سرورق مضمون

ایک ماہ کی مسلسل ٹریننگ کا مہینہ

سرینگر ٹوڈے ڈیسک
ہر سال کی طرح اس سال بھی ماہ رمضان کا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے ۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح کشمیر کے مسلمان بھی روزے رکھنے میں مشغول ہیں ۔ صبح کی سحری اور افطار کا انتظام پورے جوش و خروش سے کیا جارہاہے ۔ واقعی یہ مہینہ بڑی اہمیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اسلام کی بہار ہرطرف نظر آتی ہے ۔ امت کے زوال کے باوجود ماہ رمضان کا تقدس بحال ہے اور مسلمان بڑی تعداد میں روزے رکھے ہوئے ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ امت کے اندر زندگی کی رمق باقی ہے اور اس کے جسم سے روح نہیں نکل گئی ہے ۔ روزوں کا یہ مہینہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایمان کی کچھ نہ کچھ حرارت ضرور پائی جاتی ہے ۔ روزہ خور بھی کھلے بندوں کچھ کھانے سے پرہیز کررہے ہیں ۔ اس مہینے کے شروع ہوتے ہی سیاسی لیڈروں نے لوگوں کو مبارکباد دی اور رمضان کی آمدکے پیغامات دئے۔ریاست میں بھی کئی مین اسٹریم جماعتوں کے رہنمائوں ، گورنر اور وزیراعلیٰ نے لوگوں کوخوشی کا پیغام دیا ۔ علاحدگی پسند رہنمائوں نے اس موقعے پر خصوصی طور لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا۔ ان پیغامات میں مجموعی طور روزوں کی برکات اور اس مہینے کے تقدس کا ذکر کیا گیا ہے ۔
ماہ رمضان کے روزے اسلام میں فرض کئے گئے ہیں۔ اس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں حکم دیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اے مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، اسی طرح جس طرح یہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے ، تاکہ تم پرہیز گار بنو ۔ اسی طرح دوسرے کئی مقامات پر روزوں کی فرضیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے روزوں کی فضیلت کا بیان کیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے روزوں کے لئے خصوصی انعام کا بند وبست کیا ہے۔ اللہ کا کہنا ہے کہ روزے میرے لئے ہیں اور ان کا اجر میں ہوں۔ یہ درجہ صرف روزوں کو حاصل ہے کہ اللہ نے اس کے لئے اجر اپنے پاس مخصوص کررکھا ہے ۔ باقی عبادات کے لئے دس سے ستر یا سو گنا ثواب ملنے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ گناہوں کے معاف کرنے کی بشارت دی گئی ہے ۔ لیکن روزوں کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے کہ اس کا اجر میں از خود ہوں ۔ روزوں کا اس طرح درجہ بلند کرنا یونہی نہیں ہے ۔ بلکہ اس کی خاص وجہ ہے۔ روزہ ایک مشقت بھرا کام ہے ۔ دوسری عبادات کی نسبت یہ کثرت بھری عبادت ہے۔ یہ مسلسل ایک مہینے کی عبادت ہے اور درمیان میں کوئی چھوٹ نہیں ہے ۔ ایک صحت مندآدمی کے لئے مسلسل ایک مہینے کے روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے ۔ روزوں کی اس مشقت سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک دن ترک کیا جائے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنے ہیں ۔ یعنی ماہ رمضان کا ایک دن باقی مہینوں کے ساٹھ دنوں کے برابر ہے ۔ بلکہ کہا گیا ہے کہ پھر بھی برابری نہیں ہوگی۔ رمضان کے مہینے کے روزے اللہ کو بہت ہی پیارے ہیں۔ یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن کا نزول اسی مہینے میں ہوا ہے ۔ قرآن کی مناسبت سے ماہ رمضان کا تقدس بھی بڑھایا گیا ہے ۔ روزوں اور قرآن کا آپس میں تعلق پیدا کیا گیا ہے ۔ قرآن ہی اصل کتاب ہدایت ہے۔ اس میں پوری انسانیت کے لئے ہدایت ہے ۔ قرآن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ متقیوں کے لئے ایک کتاب ہدایت ہے روزے انسان کو مشقت میں ڈالنے یا اس کو تکلیف پہنچانے کے لئے فرض نہیں کئے گئے ہیں۔ بلکہ اللہ کے نزدیک اس کا ایک خاص مقصد ہے ۔ یعنی تقویٰ شعاری ۔ تقویٰ حاصل نہ ہوتو روزے محض کھانے پینے سے دور رہنے کانام رہتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ فاقہ رہیں اور پیاس برداشت کریں ۔ اللہ کو آپکی بھوک اور پیاس درکار نہیں بلکہ اللہ کو اصل میں روزوں سے پیدا ہونے والی کیفیت سے غرض ہے ۔ یہ کیفیت پیدا نہ ہوتو بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔قرآن خوانی اس طرح نہیں کرنی ہے جس طرح کوئی طالب علم امتحان کی تیاری کے لئے کوئی کتاب پڑھتا ہے۔ محض رٹ لگانا کافی نہیں۔ ثواب کا یہ کام محض طوطے کی رٹ نہیں بننا چاہئے بلکہ اس سے وہ مقصد حاصل ہونا چاہئے جو اللہ نے بیان کیا ہے ۔ قرآن اللہ کاکلام ہے ۔ اللہ نے اس کلام کو پورے اہتمام کے ساتھ نازل کیا ہے ۔ جبرئیل جیسے معزز فرشتے کو اس کام کے لئے مقرر کیا گیا ۔ پھر اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک بڑی جماعت رہتی تھی۔ جب قرآن کی کوئی آیت یا چند آیات نازل کرنا ہوتی تھیں تو جبرئیل ؑ کو فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر بھیجا جاتا تھا ۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ کلام کسی ایرے غیرے کا نہیںبلکہ عظمت والے اللہ کا کلام ہے اور شان والے نبی کے پاس بھیجنا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب اہتمام اور ہیبت ختم ہوکر رہ گیا۔ سلف صالحین کے سامنے اللہ کی کوئی آیت یا نبی کا فرمان پڑھا جاتا تو وہ ڈر اور خوف سے لرز جاتے۔ ان کی کیفیت بدل جاتی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے وہ کانپ جاتے ، لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے ہنسی مزاق کرتے۔ روزہ دار ہوکر خرافات میں ملوث ہوتے ۔ ہم نے روزوں کو مزاق بنادیا ہے ۔ ہماری روزہ داری کا حال یہ ہے کہ جیسے جیل میں بند ہیں اور جیلر نے کھانا پینا ہمارے لئے بند کررکھا ہے ۔ جب صورتحال یہ ہو کہ ہم اس کو تقویٰ کا ذریعہ نہیں بلکہ جبری مشقت سمجھتے ہیں ۔ تو اس سے خوشگوار اثرات حاصل ہونا ممکن نہیں ۔ مسلمانوں کے اندر کہیں اس سے کوئی تبدیلی آتی نظر نہیں آتی ہے ۔ وجہ یہی ہے کہ ہمارے لئے روزوں کی ظاہری شکل اہم بن گئی ہے اور اس کا مقصد فوت ہوچکا ہے۔ ہمارے اسلاف کے لئے روزوں کی ظاہری شکل نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد اہم تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ ماہ رمضان سے ٹریننگ حاصل کرکے پورا سال اسی کا پرتو نظر آتے تھے۔ ان میں ایمان اور احتساب کا عمل سارا سال جاری رہتا تھا ۔ رمضان کا مہینہ ان کے لئے ثواب کمانے اور پھر باقی مہینے عیش و عشرت کے مہینے نہ تھے، بلکہ سب مہینے یکساں طور اللہ کے مہینے تھے ۔ ہمارے لئے ایک مہینہ اللہ کا مہینہ اور باقی گیارہ مہینے شیطان کے مہینے ہیں ۔ حق تو یہ ہے کہ سب مہینے اللہ نے بنائے ہیں ۔ دن رات اللہ کی پیداوار ہے ۔ موسموں کا تغیر اللہ کا کام ہے ۔ سال کے بارہ مہینوں کی حد بندی اللہ کی بنائی ہوئی ہے ۔ صرف ماہ صیام اللہ کا مہینہ نہیں ہے ۔ ہم نے صیام کا مہینہ اللہ کا مہینہ بنایا ہے باقی مہینے جیسا من چاہئے گزارتے ہیں ۔ صیام کا مہینہ اللہ نے مسلمانوں کی ٹریننگ کے لئے مقرر کررکھا تھا ۔ اس مہینے کی شب بیداری ، قیام لیل اور قرآن خوانی باقی سال اور پوری زندگی کے لئے تربیت کی غرض سے فرض کی گئی ہے ۔ ہم اس مہینے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ پھر اس کا اثر کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ بلکہ باقی مہینوں کا اثر ہمارے ماہ صیام پر ہے۔ اب یہ مہینہ غیر مسلموں کے لئے کیا ہمارے اپنے لئے کسی کشش اور تربیت کا مہینہ نہیں رہاہے ۔ اس مہینے کے اندر اسلام کی جو بہار آتی تھی غیر مسلم اس سے حیران ہوجاتے تھے ۔ لیکن اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے ۔ سڑکوں اور پارکوں میں ٹاٹ بچھاکر نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ دفتروں میں کمرے مخصوص کرکے وہاں باجماعت نماز کا اہتمام ہوتا ہے ۔ تراویح کے لئے حافظ و قاری لائے جاتے ہیں، لیکن ہماری زندگی پر اس کا کوئی اثر نہیں ۔ عملی زندگی وہی ڈاک کے دو پات۔ جو برائیاں پہلے تھیں وہ آج بھی ہیں ۔ جو لڑائی جھگڑے پہلے تھے وہ آج بھی ہیں ۔ بلکہ منافرت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ مسلکی تنازعات بھر پور انداز میں اٹھائے جاتے ہیں ۔ آٹھ اور بیس کی لڑائی کمرکس کر لڑی جاتی ہے۔ اس طرح سے رمضان کا یہ مہینہ اسلامی تربیت اور ٹریننگ کا مہینہ نہیں رہاہے ۔ بلکہ لڑائی اور جھگڑوں کا مہینہ بن گیا ہے ۔ ان تنازعوں کو ابھارنے اور اس پرلڑائی جھگڑا کرنے کی خوب تربیت ہوتی ہے ۔ اس کے بجائے تقویٰ کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا ہے۔