نقطہ نظر

برطانیہ کو شرم دلانے میں ہچکچاہٹ

کلدیپ نائر
مجھے اپنے ہم وطنوں سے مایوسی ہوئی ہے۔ 69واں یوم آزادی معمول کے جوش و خروش سے منایا گیا۔ قومی پرچم نجی گھروں پر بھی لہرا رہے تھے لیکن برطانیہ نے اپنی 200 سال طویل مدت میں جو وحشیانہ مظالم کیے اس بارے میں کسی نے بھی کچھ نہ کہا۔ اور نہ ہی میں نے کسی کو جلیانوالہ باغ کے ہولناک واقعہ کو یاد کرتے دیکھا، جب برطانوی قیادت میں فوجیوں نے سیکڑوں پْرامن مظاہرین کو باغ کے تمام دروازے بند کر کے سیدھی گولیاں مار دیں۔
مجھے احساس ہے کہ ہمیں پرانی دشمنی کو اٹھائے اٹھائے نہیں پِھرنا چاہیے لیکن کیا برطانیہ کو ان کی سوچی سمجھی وحشیانہ کارروائیوں کی یاد دہانی بھی نہیں کرانی چاہیے جو پرتگالیوں اور فرانسیسیوں نے جنوبی افریقہ میں اپنی نو آبادیوں میں نہیں کیں لیکن برصغیر میں جو ہوا وہ سوچ بچار کا متقاضی ہے۔
بھارتی اسکولوں میں آج بھی جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے، اس میں برطانوی ظلم و بربریت کے ذکر سے گریز کیا جاتا ہے لیکن ہمارے بچوں میں اس خیال کی پرورش نہیں کی جانی چاہیے کہ برطانوی حکومت صرف اچھی اچھی ہی تھی۔ لندن بھی دیگر نو آبادیاتی طاقتوں کی طرح تھا جو ذرا سی نافرمانی پر مقامی لوگوں کو نہایت سختی کے ساتھ کچل دیتا تھا۔ اساتذہ کو کلاس میں طلبہ کو بتانا چاہیے کہ برصغیر میں مشہور ٹیکسٹائل پر پابندی لگا دی گئی تا کہ لنکا شائر ٹیکسٹائل ملیں خوب پھلیں پھولیں۔ یہ استحصالی نظام تھا۔
آزادانہ تجارت کی اجازت نہ تھی اور مشرقی بنگال میں جو ہوا وہ تو انتہائی ظالمانہ تھا یہاں باریک ترین ململ بنانے والے کارکنوں کے ہاتھ قلم کر دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہوتی کہ بعدازاں بنگال کے اس علاقے سے کتنی بڑی تعداد میں انقلابی نمودار ہوئے۔ ان کے ساتھ جس قدر وحشیانہ سلوک کیا گیا اس کا شاذ و نادر ہی کوئی تذکرہ ہوا۔
اس کے برعکس ہمارے پاس ’’جان کیا‘‘ جیسے برطانوی تاریخ دانوں نے ششی تھرور جیسے سابق وزیر کی توہین کرنے کی کوشش کی کیونکہ آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی تقریب میں اس نے سچ بولنے کی کوشش کی تھی۔ششی تھرور نے کہا تھا ’’جب برطانوی برصغیر میں پہنچے تو عالمی معیشت میں ہمارا حصہ 23 فیصدتھا لیکن جب وہ ہمیں چھوڑ کر گئے تو ہماری معیشت صرف 4 فیصدتک رہ گئی تھی۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب بہت سیدھا سادا ہے کیونکہ برصغیر پر حکومت برطانیہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی تھی۔
یہاں پر برطانیہ کی 200 سالہ حکومت کے دوران ملک کی جی بھر کر لوٹ کھسوٹ کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کا صنعتی انقلاب برصغیر کی صنعتوں کو تباہ کرنے پر ہی شروع ہو سکا۔ بدقسمتی سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے برطانیہ پر تنقید کے باعث ششی تھرور کو وزارت سے ہٹا دیا۔ جو ششی تھرور نے کہا وہ محض ایک عام انڈین کے جذبات کی عکاسی تھی یقیناً اس نے لاکھوں کروڑوں بے زبانوں کو زبان دی تھی۔ برطانوی تاریخ دانوں اور برطانوی عوام کے ساتھ بھی مسئلہ یہ ہے کہ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ انھوں نے کس قدر ظلم کیے ہیں۔
وہ اب بھی اسی خوش خیالی میں مبتلا ہیں اور خود ہی اپنی پیٹھ پر تھپکی دے رہے ہیں کہ انھوں نے کس طرح برصغیر کے مختلف علاقوں کو ایک وحدت میں پرولیا اور دنیا کی سب سے بڑی فلاحی سلطنت قائم کر دی حتیٰ کہ چرچل جیسے لیڈر کو برصغیر اور اس کے باسیوں کے بارے میں یہ کہنا پڑا کہ انڈیا محض ایک جغرافیائی اظہار ہے۔
یہ کوئی ایک ملک نہیں ہے ہمارے (انگریزوں کے بعد) اب اقتدار غنڈوں‘ بدمعاشوں اور لوٹ مار کرنے والوں کے ہاتھ آ جائے گا جہاں کے تمام لیڈر پست ذہنیت کے ہوںگے اور عوام کی حیثیت محض خس و خاشاک کی سی رہ جائے گی۔ ان لیڈروں کی زبانیں بڑی میٹھی ہوںگی لیکن عقل سے پیدل ہوں گے۔ وہ اقتدار کے لیے آپس میں لڑیں گے اور ملک سیاسی طور پر تباہ ہو جائے گا حتیٰ کہ ایک دن آئے گا جب پانی اور ہوا پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت نرم (سافٹ) ریاست کی حیثیت رکھتے ہیں اور برطانیہ کے ظلم و تشدد کو اجاگر ہی نہیں کر پائے۔ اس میں ایک ممکنہ استثناء نیتا جی سبھاش چندر بوس کا ہو سکتا ہے۔ ان کی سوچ کا انداز قدرے مختلف تھا۔ انھوں نے عہد نامہ قدیم کے فلسفے ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ دانت کے بدلے دانت‘‘ پر عمل کرتے ہوئے جرمنوں اور جاپانیوں کے تعاون سے انڈین نیشنل آرمی (INA) قائم کر لی۔ لیکن نیتا جی کو مہاتما گاندھی پسند نہیں کرتے تھے جو قومی تحریک چلا رہے تھے کیونکہ نیتا جی کا طرز عمل گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متصادم تھا۔
اس کے باوجود نیتا جی اتنے مقبول عام تھے کہ گاندھی جی نے انھیں بطور خاص کانگریس سے دور رکھا مبادا پارٹی کی قیادت خود ہی ان کی جھولی میں نہ آگِرے۔ انھیں بالآخر وطن چھوڑنا پڑا لیکن بدقسمتی سے انھوں نے جاپانیوں اور جرمنوں کی فورسز پر بھروسہ کر لیا تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے گاندھی کے فلسفے کے متبادل اپنا ایک الگ راستہ پیدا کر لیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ گاندھی جی کو ملکی حالات کی سمجھ زیادہ تھی۔
گاندھی جی کی بصیرت انھیں بتا رہی تھی کہ برطانیہ جیسی دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کر کے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ گاندھی جی نے اپنے مصائب اور قربانیوں سے برطانوی عوام کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کی اور دنیا کو بھی یہ بتانے کی کوشش کی کہ برطانوی نو آ بادی کس قدر ظالم تھی۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے بابائے قوم (مہاتما گاندھی) کے بارے میں چرچل کے ہتک آمیز ریمارکس کے باوجود کہ ’’وہ بیچارہ تو مڈل ٹیمپل کا ایک وکیل ہے جو فقیروں کا بھیس بنا کر نیم برہنہ انداز میں وائسرائے کے محل کی سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کرتا ہے، اور برطانیہ کے شہنشاہ کے ساتھ برابر کی بنیاد پر بات چیت کرنے کی تمنا دل میں رکھتا ہے۔
برطانیہ آج کے دن تک یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ 35 لاکھ کی تعداد میں مضبوط انڈین فوج ایک رضا کار فوج تھی حالانکہ ان کی زیادہ سے زیادہ جو تعریف کی جاسکتی ہے وہ یہ کہ یہ سب کرائے کے قاتل تھے جو کسی کے لیے بھی لڑ سکتے تھے خواہ یہ برطانوی حکومت ہو یا مہاراجے یا نواب، جو بھی انھیں پیسے دے اس کے لیے وہ جنگ لڑ سکتے تھے۔ لندن نے تو انھیں دونوں عالمی جنگوں میں انتہا درجے کی بے رحمی کے ساتھ اپنی توپوں کے گولہ بارود کے طور پر استعمال کیا۔
جب جرمنوں نے پہلی جنگ عظیم میں برطانوی مورچوں پر زہریلی گیس کا حملہ کیا تو سب سے زیادہ ہلاکتیں انھی فوجیوں کی ہوئیں لیکن یہ رضا کارانہ ہلاکتیں نہیں تھیں بلکہ انھیں باقاعدہ طور پر موت کے منہ میں دھکیلا گیا تھا۔ میری خواہش ہے کہ دولت مشترکہ کا جنگی قبروں کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن ان انڈین فوجیوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کرے اور صرف یہ رٹ نہ لگاتا رہے کہ دونوں عالمی جنگیں صرف سفید فام فوجی دستوں نے لڑیں حالانکہ ہمارے فوجیوں کی اموات بھی اتنی ہی الم ناک ہیں جتنی کہ سفید فام فوجیوں کی۔ ہماری بھی مائیں‘ باپ‘ بہنیں‘ بھائی ہوتے ہیں۔
شیکسپیئر کے مشہور ڈرامہ مرچنٹ آف وینس میں شائیلاک کہتا ہے اگر آپ ہمیں تلوار چبھوئیں تو کیا ہمارا خون نہیں نکلے گا اور گر آپ ہمیں گدگدائیں تو کیا ہماری ہنسی نہیں نکلے گی؟ برطانیہ کے بے حس حکمرانوں نے کبھی ہم کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)