نقطہ نظر

بائیں بازو کے نظریے کی مات

بائیں بازو کے نظریے کی مات

کلدیپ نائر
میں چند روز قبل ڈھاکا میں تھا۔ بنگلہ دیش میں بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں بہت دلچسپی لی جارہی ہے۔ لوگوں کو پولنگ کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات کا بھی ایسا بھرپور علم ہے جیسے یہ ان کے ہاتھ کی ہتھیلیوں پر درج ہو۔ وہ بھارتی ٹیلی ویژن پر نیوز چینل بڑے غور سے دیکھتے ہیں جن پر پاکستان میں پابندی ہے۔
یہاں کے لوگ بیشک نریندر مودی کے اس بیان پر سخت برہم ہیں جس میں اس نے کہا تھا کہ تمام بنگلہ دیشی 16 مئی سے پہلے پہلے اپنا سامان باندھ لیں جب کہ لوک سبھا کے انتخابی نتائج کا اعلان ہو گا۔
مودی کے بارے میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ بھارت کا وزیر اعظم بنے۔ مسلمانوں کے خلاف اس کی تحقیر آمیز تقریروں نے بنگلہ دیشیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کا پڑوسی ملک (بھارت) سیکولر جمہوری نہیں بلکہ ایک بنیاد پرست ہندو ریاست ہے۔ ان کو زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ مودی دونوں ملکوں کے خوشگوار تعلقات کو خراب کر دے گا کیونکہ نئی دہلی نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں ان کی ہر طرح سے مدد کی تھی۔ڈھاکا کے دورے نے مجھے ایک موقع فراہم کیا کہ میں اطمینان سے بیٹھ کر اپنے انتخابات کا جائزہ لے سکوں۔ مجھے سیاست میں مذہب کا خاصا عمل دخل نظر آیا ہے۔ مودی اور بی جے پی نے کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی ملک میں ہندوتوا کا کارڈ استعمال کر کے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ اس سے انھوں نے ملک کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔
ہمارے آباؤ اجداد نے جو خواب دیکھا تھا کہ بھارت میں آزادی کے بعد اجتماعیت اور مساوات پر مشتمل ایک معاشرہ قائم ہو گا۔ اس بات کے باوجود کہ ملک کی تقسیم مذہبی بنیادوں پر ہوئی تھی لیکن لگتا ہے کہ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ مودی ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک بار پھر خلیج پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے حالانکہ آزادی کے بعد سے ہم نے ایسے حالات کو روکنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان انتخابات کی حقیقی معنوں میں بری خبر یہ ہے کہ بائیں بازو کی قوتیں بری طرح مات کھا چکی ہیں حالانکہ وہ بنیاد پرستوں پر گہری نگاہ رکھ سکتے تھے جس سے سیکولر عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے برصغیر کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ یہی المیہ درپیش ہے۔
1940ء کے عشرے میں جب میں کالج میں تھا تو یہ بات کہی جاتی تھی ’’اگر آپ پچیس سال کی عمر تک پہنچنے تک بائیں بازو کے نظریات سے متاثر نہیں ہوتے تو آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ لیکن یہ مو قف رفتہ رفتہ معدوم ہوتا گیا۔ دائیں بازو والے بھی الگ تھلگ نہیں رہے۔ انھوں نے سخت محنت کی اور نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کیا۔ لیکن آج کی نوجوان نسل کی تمام تر توجہ مال و دولت کی طرف ہیں جسے دیکھ کر ان کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں اور وہ اپنے کیریئر میں ترقی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ آج کارل مارکس کو کوئی نہیں پڑھتا چہ جائیکہ اس کے نظریات پر بحث مباحثہ کیا جائے جیسے کہ ایک زمانے میں ہوتا رہا ہے۔مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ لوک سبھا کہ حالیہ انتخابات میں بائیں بازو کے نظریے کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔
حتیٰ کہ بائیں بازو کے کٹر پیروکار بھی اب سوشلزم یا مساوات کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے۔ وہ بھی کاروبار کی طرف مائل ہو چکے ہیں جس پر منموہن سنگھ کی حکومت نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں سب سے زیادہ توجہ دی۔ لہٰذا اب بھارت میں بائیں بازو کے نظریات کا کوئی اسکوپ نہیں رہا۔ سب سے زیادہ حیرت ان جانے پہچانے مارکسٹوں کی خاموشی ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت باقی ہے کہ 1952ء میں ہونیوالے بھارت کے پہلے عام انتخابات میں کیرالہ میں کمیونسٹوں کو فتح ہوئی تھی۔ بعد میں مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاست تری پورہ میں بھی سرخ حکومتیں قائم ہو گئیں۔ آج بائیں بازو کا عمل دخل صرف تری پورہ تک رہ گیا ہے۔ لوک سبھا میں ان کے اراکین کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ بازی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
میرا مشاہدہ یہ ہے کہ بھارت میں بائیں بازو کے عناصر ماسکو پر اس قدر زیادہ انحصار کرتے تھے کہ جب سوویت یونین منہدم ہو گیا تو ان کو محسوس ہوا جیسے کہ وہ یتیم ہو گئے ہوں۔ بائیں بازو کے نظریے کو نہایت شدید دھچکا پہنچا۔ بھارت میں اس نظریے کے حامی اسقدر بددل ہوئے کہ انھوں نے میدان ہی چھوڑ دیا اور یوں بازی سرمایہ داروں نے جیت لی۔مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کی سیاست کے جسم میں جس زہر کا ٹیکہ لگایا گیا ہے ایک نہ ایک دن اس کا اثر ختم ہو جائے گا۔ لیکن اس دوران قوم کو غیر یقینی اور کشیدگی کی فضا کا سامناکرنا پڑے گا۔ آزاد خیال لوگ دونوں برادریوں میں کم ہو رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے ایک بہت سنجیدہ لڑائی آنے والی ہے۔ انھیں سیکولرازم کی برتری ثابت کرنے کے لیے بہت سخت زور لگانا پڑے گا۔
مودی اور بی جے پی کو اس سے زیادہ سازگار وقت اور کوئی نہیں مل سکتا جب کہ لوگ پریورتن (تبدیلی) چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کانگریس کو شکست دینے کے لیے اور کوئی متبادل جماعت نہیں جب کہ کانگریس نے گزشتہ دس سالوں میں ہر میدان میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خواہ وہ اقتصادی تعمیر و ترقی کا معاملہ ہو یا اچھی حکمرانی کا۔ عام آدمی پارٹی (عاپ) ایک بالکل نئی چیز ہے لیکن یہ صرف شمالی ہند کے شہری علاقوں تک محدود ہے۔ اس لیے جو ووٹ مودی اور بی جے پی کو پڑیں گے وہ منفی ووٹ ہوں گے۔
وزیر اعظم من موہن سنکھ کی دس سالہ بے ثمر حکومت نے کانگریس کو اسقدر نقصان پہنچایا ہے کہ وہ ان انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکے گی اور اس پر مستزاد حکومت کے بھاری مالیاتی سکینڈلوں نے پارٹی کو اور زیادہ بدنام کیا۔ مودی کی غیر ذمے دارانہ تقاریر سے کانگریس کو تھوڑا بہت فائدہ پہنچا ہے لیکن کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے اپنے جس موقف کا اظہار کیا ہے اس نے علاقائی پارٹیوں کے مقابلے میں کانگریس کی جیت کے امکان پر ٹھنڈا پانی گرا دیا ہے۔ اس نے کانگریس کے کسی تیسرے محاذ کی قیادت کرنے یا حمایت کرنے کی سختی سے مخالفت کی ہے۔
نیشنل الیکشن کمیشن، جس کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ یہ آزاد ہے، لیکن پولنگ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے بارے میں اس کا رویہ بہت نرم ہے۔ مودی نے تو الیکشن کمیشن کو یہاں تک چیلنج کیا ہے کہ اگر اس کی تقاریر قابل اعتراض ہیں تو الیکشن کمیشن اس پر مقدمہ چلائے حالانکہ کسی بھی نکتۂ نظر سے مودی کی تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی محسوس ہوتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا ردعمل صرف قانونی موشگافیوں تک محدود ہے حالانکہ وہ مودی کو نا اہل بھی قرار دے سکتا ہے۔
کمیشن کا یہ طرز عمل پولنگ کی آزادی کے حوالے سے ایک سوالیہ نشان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) اور مارکسٹوں کی (سی پی آئی۔ ایم) کی تمام تر کوششیں بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے پر لگی ہوئی ہیں۔ انھیں اپنی محدودات کا بخوبی علم ہے لیکن انھیں امید ہے کہ وہ ایک ایسا وفاقی محاذ تشکیل دے سکتے ہیں جس میں غیر کانگریس اور غیر بی جے پی پارٹیاں شامل ہوں اور وہ اپنا الگ محاذ کھڑا کر سکیں۔یہ کوئی برا خیال نہیں کیونکہ کانگریس اور بی جے پی اس قدر زیادہ کرپشن اور فرقہ واریت میں ملوث ہیں کہ ان کا شکست کھا جانا ہی بھارت کے مفاد میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ راہول گاندھی نے کسی تیسرے محاذ کی تشکیل کی اس قدر مخالفت کی ہے۔
اس کو امید ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیوں کو یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کے پاس حکومت کی تشکیل کے لیے کانگریس کی حمایت کے سوا اور کوئی متبادل راستہ نہیں ہو گا تاہم فرقہ وارانہ اور کرپٹ طاقتوں کو شکست دینا بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے مساوات کی ترویج کی جاسکتی ہے جس کا وعدہ آزادی کی جدوجہد کے دوران کیا کیا گیا تھا۔ فی الوقت دونوں کمیونسٹ پارٹیاں مساوات کے بنیادی نظریے سے خاصی دور نظر آتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سیکولرازم بالآخر خود ہی سوشلزم کی راہ ہموار کر دے گا۔جس وقت علاقائی جماعتوں کی جانب سے قوم پرستی پر مبنی آواز بلند ہوئی تو معلوم ہو گا کہ ان کے اندازے کتنے غلط ہیں اور زیادہ تر یہ علاقائی جماعتیں شراکتی کاروباری اداروں سے بہت قریب ہیں لہٰذا وہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ملک کو غلط راہ پر ڈال دیں گی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)