اداریہ

بارشوں سے اتنی گھبراہٹ کیوں؟

کئی روز کی مسلسل بارشوں نے وادی کے لوگوں کو گھبراہٹ اور تشویش پیدا کی، حالیہ بارشوں سے لوگوں کو ستمبر 2014 کے وہ مناظر یاد آئے جس میں وادی کے بیشتر علاقے زیر آب آئے اور آناً فاناً تباہی ہی تباہی مچ گئی۔ جس میں بیٹا باپ کواور باپ بیٹے کو بچانے کیلئے سہارا نہ دے سکا ۔ جس طوفانی سیلاب میں حاملہ عورتوں یہاں تک کہ زچگی کی حالت میں کئی عورتوں کو محفوظ مقامات پر جانے کے لئے میلوں پانی میں سفر کرنا پڑا۔ جس میں کئی انسانی جانوں کے تلف ہونے کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں مال و جائیداد تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ اس طوفانی سیلاب میں کسی کی دُکان، کسی کا مکان، کسی کی گاڑی، کسی کا آفس غرض ہر کسی کو اپنے اپنے لحاظ سے اس طوفانی سیلاب سے متاثر ہونا پڑا۔ یہی مناظر یاد آئے اور اسی کے پیش نظر وادی کے عوام میں اس بار زبردست گھبراہٹ پیدا ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ سیلاب متاثرین اب کی بار اتنے سہمے ہوئے ہیں اور اپنے اثاثے کو بچانے میں جٹ گئے۔ اس بار لگاتار بارشوں کی وجہ سے خاص کر شہر سرینگر کے لالچوک کے دُکانداروں میں ایسے بے چینی پیدا ہوئی کہ ستمبر 2014 جیسے واقعات رونما ہونے سے قبل ہی یہاں کے خاص کر دکانداروں نے قبل از وقت ہی اپنی دکانوں سے سامان نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اگر چہ ان دکانداروں نے اپنے طرح سے اپنا سامان محفوظ مقامات کی طرف شفٹ کیا مگر باری تعالیٰ کی مرضی اور فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے۔ باری تعالیٰ کی مرضی سے بارش تھم گئی اور سیلاب کا خطرہ ٹل گیا۔