نقطہ نظر

اے بنت حوا۔ ان جشنوں میں تیرے درد کا درماں نہیں

اے بنت حوا۔ ان جشنوں میں تیرے درد کا درماں نہیں

( اے ایمان والو تم کو یہ بات حلال نہیں کہ عورتوں کے جبراً مالک ہوجاؤ ،اور ان عورتوں کو اس غرض سے مقید مت کرو ،جو کچھ تم لوگوں نے ان کو دیا ہے اس میں کوئی حصہ وصول نہ کرو ،مگر یہ کہ وہ عورتیں کوئی صریح نا شائستہ حرکت کریں ۔ ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ دن گذارو ) النساء ۔۱۹ ،، )۸ مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین بڑی دھوم دھام سے اور زور و شور کے ساتھ منایا گیا ، پورا دن خواتین کے لئے وقف تھا اور دنیا کے سارے بڑے اداروں اور شخصیات نے خواتین کی عظمتوں کو جہاں سلام کیا وہاں اس کی رفعتوں کو بھی اجاگر کرنے کی کوششیں ہوئیں ، لیکن اسی روز دنیا کے مختلف ممالک، شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں ’’ عظیم عورت ‘‘کا جسم حسب معمول تار تار ہو تا رہا اور معمول کے مطابق ہی لاکھوں عورتیں بے آبرو ہوتی رہیں ،، عورت کی عزت ، عصمت اور آ بر و کے تحفظ کی باتیں، ،انہیں مساویانہ حقوق اور برابری کے درجے دینے کے وعدے حسب روائت الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتے رہے ، انصاف کے مندروں میں و ہ عورت کے پجاری بڑے بڑے بھاشن۔۔ عورت کی عصمت اور بڑائی پر دیتے رہے جن پر آبرو ریزی کے درجنوں مقدمات بھی درج ہیں اور زمینی سطح پر اس دن بھی جنسی تشدد، عصمت دری ، آبرو ریزی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ، اعداد و شمار آپ خود بھی جمع کرسکتے ہیں ،، اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تہذ یب و تمدن جس سے ممالک کی اخلاقی اقدار جڑی رہتی ہیں، کہاں اپنے صحیح راستے سے بھٹک چکی ہیں ؟ کہاں سماج کا راستہ اپنے درست ٹریک سے ڈھلک کر ایسے راستے پر گامزن ہوا ہے جہاں اس کا انجام ہرصورت میں تباہی اور بر بادی کے سوا کچھ نہیں ، ،ذرا الیکسس کاریل کے اس تجزئے پر غور کیجئے ، ’’ ہم جائز اور ناجائز کی تمیز کھو بیٹھے ہیں ، ہم نے قوانین طبیعت کی خلاف ورزی کر کے ایک ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس کا مرتکب سزا پائے بغیر نہیں رہ سکتا ، جب بھی کوئی شخص زندگی سے ناجائز امر کی اجازت لے لیتا ہے۔۔ زندگی اس کے جواب میں اس سے کمزور بنادیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تہذیب روبہ زوال ہے ‘‘یہ الیکسس کاریل کے الفاظ ہیں ۔۔۔۔ اس پیرا گراف جس میں اسلامی روایات کی پر چھائیاں تہذ یب و تمدن کے لحاظ سے واضح نظر آرہی ہیں اور زوال پزیر تہذیب و تمدن کے تجزئے پر کوزے میں سمندر بند ہے اس پر ہر دانشور اور سماج کے ہمدردا ور غمخوار کو غور کرنا چاہئے ، پہلے وؤمنز ڈے پر ،، یہ کہ پہلی بارر ۱۹۰۸ ؁ ء میں امریکہ کے نیویارک شہر میں لگ بھگ بیس ہزار عورتوں پر مشتمل ایک جلو س سڑکوں پر آیا اور یہ اس نوعیت کا پہلا جلوس تھا ، اس جلوس میں عورتوں نے اپنی سرکار سے وؤٹ کیا مانگا تھا ،، بہتر سہولیات اور اوقات کار میں کمی ،، یہ تین مطالبے سامنے آئے تھے ،، ۱۹۰۹؁ ء میں سوشلسٹ پارٹی نے اس د ن کو پورے ملک میں منانے کا اعلان کیا،، یوم خواتین کو ۱۹۱۱ ؁ میں کوپن ہیگن میں بہت بڑے پیمانے پر ۱۹مارچ کو منایا گیا ، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک میں جو نیو یارک سے شروع ہوئی تھی دنیا کے مختلف ممالک کی خواتین نے شمولیت کا اعلان کیا اور ۱۹۱۳؁ء ا ور ۱۹۱۴؁ء میں ۲۹ فروری کو پہلی بار روسی خواتین نے وؤمنز ڈے کو منایا اور اپنی حکومت کے سامنے بھی اپنے مطالبات رکھے اس کے بعد مختلف ممالک کی خواتین نے ۸ مارچ کا دن یوم خواتین کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا اور تب سے ہر برس اس دن کے لئے ایک موضوع کا انتخاب کیا جاتا ہے جس پر تقریریں ، سمینار اور ڈبیٹس ہوتے ہیں اور اس برس کا جو موضوع تھا بہت ہی اہم ، اور اس دن کی مناسبت سے ، حالات اور واقعات کے پس ِ منظر میں پوری طرح سے ہم آہنگ تھا ،اور یہ موضوع جو وؤمن ڈے کے فیس بک پر پڑھا جاسکتا ہے ،یوں تھا ،’’ عورت کو خرید وفروخت سے تحفظ دیا جائے ۔ سیکس کے کاروبار کو بند کیا جائے ، جسم فروشی عورت پر ایک اور تشدد کی قسم ہے جس سے روک دینا ضروری ہے ‘‘ اب بس مختصر طور پر یہ دیکھیں کہ اس اکیسویں صدی میں بھی جب ایسا سوچا جارہا ہے کہ انسان ترقی اور تہذیبی طور پر اب بلند و بالا مقام پر ہے ، عورت کے معاملے میں وحشی درندوں سے بھی گیا گذرا کیوں ہے ؟اس کے ثبوت میں آپ بھارت کے صرف پچھلے ایک سال کے اعداد و شمار دیکھئے تو یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جنگلی درندے سڑکوں پر بے دریغ بغیر کسی خوف و خطر کے دندناتے پھر رہے ہیں جنہوں نے محصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل کر رکھ دینے کا عزم کیا ہے ، ریپ ، عصمت دری اور اب عصمت دری کے بعد قتل عام سی بات ہوگئی اس سیلاب کو یہ نازک اور کمزور بنیادوں پر استوار تہذیب کیسے روک پائے گی کیونکہ در اصل اس وحشیت اور درندگی کی جڑیں کہیں اور پیوست ہیں جہاں تک اب دانشوروں کی نگاہیں نہیں جاتیں یا اگر جاتی ہیں تو انہیں ہر بہتر تدارک میں اسلامی تعلیمات ، اور اقدار کا عکس فو راً ہی دکھائی پڑتا ہے جس سے وہ ، دیکھنا اپنی شکست کے مترادف سمجھتا ہے کیونکہ ابھی تو اس نے دنیا کو یہ باور کرانا شروع ہی کیا ہے کہ ، خدا بیزار ، سیکولر تہذیب میں انسان کی بقا اور فلاح چھپی ہے بلکہ یہ بھی کہ نظام زندگی چلانے کے لئے ،یہ نیا انسان ہی کافی ہے کسی خدا کی کیا ضرورت ہے ، آدم کو جن فطری عناصر پر تخلیق کیا گیا تھا اس لحاظ سے آج تک اس میں کوئی نیا پن نہیں آیا ہے لاکھوں برسوں میں کوئی نئی چیز اس کی خمیر میں داخل نہیں ہوسکی ہے ،لیکن یہ حقیقت ،اس ’’نئے انسان‘‘ کی سوچ و فکرکو بر داشت نہیں ہوتی کیونکہ یہ سوچ و فکر اسلام کے نور سے منعکس ہوکے اس تک پہنچتی ہے ۔ اس لئے معاشرے میں نہ تو ستھرائی اور نہ ہی جرائم نارمل سطح پر مقفل ہوجاتے ہیں ،،، ’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ا یک یہ کہ اس نے تمہارے واسطے تمہارے جنس ہی سے تمہاری بیبیاں پیدا ا کیں تاکہ تمہیں ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بیوی میں ’’مودت اور ہمدردی پیدا کی ‘‘ الروم ۔۲۱ ۔ مختصر دیکھا جائے تو رب کائنات نے عورت کی تخلیق اور تخلیق کے بعد اس کی حیثیت اور مقام کا اعلان فرمایا ہے ،، آرام کے مفہوم سکون، راحت اور اطمینان ہے اور اللہ کی مرضی یہی ہے ۔، اور یہ کہ دونوں میں’’مودت ‘‘ پیدا کی ، ، محبت ، عشق اور والہانہ چاہت سب جنسی مراحل ہیں ۔زندگی کے مختلف زینوں پر ان کے درجے بھی مختلف ہیں لیکن یہ سارے ادوار گذرنے کے بعد بھی’ مودت ‘باقی رہ جاتی ہے ،، اور یہی خاند انوں کی تشکیل میں بنیادی اکائی بھی ہے کہ ان دو کے ملنے سے ہی اللہ کی کائنات جہاں آگے بڑھتی ہے وہاں ’’مودت ‘‘ہر حال میں ۔ہر عمر کے زینے تک بر قرار رہتی ہے ،اور خاندانوں میں یہ بدرجہ اتم موجود رہا کرتی تھی جب اللہ کے ہاں یہ اتنی بڑی بات اور اس قدر اہم جذبہ ہے تو اسی لحاظ سے یہ اتنا ہی متبرک اور پاکیزہ بھی ہونا چاہئے اور اسی لئے قرآن حکیم نے مرد عورت کے مابین بہترین حدود مقرر کر رکھی ہیں جو آج اس سائنٹفک دور میں ہمیں۔ لیکن غور کرنے والوں کو زیادہ ہی اہم اور لازمی نظر آتی ہیں اور آگے بھی یہی ہوگا ،مرد کے جنسی اور شہوانی ر حجانات کا بہتر علم رب کے بغیر کس سے ہوسکتا ہے اس لئے اسکی تسکین کے حدودکا نہ صرف تعین کیا ہے بلکہ ان سے انحراف پر ہیبت ناک دنیاوی اور اخری سزاؤں کا بھی اعلان فرمایا تاکہ سماج میں بے راہروی اورفحاشی کے دروازے بند رہیں ، ونہیں پر عورت سے بھی چند مطالبات اور ضوابط کا تقاضا کرکے اعتدال کی صورت پیدا کی ہے ’ آپ مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،اسی طرح مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں ،،، (النور ۳۰ سے ۳۱ تک پورے احکاما ت ) پڑھے جاسکتے ہیں ، ’’بلا سبب اختلاط۔ اور عورت کا لوگوں کو ورغلانے اور فتنہ میں مبتلا کرنے کے لئے بن سنور کر نکلنا ، یہ دو بنیادی اسباب ہیں جنہوں نے مغربی معاشرے کو تباہ کیا ہے اور جس کی نقل میں ہم سب کچھ کھو بیٹھے ہیں اسلام ان باتوں کو جائز نہیں ٹھہراتااور نہ اس طرح کے سماج کی تشکیل کو جائز سمجھتا ہے ، لیکن روائتی پردہ ۔ اخفا اور محرومی بھی اسلام کا مقصود نہیں ، رسولﷺ کے زمانے میں عورتیں کام دھندے کے لئے گھر سے باہر نکلتیں ۔ جہاد میں حصہ لیتیں ، عورتوں کو تعلیم دیتیں ،اسلام کے بغیر کسی اور مذہب میں یہ ممکن نہیں کہ عورت اپنے حقوق اور آزادیوں کا مطالبہ کر سکے کیونکہ یہ سب حقوق صرف اسلام نے دنیا کی تاریخ میں عورت کو بن مانگے اور بنا جلسے جلوسوں کے ہی عطا کئے ہیں ،، ظاہر ہے کہ مکمل اور مغربی آزادی جو آج رائج ہے کبھی امن و سکون، تحفظ عورت ،، عصمت و عفت کی نگہبان کسی بھی حال میں نہیں بن سکتی کیونکہ یہ اس فطرت ہی کے خلاف ہے جس پر آدم اور حواکی تخلیق کی گئی ، اس سے سمجھانے کے لئے بالکل ایک آسان سی مثال پیش کروں جو ابھی چند دن پہلے ہوئے واقعے سے سمجھ میں آجاتی ہے ،، این ڈی ٹی پر دو لڑکیوں سے اینکر بیان لے رہا تھا جن کو کئی اشخاص نے ابھی چند روز پہلے رات کی تاریکیوں میں کئی گھنٹوں تک کہیں یرغمال بنائے رکھااور ان کی آبرو ریزی کی ،،’’ یہ واقع کب اور کیسے پیش آیا ‘‘،،،’’ اس کے جواب میں لڑکی کہہ رہی تھی ہم دو لڑکیا ں اپنی ڈانسنگ پارٹی کے اختتام پر گھر لوٹ رہی تھیں تو ہماری گاڈی روکی گئی ‘‘،،، ، آپ ڈانسنگ پارٹیوں میں بھی رات کے ایک بجے دو بجے تن تنہا ، شاید نیم مدہوشی کے عالم میں گھر کی طرف آجائیں گی اور یہ تصور بھی کریں گی کہ دنیا کے سارے لوگ اب فرشتے ہوچکے ہیں ،،،تو یہ سوچ فطرت اور انسان کی اس خمیر کے مخالف ہے جس سے اس کی تخلیق کی گئی ہے اسی لئے رب کائنات نے اسکے حدود اور دائرہ کار بھی منتخب کر رکھے ہیں ۔ اگر عورت خود اس مغربی معاشر ے ا ور طور طریقوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے پر آمادہ اور راضی ہے اور خالق کائنات کے متعین حدود سے خود باہر آکر زندگی گذارنے کی متمنی ہو اور ان سب حقوق کا بھی مطالبہ کرتی رہے جو اسلام نے انہیں نہیں دئے ہیں ، تو پھر اسلام کا اس سے کیا سرو کار، اور اسلام کے بارے میں بحث ہی کیوں۔ لا یعنی سی بات ہوجاتی ہے ،( فطرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ شہوتوں کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ،، سوائے اس کے کہ ان پر قد غن اور انہیں ان دائروں میں مقید کیا جائے جو رب کائنات نے ان کے لئے وضح کئے ہیں اور مرد کو بھی سزا ،ڈر اور خوف سے بے لگام ہونے سے روکا جائے ،، یہ فلاحی اور محفوظ معاشرہ اس مغرب کی تراشیدہ آزادی میں ممکن ہی نہیں جہاں’’ ، میرا جسم میری مرضی ‘‘ایک ایسا نعرہ ہو جس پر وقت کے دانشور تالیاں پیٹتے ہوں ،،، شاید اسی کا رد عمل ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک جج (بوبڈے )نے ایک ریپ کیس میں مظلوم لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ اس شخص کے ساتھ شادی کرنے کو تیار ہے جس نے اس کا ریپ کیا ،اس کے بھائی کو قتل کیا اور جو کئی برس سے انصاف کے مندر کی دہلیز پر اب تک بے سروساماں بیٹھی ہے ،،،،کیا اب کسی بھی مظلوم لڑکی کو زندگی بھر ریپ ہونے کی سزا دینا ہی مستقبل میں انصاف کہلائے گا ؟ اس نظام میں کوئی چیز بعید نہیں ، اس لئے ایک دن کا جشن مناتے رہئے ،، اورٹی وی اخبارات اور سوشل میڈیامیں عورت کے مقام کا آبرو مندانہ مقام تلاش کرتے رہنے میں زمانے پھلانگتے رہئے، ،کھیت کھلیانوں کی نگہبانی کے لئے دیواریں نہیں اور تمام قسم کے جانور بھی منہہ مارنے کے لئے آزاد ہوں تو فصل بچے گی کیسے؟