خبریں

بائیکاٹ کرنے والے اصلی قومی سرمایہ

بائیکاٹ کرنے والے اصلی قومی سرمایہ

حریت (گ) چیئر مین سید علی شاہ گیلانی نے تمام تر بھارتی ظلم وجبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود یہاں کی غالب اکثریت کی طرف سے الیکشن بائیکاٹ کرنے والے لوگوں کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے شعور کی پختگی کے ساتھ بائیکاٹ کیا وہ ہمارا اصلی اور قیمتی سرمایہ ہیں ، کیونکہ بھارت نے جموں کشمیر کے لوگوں کا ضمیر خرید نے کے لیے جہاں بڑے پیمانے پر فوج ، پولیس ، ایجنسیوں ، این جو آوز ، شکم پرست علماء ، موقعہ پرست لوگ اور زر خرید سیاست دانوں کو استعمال کیا گیا وہیں جموں کشمیر کے عوام کا ووٹ خرید نے کے لیے بازاری دا م لگائے گئے ۔ الیکشن کے نام پر جموں کشمیر کو مچھلی بازار میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔موصولہ بیان کے مطابق حریت (گ) چیئر مین نے کہا کہ ووٹ عوام کے پاس امانت اور طاقت ہوتی ہے جس کی ہر لحاظ سے حفاظت ہونی چاہیے تھی اور ووٹ کسی اصول ،مشن اور نظریہ کی بنیاد پر صالح باضمیر ، محکوم قوم کے غمخواروں یا غمگساروں کو دیا جا سکتا تھا مگر جب متنازعہ خطے میں بھارتی الیکشنوں کو مسترد کیا گیا پھر ان انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور ایک اصولی موقف اختیار کرکے تمام آزادی پسند تحریکوں نے بھارتی آئین اور بھارتی غلامی میں الیکشن بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ، جس پر ساری آزادی پسند تنظیمیں الحمداللہ متفق ہیں اور ہماری قوم کے باشعور طبقہ نے بائیکاٹ پالیسی کامکمل ساتھ دیا ۔ بھارتی حکمرانوں اور بھارت نواز سیاسی مداریوں نے اب اصولوں کے بجائے ہماری قوم کے ضمیر کو سرمایہ کی بنیاد پر خرید نے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی 1996سے فوجی طاقت ، پولیس اور ایس ٹی ایف کے ظلم و جبر کا بے تحاشا استعمال کرکے لوگوں کو گھروں سے نکالا جارہا تھا اب فوجی طاقت کے علاوہ ضمیر اور ایمان خریدنے کے لیے بھارت کے خزانوں کے دروازے کھولے گئے اور ہماری قوم کے ضمیر اور کردار کو دائو پر لگا یا جارہا ہے ۔جو ووٹ اصول اور مشن کی بیناد پر کاسٹ کیا جاتا تھا اب چکائو ، دکائو کی بنیاد پر کاسٹ کروا کے ضمیر فروشی پر ہماری قوم کو ابھارا جارہا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ آج کہا جارہا ہے کہ ووٹ دو، پیسے دیں گے ، کل یہی شاطر کہیں کے کہ ایمان بیچو ، بتائو کتنے پیسے لوگے ؟ یہ قوم کے ضمیر فروش سیاست دان ہمارے دین وایمان کا سودا کرنے لگے ہیں جب یہی ضمیر فروش لوگ اسمبلی میں پہنچے گے تو یہ لوگ ہماری قوم دین وایمان کا سودا کرنے لگے ہیں ۔ جب یہی ضمیر فروش لوگ اسمبلی میں پہنچے گے تو یہ لوگ ہماری قوم کی ہی بیچ کھائیں گے ۔ ہم نے بار بار اسی لیے اپنی قوم سے دردمندانہ اپیل کی کہ ان قومی سودا گروں کے فریب اور دھوکے میں مت آئو ۔ الیکشن لڑنے والے سارے سیاست دان بھارت کے آلہ کار ہیں اور بھارتی قبضے کو یہاں مضبوط کررہے ہیں ۔ ان پارٹیوں میں سے کوئی بھی پارٹی شہداء کے مشن کو مقدس نہیں سمجھتی ہے۔ا ن میں سے کوئی بھی پارٹی بھارت کے جبری قبضے کو ناجائز نہیں سمجھتی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی پارٹی نے بھارتی فوج کی طرف سے ظلم و جبر ، تشدد او ر قتل وغارت گری کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ۔ اب جب یہ لوگ اسمبلی میں پہنچ جائیں گے تو یہی لوگ ہم کو بھارت کی غلامی میں مضبوطی س جھکڑانے والے ہوں گے ۔یہی لوگ شراب کا کار وبار عام کریں گے یہی لوگ بدکاری اور سودی کا روبار کو فروغ دین گے اور یہی لوگ ہمارے معاشرے کو بگاڑ میں مبتلا کریں گے اور جب یہاں کا معاشرہ  بگاڑنے میں ان ہی لوگوں کی منصوبہ سازی ہو گی تو پھر معاشرے کو سنوار نے کی بات کون کرے گا۔ معاشرے میں سدھار کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ۔سید علی گیلانی نے کہاکہ ہماری قوم جتنا ان لوگوں کو مضبوط بنائیں گے بھارتی قبضے کو یہ لوگ اتناہی مضبوط بنانے میں جری ہوں گے ۔  فوج پولیس ایجنسیاں جو کچھ مظالم اور تشدد ڈھارہی ہے ۔ یا لوگوں کو قتل کر ہی ہے ان سیاست دانوں کی ایما ہی پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔یہ سارے سیاست دان اس میں برابر کے شریک ہیں ۔ عصمت دری جو یہاں ہو رہی ہے گرفتاریاں جو یہاں ہو رہی ہیں جوانوں کو قید وبند کی صعوبتوں سے جو گزرنا پڑتا ہے وہ انہی سیاست دانوں کی کرم فرمائی ہے ۔ سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ہماری قوم کو بھارت اور اس کے آلہ کاروں کی سازشوں سے باخبر رہنا چاہیے اور انہی عظیم اور بے مثال قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے تحریک آزادی کا بھر پور ساتھ دینا چاہیے ۔ انہوں نے حالیہ مہینوں میں حریت لیڈروں کارکنوں جوانوں اور طلباء کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب چونکہ الیکشن کا ڈرامہ اختتام پذیر ہوا ہے لہٰذا گرفتار شدگان کو جلد از جلد رہا کر دیا جائے۔