مضامین

باحیا عورت معاشرے کا چلن بدل سکتی ہے

ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی

عورت معاشرے کی بظاہر کمزور اور مردوں کے ہاتھوں ستائی ہوئی ایک مخلوق ہے، مگر حقیقتاً وہ مضبوط اور پائیدار ستون ہے جس کی بنیاد پر ایک مستحکم گھر کی تعمیر ہوتی ہے۔ عورت اگر سچی، ستھری، دیانتدار، پْرخلوص اور شوہر کے مال و اسباب اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی ہے تو اس کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ ترقی یافتہ اس کمزور بنیاد کے معاشرے نے عورت کو ایک ڈیکوریشن پیس کے طور پر بازار میں لاکھڑا کیا ہے۔ 146146ترقی ترقی145145 کے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان عورت کو ہورہا ہے، کیونکہ ترقی کے جھانسے میں عورت معاش میں ہاتھ بٹانے کے لیے اپنے کمزور سانچے کے ساتھ دْہری ذمہ داریاں نبھانے کے لیے باہر نکلی ہے۔ اور اس کام میں اس کو جتنی مشکلات کا سامنا ہے وہ خود ہی سمجھتی ہے، لیکن شوہر کی دلداری، اس کی دلجمعی کی خاطر مسکرا مسکرا کر ہر دکھ جھیل رہی ہے، کیونکہ مرد نے عورت کو یہ کہہ کر باہر کھڑا کردیا ہے کہ معاشرے میں 56 فیصد آبادی عورتوں کی ہے اور اگر یہ آبادی گھر میں بیٹھی رہی تو 44 فیصد مرد کیسے انہیں کما کر کھلائیں گے! مغرب زدہ طبقہ اس بات کو روشن خیالی اور ترقی پسندی کا نام دیتا ہے۔ لیکن تعلیم یافتہ عورت خواہ وہ وکیل ہو، ڈاکٹر ہو، بزنس ویمن ہو، ٹیلی فون آپریٹر ہو یا کوئی ماڈل گرل133 جب وہ گھر سے معاش کی خاطر نکلتی ہے تو ہر نظر اس کو اپنے جسم کے اندر پار ہوتی نظر آتی ہے۔ باہر کا ہر مرد اسے صرف عورت سمجھ کر، کمزور اور بے وقعت شے سمجھ کر کھیلنے اور بے وقوف بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کو بڑا تحفظ دیا ہے۔ اسے گھر کی ملکہ قرار دے کر اس کی حیثیت کو انتہائی باعزت اور باوقار بنایا ہے۔ مگر اسلام کے منکر اسے اس حیثیت سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسلام نے بحالتِ مجبوری اسے ملازمت کی اجازت دی ہے، مگر اس طرح کہ وہ دوسروں کی ہوس کا نشانہ نہ بنے۔
ساتر لباس، حجاب اور شرم و حیا کے ساتھ وہ ہر مشکل کام کرسکتی ہے۔ عورت وہ مضبوط حصار ہے جس کے دامن میں ولی، پیغمبر اور نبی پرورش پاتے رہے ہیں۔ وہ ایک باعزت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے، اس کی اِس حیثیت میں جب بھی کمی کرنے کی کوشش کی گئی اسی وقت معاشرے میں ناگوار انقلاب کی صدا سنائی دی۔ آپ بتائیں کیا ضروری ہے کہ عورت باہر نکلے تو مختصر لباس میں ہو؟ کیا عورت اس معاشرے کے چلن نہیں بدل سکتی؟ یقینا وہ یہ سب کچھ کرسکتی ہے۔ وہ اگر نہ چاہے تو اسے اس کا باپ، بھائی، شوہر، بیٹا کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے آپ کو مردوں کی غلاظت بھری نظروں سے محفوظ کرسکتی ہے۔ کوئی بھی باہر نکلنے والی عورت، خواہ اس کا مقصد کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو سادہ، پْروقار اور باحجاب بناکر نکلے۔ شرم و حیا عورت کا زیور ہے اور اس زیور کو پہننے والی خواتین ہی حسین نظر آتی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقاریب ہوں یا سالگرہ اور پارٹی وغیرہ133 ہمیشہ سادہ اور پْروقار لباس پہنیں۔ اپنے کردار میں ایسی شان پیدا کریں کہ سب آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ یاد رکھیں بھڑکتا شوخ لباس یا مہنگے زیور عورت کا حسن ہرگز نہیں۔ اچھا کردار، سادگی کا حسن اور شرم و حیا کا زیور ہی عورت کا اصل روپ ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو باعزت اور باوقار بنانا چاہتی ہیں تو آئیے اپنا جائزہ لے کر دیکھتے ہیں کہ ہم اسلام اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے بنائے ہوئے معاشرے میں اپنا مقام کہاں پاتے ہیں۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جہاں دو چار خواتین اکٹھی ہوئیں، تیسری عورت کی غیبت شروع کردی۔ اس کے لباس، میک اپ، شکل صورت کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ اپنے عیبوں کو چھپا کر دوسروں کے عیب ڈھونڈنا شروع کردیے۔ دوسرے کے بارے میں ٹوہ لگانا اور کھوج لگانا شروع کردیا۔ یہ سب وہ اخلاقی کمزوریاں ہیں جو خواتین کے کردار کو ضعف بخشتی ہیں اور زبان کے غلط استعمال کا عادی بناتی ہیں۔ زبان گوشت کا وہ دو انچ کا ٹکڑا ہے جو ہر برائی کا ذمہ دار ہے۔ اگر آپ اس زبان کو کم سے کم برائیوں میں استعمال کریں تو یہ آپ کا اپنی ذات پر احسان ہوگا۔
عورت چاہے تو زمانے کا چلن بدل سکتی ہے۔ وہ ہوا کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر خواتین صرف مہنگے اور فیشن زدہ ملبوسات، میک اپ، زیورات سے چھٹکارا پا لیں تو معاشرے سے مہنگائی اور کساد بازاری ختم ہوجائے۔ اگر آپ سب خواتین محفلوں میں اپنی گفتگو میں سے زیور، کپڑے، میک اپ، مارکیٹنگ کے موضوعات نکال دیں تو یقین کریں دکانوں پر سب میک اپ کا سامان، مہنگے کپڑے اور زیور انتہائی سستے ہوجائیں گے۔ اگر آپ تھوڑی سی ہوس اور حرص اپنے اندر سے ختم کر لیں، دوسروں کی نقالی میں خریداری سے باز آجائیں تو یقین کریں چند مہینوں میں مہنگائی کا زور ٹوٹ جائے گا۔ آپ سب انتہائی مضبوط ہیں، اگر عزم کرلیں کہ ہم کسی کے لباس، زیور اور فیشن کی نقل نہیں کریں گے، ہم کسی کی غیبت، کسی کی کمزوری پر لعن طعن نہ کریں گے، کسی کا مذاق نہیں اڑائیں گے تو یقین کریں کہ آپ کا چہرہ بغیر کسی میک اپ کے حسن کے نور سے مالا مال ہوجائے گا۔ ہماری بزرگ خواتین کے چہرے آج بھی نوجوان فیشن زدہ چہروں سے زیادہ خوبصورت، نورانی اور باوقار نظر آتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنا وقت فضولیات میں صرف کرنے کے بجائے اپنے گھر، بچوں اور شوہر کی دیکھ بھال میں صرف کیا، اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی۔ آپ بھی حسین بننا چاہتی ہیں تو آج ہی سے اپنے نظریات، خیالات میں تبدیلی پیدا کریں۔ صرف اپنے کردار کو شعارِ اسلامی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ جب محفل میں کسی دوسری خاتون سے ملیں تو بجائے ہیلو ہائے کے السلام علیکم کو رواج دیں۔ کپڑے کی قیمت اور دکان کا پتا معلوم کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے معلوم کریں: آج آپ نے کتنے نفل ادا کیے؟ کون سی سورت کی تلاوت کی؟ کسی بیمار کی مزاج پرسی کی؟ کسی یتیم کی سرپرستی کی؟ اور کسی محتاج کی مدد کی؟ ان تمام کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، پھر آپ دیکھیں گی کہ اعمالِ صالحہ کی نیکیاں آپ کے چہرے پر ایسا نور اور روشنی عطا کریں گی کہ لوگ آپ سے حسن کا راز پوچھیں گے۔ نیکیوں کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے 146146اللہ کسی پر اس کی حیثیت اور ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور اللہ کے ہاں انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔145145 بس انہی اصولوں پر عمل کریں۔ یہ دنیا صرف عمل کی جگہ ہے۔ اچھا عمل اچھا انجام133 برا عمل برا نتیجہ۔