نقطہ نظر

ایک بے مصرف سال کے بعد اُمید

ایک بے مصرف سال کے بعد اُمید

کلدیپ نائر
2013ء ایک بے مصرف اور مایوس کن سال رہا ہے۔ قیمتیں اور پر چڑھ گئیں، بے روزگاری فروع پذیر ہوئی، اخلاقی معیار اور زیادہ تنزل آیا، کرپشن کو معمول کے طور پر قبول کر لیا گیا، پارلیمنٹ اور ریاستی قانون سازوں نے بمشکل ہی کوئی کار کردگی دکھائی۔ پھر دسمبر کے سرد مہینے میں گرمجوشی کی رمق محسوس ہوئی۔46 سال پرانا لوک پال ( محتسب) مسودہ قانون، مکمل قانون بن گیا۔ میری تمنا تھی کہ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن( سی بی آئی) کو آزاد اور خود مختار ادارہ بنا دیا جائے جو براہ راست پارلیمنٹ کے ماتحت ہو۔ لیکن چونکہ یہ بل ، جو اب ایکٹ بن چکا ہے، خود پارلیمنٹ کی ہی ایک کمیٹی نے تیار کیا ہے اور اس کے لئے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت بھی کی گئی ہے، لہٰذا اب ایک لوک پال کا تقرر کر ہی دیا جانا چاہیے۔ اس پیش رفت کا سہرا گاندھی کے پیروکار انا ہزارے کے سر بندھنا چاہیے جس نے اس تحریک کا آغاز کیا تھا۔ تاہم ان کے عجلت میں کئے گئے فیصلے اور عام آدمی پارٹی( اے اے پی) کے بارے میں ان کے تلخ الفاظ، افکار تازہ کی ترویج میں کوئی مدد نہیں کرتے۔ یہ پارٹی دراصل اس رضا کارانہ کام کی ایک توسیع ہے جو متحرک کارکنوں نے گراس روٹ کی سطح پر کیا ہے۔ یہ سیدھے سادے لوگ ہیں جو سیاست کی چالبازیاں نہیں جانتے۔ اور یہی ان کی طاقت ہے کہ انہوں نے نکسل باڑیوں کے برعکس اپنا اعتماد ’’ بیلٹ بکس‘‘ میں رکھا اور دہلی میں ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کی جو کہ ان کے اس ادارک کی دلالت کرتا ہے کہ وہ جمہوریت کے تقاضوں کو ہی پورا کر رہے ہیں۔ لوگوں کو کون بتائے گا کہ وہ آمریت کو یاجبر کے نظام کو مسترد کر دیں لیکن یہاں یہ سوال ہے کہ اے اے پی عامتہ الناس کی شمولیت کی یقین دہانی کراسکتی ہے جبکہ حکمران اشرافیہ جس طرح دیگر انقلابات کی قسمت کا فیصلہ کر رہی ہے جو لاکھوں کروڑوں بغاوتوں اور مخالفتوں کے نتیجے میں ابھر کر سامنے آئے خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی بغاوتیں کیوں نہ رہی ہوں جو کہ اس وقت ہمارے ملک میں برپا ہیں۔ حقیقت ہے کہ مدھا پٹکار، ارونارائے، نکمل ڈے جیسے چوٹی کے فعال کارکنوں کو اس پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جانا چاہیے جو اے اے پی نے فراہم کر دیا ہے۔ انہیں اپنا یہ آئیڈیل کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے جو انہوں نے عام لوگوں کی تحریکوں کو مستحکم بنانے کیلئے اپنایا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ لیکن آخر وہ خود کیوں حکومتیں تشکیل دینے کا نہیں سوچتے؟
اگر مدھا گجرات حکومت کی سربراہ ہوتی تو اس نے نربداڈیم کی بلندی کے بارے میں ایسا فیصلہ کر دیا ہو تا جس سے لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جاسکتا تھا۔ جس ڈیم کی اس نے مخالفت کی تھی اس کی جگہ ہو چھوٹے چھوٹے کٹی ڈیم بنوا سکتی تھی جس سے پانی راجکوٹ میں دوردراز کی زمینوں کو بھی سیراب کرتا اور لاکھوں لوگوں کی املاک بھی غرق نہ ہوئیں۔ کیونکہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ہر اس شخص کو جس کی اراضی ڈیم کے پانی میں ڈوب گئی اس کے متبادل اس کو دوسری جگہ زمین الاٹ کی جا سکے گی۔ ارونا رائے کو احساس ہونا چاہیے کہ معلومات تک رسائی کا حق جس کے لئے وہ لوگوں کو متحرک کر رہی تھیں، کبھی حاصل نہ ہو سکتا تھا اگر پارلیمنٹ اس کے بارے میں قانون نہ تیار کرتی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی نیشنل ایڈوائزری کونسل کے ساتھ اس کے مختصر سے مناقشے کے نتیجے میں اراضی کے حصول اور خوراک کی سیکورٹی کے مطالبات حقیقی قوانین میں تبدیل ہو سکتے تھے کیونکہ سونیا گاندھی حکمران جماعت کے حق حاکمیت کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ عوامی تحریکیں اپنے طور پر ختم نہیں کی جاسکتیں۔دسمبر کا ایک اور نمایاں واقعہ راہول گاندھی کا کانگریس کے لیڈر کے طور پر منظر عام پر آنا تھا۔ سونیا گاندھی پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اب راہول تقریریں شروع کر دی ہیں اور مختلف موقف پیش کر رہا ہے جس کے نتیجے میں دانشور حلقے اس کی اہلیت کے بارے میں از سرنو غور کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں حالانکہ اس کو وہ پہلے ہی قلمزد کر چکے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے وزارت عظمی کیلئے نامزد امیدوار نریندر مودی کے جواب میں راہول نے بولنا شروع کیا ہے۔ جبکہ مودی کی انتخابی تقریروں کا زور کچھ ٹوٹ رہا ہے کیونکہ موصوف نے قدرے قبل از وقت ہی اپنے خطابات کی جو لانیاں دکھانا شروع کر دی تھیں چنانچہ اب اس کے جلسوں کی رونق میں نمایاں کمی آرہی ہے۔ یہاں میں مودی کے سیاست پر اثرات کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے سیاسی جماعتوں اور عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ خالص ہندی میں تقریر کرتا ہے اور شمالی ہند میں اس کی بات بخوبی سمجھی جاتی ہے۔ راجستھان میں ریاستی انتخابات میں کانگریس کی تباہ کن شکست بنیادی طور پر مودی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اس نے مدھیہ پردیس کی اسمبلی میں بھی اپنی نشستیں بڑھالی ہیں۔ اس کے باوجود مغربی بنگال، اڑیسہ، کیرالا اور دیگر شمالی ریاستوں اور بڑی حد تک آندھیرا پردیش، تامل ناڈو اور کرناٹک میں اس کا جادو نہیں چل سکا، علاوہ ازیں مودی نے بھارتی قومیت کی بجائے ہندو قومیت کا نعرہ لگایا ہے جس نے اقلیتوں کو اس سے دور کر دیا ہے اور ان اقلیتوں میں مسلمان سب سے نمایاں ہیں۔ جو پارلیمنٹ کی مجموعی545 نشستوں میں سے کم از کم 200 نشستوں پر بھر پور انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اگلی لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت ہو جس کے لئے پولنگ مئی میں ہو گی جبکہ چار ریاستوں مدھیہ پردیش راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی میں کانگریس کی شکست سے عوام کے کانگریسی مخالف موڈ کا واضح اشارہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مودی ہی اگلا وزیراعظم ہوگا۔ بی جے پی کو حکومت کی تشکیل کی خاطر زیادہ قابل قبول کسی شخص کو آگے لانا پڑے گا۔ مودی نے تو اپنی ریاست گجرات میں 2002 ء کے مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکتوں اور ان کی املاک کی تباہی پر جھوٹے منہ افسوس کا اظہار بھی نہیں کہا۔ عین ممکن ہے کہ اگلا وزیراعظم کوئی غیر متوقع شخص ہو جس کا تعلق نہ کانگریس سے ہو نہ ہی بی جے پی سے ہو بلکہ اس کو علاقائی پارٹیوں کو حمایت حاصل ہو جائے۔ تاہم ان سب باتوں کا انحصار الیکشن کے نتائج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی پارٹیوں کی کرپشن کے بارے میں بہت شور شرابا ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اب اخلاقیات کی طرف توجہ دینا شروع کر دی ہے۔، اس کی ایک مثال دھلی قانون سازی کی ہے۔ اگر چہ بی جے پی کے پاس حکومت کی تشکیل کے لئے صرف چار اراکین کی کمی تھی اس کے باوجود بھی اس نے آزاد امیدواروں کی مدد لینے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ پارٹی نے کہا ہے کہ اسے حکومت سازی کا واضح مینڈیٹ نہیں ملا ۔ یہ ایسی بات ہے وہ قبل ازیں کبھی کسی نے نہیں کہی۔ یہ ایک بات اچھا آغازہے۔ سیاسی پارٹیاں مانیں نہ مانیں اے اے پی نے ہی ان کا رخ اخلاقیات کی طرف موڑ دیا ہے۔
2013 ء میں جو چیز سب سے زیادہ پریشان کن رہی وہ تھی فرقہ واریت کا فروغ۔ جبکہ مودی نے اپنی فرقہ واریت کو ریاست کی تعمیر و ترقی( ڈوپلیمنٹ)ٌ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی۔ آر ایس ایس کے متعصبانہ دباؤ میں وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج پیدا کر رہا ہے حالانکہ یہ دونوں قومیں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ امن و شانتی سے رہتی چلی آئی ہیں۔ بدترین پراپیگنڈا مظفر نگر میں مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں ہے جہاں وہ باہم افہام و تفہیم کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر بی جے پی کی سکیم میں یہ چیز قابل قبول نہیں۔ پولیس فورس حسب معمول جانبدار ہے۔ متاثرین ابھی تک پناہ گزین کیمپوں میں ہی مقیم ہیں، حالانکہ ریاستی وزیراعلیٰ ملائم سنگھ مسلمان نواز ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آخر فرقہ واریت کے خلاف مسودہ قانون کو پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں ہی کیوں نہیں منظوری دی جا سکتی۔ اس سے مرکزی حکومت کو ان ریاستوں میں مداخلت کی اجازت مل سکتی ہے جہاں محسوس ہو کہ پولیس بہت زیادہ جانبداری سے کام لے رہی ہے اور ریاستی انتظامیہ بے بس ہو کر رہ گئی ہے۔ پارٹیاں اے اے پی کی کتاب کا ایک ورق لے سکتی ہیں۔ اس نے ایسی سیاست شروع کی ہے جو ذات پات اور نسل و زبان سے ماورا ہے۔ اے اے پی کی کامیابی نے بتا دیا ہے کہ عامتہ الناس اس تبدیلی کے لئے آمادہ ہیں۔