خبریں

بادل پھٹنے سے قیامت خیز سیلابی صورتحال

جنوبی قصبہ ترال کے ایک پہا ڑی علاقہ میں دوران شب بادل پھٹنے سے آئے قیامت خیزسیلابی ریلے نے ہر طرف ویرانی مچا دی ہے۔ قہر انگیز سیلابی ریلے خوفناک انداز میں بستیوں میں سے گھسنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ، درختا ن ، بجلی کے کھمبے، مویشی اور گھریلوں اشیاء جیسے تاش کی پتوں کی طرح سیلاب میں بہنے لگے۔ سیلا ب کی زد میں سرکاری عمارتوں سمیت ایک مسجدشریف ،ایک کٹھار،ایک پبلک با تھ روم اونصف درجن رہائشی مکانات کے علا وہ کھڑ ی فصل، میو ہ اور پھلوں کو زبر دست نقصا ن پہنچا جبکہ بجلی اور پا نی کی سپلائی کے علاوہ زمینی را بطہ بھی منقطع ہو گیا ہے اور اس علاقے کی دو رابط سڑکوں بھی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔اس دوران ضلع ا نتظامیہ نے متا ثر ہ علا قے میں راحت کاری کیلئے بڑے پیمانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ گذشتہ شب کے دوران ترا ل کے ایک پہا ڑی علاقہ ذوستا ن میں منگل اور بد ھ کی درمیا نی شب قر یباً بارہ بجے اس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی جب لوگ گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اچانک بجلی کڑکی اور دھماکے شروع ہوئے۔ بادل پھٹنے سے پورا علا قہ جیسے پھٹنے لگا اور وہاں اس قدر خوف وہراس پیدا ہو گیا کہ بادل پھٹنے کی آوازوں سے لوگوں کے کان کے پردے جیسے پھٹنے لگے۔ بادل پھٹنے کے ساتھ ہی نز دیکی پہاڑی علاقے سے تیزی کے ساتھ خوفناک سیلابی ریلے آبادی کی جانب آنے شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے جیسے مذ کو رہ پہاڑ سے قیامت برپا ہونے لگی اور ہر طرف سے سیلابی پانی کے ریلے خوفناک انداز میں بستیوں میں سے گھسنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے رہائشی مکان، تعمیرات، سڑکیں، عمارتیں جیسے تاش کی پتوں کی طرح سیلاب میں بہنے لگے۔ چنانچہ دوران شب سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے اور تیزی کے ساتھ گھریلوں اشیاء مکئی کی فصل، درختا ن بشمول انسانوں کو اپنے ساتھ بہا لیجانے کی وجہ سے وہاں افرا تفری مچ گئی اور لوگ گہری نیند میں سے اچانک جاگ کر کے بچاو کی کوششوں میں لگ گئے لیکن اس سے قبل کہ وہ خود کو بچا پاتے سیلابی ریلے نے سونامی بن کر ان کیاملا ک کو بہا لیا۔ ہر طرف سے شورو محشر بپا تھا۔ سیلابی ریلے سے بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے لیکن رات کی تار یکی میں وہ سیلابی پانی میں بہہ گئے ، مویشی اور گھریلوں اشیاء کے ساتھ ساتھ رہائشی مکان، ، سرکاری و غیر سرکاری عمارتیں بھی ڈہنے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیلابی ریلے کے ساتھ مل کر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔ رات کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد جان بچاتے بچاتے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ لٹک کر خود کو سیلاب سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔