سرورق مضمون

’بابری مسجد انہدام منصوبہ ‘۔۔۔ووٹ بنک سیاست یا اور کچھ؟

’بابری مسجد انہدام منصوبہ ‘۔۔۔ووٹ بنک سیاست یا اور کچھ؟

ڈیسک رپورٹ
لوک سبھاچناؤ کی تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں چناؤی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے اورامیدوارووٹروں کو لبھانے کیلئے جے توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔پارٹیاں بھی اپنے امیدواروں کے حق میں خوب تشہیر کرتی ہیں اور عوام سے ان کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتی ہیں۔ تاکہ اُن کے امیدوار پارلیمنٹ میں جا کر عوام کے مسائل کو اُجاگر کریں اور عوام کے تئیں بہتر پالیسیوں کو لانے کے لئے کام کریں گے ۔ ایک طرف یہ پارٹیاں لوگوں سے وعدہ کرکے ان کے مسائل کو اجاگر کرنے ا ور اُن کی آواز پارلیمنٹ میں پہنچانے کے لئے کہتی ہیں دوسری طرف پارٹیاں مخالف پارٹیوں پر تاپڑ توڑ حملے کرکے دوسری پارٹیوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہر کوئی پارٹی اس کوشش میں رہتی ہیں کہ اُن کی پارٹی عوام میں مقبولیت حاصل کر کے دوسرے پارٹیوں کو پس کر کے آگے جائیں تاکہ انتخابات کے نتائج کے وقت اُن کے امیدوار کامیاب ہو سکیں۔ جوں جوں انتخابات کے تاریخیں نزدیک آرہی ہیں تو پارٹیاں اپنی مقبولیت کے لئے عوام میں جا کر ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہر کوئی حربہ آزما رہی ہیں۔
ایک حربہ کے طور پر گذشتہ روز ہی بھارت کی ایک تفتیشی ویب سائٹ ’’کوبرا پوسٹ‘‘ کے اسٹنگ آپریشن کے انکشاف نے ہندوستان کے سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ اسٹنگ آپریشن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام مبینہ طور پر بہت ہی منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا اور لال کرشن ایڈوانی، منوہر جوشی اور وزیر اعظم نرسمہا راؤ سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈران کو اس کا بخوبی علم تھا۔ بی جے پی نے اس انکشاف کے بعد الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرکے سٹنگ آپریش کی نشریات پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ آپریشن میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اترپردیش کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور سابق وزیراعظم نرسمہا راو بھی اس منصوبے سے آگاہ تھے۔ کوبرا اسٹنگ آپریشن رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ 23 سرکردہ شخصیات پر کیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران کوبرا پوسٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کے آشش نے خود کو ایک مصنف کے طور پر پیش کرتے ہوئے خفیہ طور پر ان تمام افراد کے ساتھ مختلف مقامات پر اپنی بات چیت ریکارڈ کی ہے۔ ساکشی مہاراج ، اچاریہ دھرمندرا، اوما بھارتی، مہنت ویدانتی اور ونے کٹیہار سے گفتگو کی بنیاد پر آشش نے نتیجہ نکالا ہے کہ 6 دسمبر 1992 کے روز بابری مسجد کا انہدام کسی عوامی جنون کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منصوبہ بند طریقے سے کی گئی کارروائی تھی اور اس کام کو راشٹریہ سیوئم سیوک سنگھ کی مختلف ذیلی تنظیموں نے بڑے ہی کامل طریقے سے سرانجام دیا۔آپریشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کے انہدام کی سازش کو بہت ہی خفیہ طریقے سے انجام دیا گیا تھا۔بابری مسجد کو گرانے کی سازش ہندو تنظیموں کی قیادت کی اعلی سطح پر تیار کی گئی تھی اور بجرنگ دل کے جن کارکنوں کو مسجد گرانے کی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا تھا انہیں ایک مہینے پہلے تک اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ایک بہت ہی حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ ان افراد کی تربیت فوج کے سبکدوش ہوئے کئی اعلیٰ افسران نے گجرات میں کی تھی۔ انہیں نظریاتی تربیت وشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماوں نے دی تھی۔ کوبرا پوسٹ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مہاراشٹر کی سخت گیر ہندو نواز جماعت شیو سینا نے بھی اپنے طور پر بابری مسجد کو گرانے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ شیو سینا کے بعض کارکنوں نے بھی مسجد گرانے کے لئے تربیت حاصل کی تھی۔
ادھرعوامی حلقے اس بات سے بخوبی وقف ہیں کہ بابری مسجد کن لوگوں نے شہید کی ہیں تاہم عوامی حلقے اس بات سے پریشان ہیں کہ بابری مسجدیا گجرات جیسے فسادات کے ایشو ز عین انتخابات کے موقعے پر ہی سامنے کیوںآتے ہیں۔ آخر کون لوگ ان ایشوز کو سامنے لاتے ہیں ۔کیا یہ اشوز سامنے لانے سے ان کے ووٹ بنک میں اضافہ ہونے والا ہوتا ہے۔کوبرا پوسٹ کے اسٹنگ آپریشن نامی اس انکشاف کے بعد بی جے پی کہہ رہی ہے کہ یہ سب کانگریس کا کیا کرایا ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نظر نہیں آرہی ہے۔ تاہم عوام حلقوں کی رائے ہے کہ اس میں دورائے نہیں کہ کوبراپوسٹ کے اسٹنگ آپریشن کا انکشاف برحق ہو سکتا ہے تاہم یہ انکشاف الیکشن سے پہلے سامنے کیوں نہیں آیا ہے ۔
الیکشن میں ووٹ بنکنگ کیلئے سیاسی پارٹیوں کا کھیل کھیلانا پرانی ریت ہے اور کوبراپوسٹ اسٹنگ آپریشن نامی انکشاف اسی ریت کی ایک کڑی کے طور پر لی جا سکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے سونیا گاندھی سے تبادلہ خیال کر کے 2014کے انتخابات کے لیے کانگریس کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ ان کی نظریہ ہے کہ سیکولر طاقتوں کو استحکام بخشنا ہے۔ فرقہ پرستی کرپشن سے زیادہ خطرناک ہے۔امام بخاری نے2004میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اٹل بہاری واجپائی کی حمایت کر کے ہندوستانی مسلمانوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔لیکن اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کانگریس نے36فیصد مسلم ووٹ حاصل کر کے ملک کو پیغام دیا تھا کہ مسلمانوں میں امام بخاری کی آواز کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
دلی کے شاہی امام کاتازہ بیان کانگریس کے لئے ووٹ بنک کے طور پر ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب یہ ووٹنگ بنک سیاست آگے چل کر کونسا رُخ اختیار کرے گی اس کیلئے16 مئی تک انتظار کرنا ضروری ہے۔