مضامین

ایک منٹ کی خوشی کا انجام

ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی
سرفراز کی عمر پچاس سال تھی۔ وہ کئی سالوں سے ڈائی بٹیز اور ہائے بلڈ پریشر کا مریض تھا دیکھنے میں اچھا خاصا لگ رہا تھا لیکن پچھلے سال اسکو دل کا ہلکا دورہ پڑا، جس کے لیے اسے بڑے اسپتال کے امراض قلب کے انتہائی نگہداشت والے واڑ میں بھرتی ہونا پڑا تھا ہسپتال سے رخصت کے بعد وہ اسی ہسپتال کے امراض قلب سے اپنا علاج کراتا رہا۔ اب اس کی زندگی اچھی طرح سے گزر رہی تھی اور گھر کے سبھی افراد خوش و خرم تھے۔ سرفراز کو ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دے ورنہ اس کو دوبارہ ہارٹ اٹیک ہونے کا احتمال ہے لیکن اس نے ڈاکٹر کی نصیحت نہیں مانی۔ ڈائی بٹیز، ہائے بلڈ پریشر اور سگریٹ نوشی سے اس کے جسم میں جنسی کمزوری آگئی تھی۔ ایک دن وہ بغیر سند یافتہ معالج کی بغیر رجسٹریشن والی دکان (جو اشرف چلاتا تھا) کے پاس گیا۔ دکان میں بہت سے افراد کو دیکھ کر سرفراز نے اشرف کو ایک طرف لیا اور کان میں کہا کہ مجھے جنسی کمزوری ہے میرا عضوِ تناسل بیکار ہے اور اپنی گھر والی کے پاس نہیں جاسکتا ہوں۔ براہِ کرم ایسی دوائی دے دیں کہ آج ہی مسئلہ حل ہو جائے۔ اشرف نے کہا کہ یہ تو معمولی مسئلہ ہے میں نے بہت سے لوگوں کی یہ شکایت اس دوائی سے دور کی ہے۔ یہ دوائی آپ لے لیں اور گھر والی کے پاس جانے سے ایک گھنٹہ پہلے اس دوائی کا استعمال کریں۔ آپ اپنا کام آسانی سے کر سکیں گے اور مجھے دعائیں دیں گے۔ چنانچہ سرفراز نے شام کے کھانے کے بعد دوائی کھائی اور سوتے وقت اپنی بیوی کے پاس تعلقات کی غرض سے گیا۔ مباشرت سے فارغ ہوکر سرفراز کے سینے اور بائیں بازو میں درد پیدا ہوا۔ چنانچہ جو بھی دل کی دوائی اس کے پاس موجود تھی اس نے وہ دوبارہ استعمال میں لائی لیکن سینے کے درد میں افاقہ نہ ہوا بلکہ یہ درد بڑھتا گیا۔ اب سارے گھر کے افراد جاگ گئے اور سب کے سب سرفراز کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ انہوں نے ڈاکٹر ایشان جو انکا فیملی ڈاکٹر تھا کو فون کرنے کی کوشش بار بار کی لیکن فون کوئی بھی نہیں اٹھا رہا تھا۔ وہ سمجھے کہ شاید ڈاکٹر کا فون خراب ہے رات پریشانی کی حالت میں گزار کر صبح سویرے گھروالوں نے سرفراز کو ڈاکٹر ایشان کے پاس لیا۔
سرفراز کا دوست عبد الوہاب بھی اسی وقت ڈاکٹر ایشان کے پاس جاپہنچا اور اس نے بھی سرفراز کو ڈاکٹر ایشان کے کلینک میں داخل ہونے میں مدد کی۔ ڈاکٹر نے سرفراز سے اپنی بیماری کے بارے میں پوچھ تاچھ شروع کی لیکن سرفراز نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب پہلے ان لوگوں کو آپ کمرے سے باہر کر دیں، پھر میں اپنی داستان سنائوں گا۔ ڈاکٹر نے سرفراز کے گھروالوں اور اس کے دوست کو کمرے سے باہر کر دیا اور دروازہ بند کیا۔ سرفراز نے فوراً اپنی جیب سے دوائی کا ایک پیکٹ باہر نکال کر ڈاکٹر ایشان کے حوالے کیا۔ ڈاکٹر ایشان اب سمجھ چکا تھا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ اس نے فوراً سرفراز کایعنی ECG کرایا جس سے پتہ چلا کہ سرفراز کو ہارٹ اٹیک دوبارہ ہوگیا ہے۔ اس نے سرفراز کے گھروالوں کو صلاح دی کہ میں فسٹ ایڈ دیتا ہوں لیکن آپ فوراً بیمار کو بڑے ہسپتال کے امراض قلب وارڈ میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھرتی کرائیں۔ ہسپتال میں سرفراز کئی دن رہا لیکن اس کی حالت روز روز بگڑتی گئی اور آخر کار پانچویں دن سرفراز کی موت واقع ہوئی۔ سرفراز کا دوست عبدا لوہاب یہ صدمہ برداشت نہ کرسکا۔ اسکے دل و دماغ میں یہ بات کھٹک رہی تھی کہ سرفراز نے ڈاکٹر ایشان کے کمرے سے مجھے بھی باہر کیوں نکلوادیا۔ وہ فوراً ڈاکٹر ایشان سے ملنے گیا اور اس نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب براہ کرم مجھے آپ بتائیں کہ میرا دوست کیسے مرگیا وہ تو اچھا بھلا تھا۔ کیا کوئی خاص بات تھی جو وہ ہمارے سامنے آپ کو کہنا نہیں چاہتا تھا۔
ڈاکٹر ایشان نے لمبی آہ بھری اور اداسی کی حالت میں عبد الوہاب سے کہا:
دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی ہے کہ سرفراز ڈائی بٹیز (شوگر بیماری) اور ہائے بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھا اور اُس کو ہلکا ہارٹ اٹیک بھی ہوا تھا۔ اس کو تکلیف کی وجہ سے شاید جنسی کمزوری آگئی تھی۔ بجائے اس کے وہ مشورہ کے لیے میرے پاس آتا وہ خود ہی اشرف کی دکان پر گیا۔ عبد الوہاب بیچ میں بولے: کیا یہ وہی اشرف ہے جس نے نہ کوئی ٹریننگ کی ہے نہ کہیں سے تربیت لی ہے اور نہ ہی دوا دکان کی لائسنس (License) اُس کے پاس ہے اور جو اپنا نسخہ بھی دیتا ہے جس پر ڈاکٹر اشرف تو لکھا ہوتا ہے لیکن کون سی ڈگری حاصل کی ہے وہ نہیں لکھا ہوتا ہے اور اسی اشرف کی غلطیوں کی وجہ سے آج تک کئی لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ڈاکٹر ایشان بولے: آپ کا کہنا درست ہے کہ اس کا ایک لیٹر پیڈ بھی ہے جس پر وہ ڈاکٹر اشرف لکھتا ہے۔ خیر اس نے ایک دوائی (SILDENAFIL) VIAGRA کھانے کے لیے دی۔ بدقسمتی سے اس دوائی کے کافی مضر اثرات ہیں۔ یہ دوائی امراض قلب میں مبتلا افراد نہیں کھا سکتے ہیںاور نہ ہی وہ لوگ کھا سکتے ہیں جن کا بلڈ پریشر کم ہو یا جن کو فالج ہوئی ہو یا ہارٹ اٹیک ہوا ہو یا جگر کی تکلیف ہو یا آنکھوں کی تکلیف ہو اس سے شدید سردرد پیدا ہو سکتا ہے۔ چہرے پر سرخی نمودار ہو سکتی ہے اور معدہ کھٹا ہو سکتا ہے لیکن کیا کریں ہمارے یہاں نہ ہی ڈرگ ایکٹ لاگو ہے اور نہ ہی کوئی پوچھ تاچھ ہے۔ لوگ اکثر اپنی ہی مرضی سے دوائی لاتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ دوائی بیچنے والوں کو کوئی پوچھتا نہیں ہے۔ لوگ ایک منٹ کی خوشی کے لیے جان دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جوان شادی شدہ لوگ بھی اس دوائی اور اس جیسی دیگر دوائیوں کا استعمال چائے پانی کی طرح کرنے لگے ہیں۔
عبدالوہاب بولے: اللہ ایسے حادثوں سے بچائے یہ تو بہت ہی گھمبیر بات ہوئی اب اگر واقعی کسی کو جنسی کمزوری ہوئی ہو تو وہ کیا کرے۔
ڈاکٹر ایشان بولے: دیکھئے عبد الوہاب سرفراز کی طرح لوگوں کو یہ بات چھپانی نہیں چاہیے بلکہ ماہر فزیشن سے رابطہ کرکے جنسی کمزوری کے مختلف اسباب کی تحقیقات کرانی چاہیے تب جاکے ڈاکٹر مریض کی حالت، عمر اور دیگر بیماریوں کی موجودگی کو مدنظر رکھ کر جنسی کمزوری کا صحیح علاج کر سکتا ہے البتہ اگر شرم و حیا کے مارے لوگ اپنی جنسی کمزوری کا علاج ان سڑک چھاپ ڈاکٹروں سے کرانے لگے تو ان کا خاتمہ بھی سرفراز جیسا ہوسکتا ہے۔ عبد الوہاب اب سمجھ چکا تھا کہ یہ سڑک چھاپ ڈاکٹر جنسی بیماریوں کی وجہ سے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ اس نے ڈاکٹر ایشان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اپنے ہم خیال لوگوں اور دوستوں تک اس بات کو ضرور پہنچائوں گا۔ راستے میں عبد الوہاب ڈاکٹر ایشان کو دعائیں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے اس بات کا دکھ ہمیشہ دل میں رہتا کہ میرے دوست نے مجھے کمرے سے کیوں باہر نکلوادیا، اگر ڈاکٹر صاحب میرے دل سے اس غلط وسوسے اور خیال کاسد باب نہ کرتے۔