خبریں

برطانیہ کے شاہی تخت کے نئے جانشین کا انتظار

کرشن بھاٹیہ
انگریز اگر کسی کا سب سے زیادہ دیوانہ ہے تو وہ ہے شاہی خاندان۔ شاہی خاندان سے متعلق کیسی بھر خبر ، کیسی بھی گپ شپ ہو جتنی دلچسپی سے وہ پڑھی جاتی ہے کوئی دوسری بات نہیں۔آج کل دلچسپی اور بحث گرما گرم موضوع ہے لڑکا یا لڑکی؟
سارا انگلینڈ بڑی بے تابی سے انتظار کر رہا ہے نئے مہمان کی اس دنیا میں آمد کا۔ مہارانی ایلز بیتھ کے بڑے پوتے شہزادہ ولیم کی بیوی کیٹ ماں بننے والی ہیں کسی بھی دن۔ حالانکہ ماں کے پیٹ میں بچے کے جنس کا پتہ لگانا آج کے زمانے میں کوئی بڑی دلچسپی یا اندازہ کی بات نہیں رہی۔
چھوٹے سے سائنسی ٹیسٹ نے اسے معمولی سی بات بنا دیا ہے لیکن برٹین کے شاہی خاندان میں آنے والے نئے مہمان کے جنس کی بات کو ابھی تک اسرار میں ہی گیا ہے۔ اس لئے اندازے اور قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ؟ اسی طرح نئے بچے کی آمد کی تاریخ کو ابھی تک راز میں ہی رکھا جا رہا ہے۔
خیر ، لڑکا ہو یا لڑکی‘ انگلینڈ کے شاہی تخت کے جانشین کے طور پر اس کا نمبر تیسرا ہو گا۔ پرنس ولیم اور پرنسیس کی پہلی اولاد ہوگی۔ مہارانی ایلز بیتھ کے موت کے بعد شاہی تخت بیٹھنے کے پہلے حقدار ویسے تو ان کے سب سے بڑے بیٹے پرنس چارلس تھے لیکن انہو ں نے یہ حق غیر رسمی طور پر اپنے بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے حق میں چھوڑ دیا ہے جس سے شہزادہ ولیم پہلے جانشین بن گئے ہیں اور دوسرے نمبر پر ہیری۔ اگلے نمبر پر ہوگی شہزادہ ولیم کی پہلی اولاد جس کا اسوقت بڑا بیتابی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
روایتی طور پر انگلینڈ کے شاہی تخت پر جانشین کے طور پر پہل لڑکے کی ہی ہوتی ہے۔ لیکن 1952میں کنگ جارج ششم کی موت کے وقت ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا اس لئے بڑی بیٹی ایلزبیتھ کو مہارانی بنایا گیا۔
لیکن شہزادہ ولیم کی اولاد بیٹا یالڑکی کے بعد یہ حالت بدل جائے گی دوسرے نمبر کا جانشین ہونے کا حق شہزادہ ہیری سے چھن جائے گا۔ اگر کیٹ لڑکی کو جنم دیتی ہیں تو پرانی روایت کے مطابق ولیم کے بعد گدی پر حق ہیری ہی کا رہتا لیکن اب قانون میں ترمیم کردی گئی ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی۔ تخت کی اگلی جانشین وہی ہوگی۔ اس لئے اندازے اور شرطیں تو لگ ہی رہی ہیں ساتھ ہی بچے کے پیدا ہونے کی تاریخ پر بھی زور شور سے داؤ لگائے جا رہے ہیں۔ ڈیلیوری کے لئے وہی اسپتال اور اس اسپتال کا وہی پرانا کمرہ مقرر کیا گیا ہے جہاں شہزادہ چارلس کی مرحوم بیوی شہزادی ڈائنا نے شہزادہ ولیم کو جنم دیا تھا۔ انگلینڈ کا شاہی خاندان پرانی رسموں اور روایات کی تقلید بڑی شدت سے کرتا ہے۔
آج بھلے ہی ٹیلی فون ، موبائل اور ای میل وغیرہ مواصلات کے تیز رفتار ذرائع ہیں لیکن پرانے دقتوں میں جب یہ سہو لتیں نہیں ہوتی تھیں تو اسپتال میں نومولودشاہی بچے کی آمدکی خبر کو محل میں بیتابی سے انتظار کر رہے راجہ رانی تک پہنچانے کے لئے تیز رفتار گھوڑوں پر فوجی بھیجے جاتے تھے او ربچے کے آنے کی اطلاع لکھ کر بکنگھم پلیس کے باہر ایک بورڈ پر لگائی جاتی تھی۔ جون 1982میں شہزادہ ولیم کے پیدا ہوتے ہی بکنگھم پلیس کے باہر اطلاع لکھ کر لگا دی گئی۔ اسی روایت پر عمل شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ کی اولاد کے لئے بھی کیا جا رہا ہے۔ نو مولودبچے کی آمد کی خبر سب سے پہلے مہارانی ایلز بیتھ کو فون موبائل یا کسی دوسری ذریعہ سے نہیں بلکہ تیز رفتار موٹر سائیکلوں پر سوار فوجی پہنچائیں گے۔ لڑکا ہے یا لڑکی عوام کو یہ اطلاع اس کے بعد ہی دی جائے گی۔