سیف الدین سوز پر الزام لگا یا کہ وہ ایک ضمیر فروش انسان ہے۔ اسی طرح کے کئی الزمات لگاتے ہوئے اس نے سوز اور دوسرے کانگریسی لیڈروں پر سخت تنقید کی ۔ کمال کے ان بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کمال کو اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ۔ کمال نے کانگریس کے اس مطالبہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان کو پھر سے دوہرایا اور واپس کانگریس پر الزام لگایا کہ اس کے لیڈروں نے کئی بار این سی کے بانی رہنما شیخ محمد عبداللہ ، سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ اور ان کے خاندان پر شدید تنقید کی۔ اسی طرح کمال کا کہنا ہے کہ کانگریس نے کچھ عرصہ پہلے خود اس کو پاگل قرار دیا اور اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دینے کی بات کہی ، لہٰذا آج کانگریسیوں کو اس کے بیان پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کے بعد کمال نے معافی مانگنے اور اپنے بیان کو واپس لینے سے انکار کیا ۔ اس وجہ سے کانگریسی وزرا نے ایک بار پھر سخت ناراضگی ظاہر کی اور دھمکی دی کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں وہ کابینہ اجلاسوں کا بائیکاٹ کریں گے۔ کمال کا مزید کہنا ہے کہ این سی آئندہ کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملانے کی غلطی نہیں کرے گی۔ ان کے اس بیان کو لوگ کئی طرح کا معنی پہناتے ہیں اور اسے آئندہ انتخابات کے حوالے سے ایک اہم بیان مانتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس بیان کو جان بوجھ کر اور کافی غور و خوض کے بعد دیا گیا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہونا مشکل ہے ۔کمال نے سوز کو پی ڈی پی کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس کو ان کا غلام ٹھہرایا ہے۔ اس بیان سے کئی لوگ اند ازہ لگاتے ہیں کہ کانگریس اور پی ڈی پی کے درمیان اندر ہی اندر کچھ ساز باز ہورہی ہے جس پر پریشان ہوکر کمال نے یہ بیان دیاہے ۔ایک بات واضح ہے کہ ریاست میں کانگریس کا کسی دوسری جماعت سے اتحاد یا علاحدگی کا فیصلہ ریاستی کانگریس نہیں بلکہ دہلی سرکار کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ کانگریسی لیڈروں کی دھمکیاں گیدڑ بھبکیوں سے کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ مرکز میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ایک مضبوط لابی ہے جو کسی بھی صورت میں این سی کو اقتدار سے الگ کرنے کے حق میں نہیں۔ ایک طرف صحت کے وزیر غلام نبی آزاد کی آشرواد موجود ہے جو پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے سخت خلاف ہے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ راہول گاندھی کا دست راس ستیش پائیلاٹ عمر کا قریبی رشتہ دار اور اس کا سخت حمایتی ہے ۔ اس کا پاس لحاظ کرتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ دہلی میں موجود کانگریس قیادت عمر عبداللہ کو اقتدار سے بے دخل کرے گی۔ ایسی صورتحال کے اندر شیخ خاندان کا کوئی فرد کانگریس یا کسی اور کے خلاف جس قسم کا بھی بیان دے اس کو اقتدار سے اس پر کوئی نہیں ہٹائے گا۔ اس سے پہلے عمرعبداللہ راہول گاندھی کی موجودگی میں کہہ چکے ہیں کہ دونوں کے درمیان ایک مضبوط اتحاد بننے والا ہے اور آئندہ انتخابات این سی اور کانگریس اکٹھے لڑیں گی ۔ اب جو تازہ صورتحال بن رہی ہے اس کو دیکھ کر سیاسی مبصرین یہ اندازہ لگانے میں ناکام ہیں کہ ریاست کا آئندہ کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا۔