نقطہ نظر

بلندی 23 ہزار فٹ، درجہ حرارت منفی 41

کلدیپ نائر
گزشتہ دنوں میں سیاچن گلیشیئر پر بھارت کے مزید فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ بے مقصد ہلاکتیں ہیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنی فوجوں کو 23000 فٹ کی بلندی پر تعینات کرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے جہاں کا درجہ حرارت منفی41 ڈگری ہے۔ دونوں ملکوں کو میز پر بیٹھ کر اس افسوسناک صورتحال کا کوئی مناسب حل تلاش کرنا چاہیے۔
لیکن اس کے برعکس نئی دہلی اس معاملے کو اپنے فوجیوں کی قربانی سے تعبیر کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات سرکاری طور پر ادا کرنے کو ہی بڑا اعزاز سمجھتا ہے۔ تقریباً ایک عشرہ پہلے پاکستان کے 180 فوجی برفانی طوفان میں دب کر جان سے گزر گئے۔ اس پر دونوں ملکوں نے سیاچن کے معاملے پر بڑی تفصیلی گفتگو کی اور ایک سمجھوتے پر پہنچ گئے۔
اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے بات چیت شروع کرائی لیکن وہ کسی معاہدے پر دستخط نہ کرسکے کیونکہ ہماری مسلح افواج نے شور مچا دیا کہ یہ گلیشیئر تزویراتی طور پر ان کے لیے بہت اہم ہے حالانکہ یہ ایک بے معنی بات تھی۔ میں نے اس معاملے پر ذاتی طور پر چوٹی کے ریٹائرڈ فوجی افسروں سے بات کی تھی جنہوں نے تزویراتی پہلو کو مسترد کر دیا مگر اس کے باوجود فوجیوں کو اتنی زیادہ بلندی پر پھنسا رکھا گیا ہے۔
یہ جنرل پرویز مشرف تھے جنہوں نے صورت حال خراب کی۔ انھوں نے ہی بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے بس پر بیٹھ کر لاہور آنے کے بعد فوجیوں اور قبائلی افراد کو اس گلیشیئر پر تعینات کرایا۔ وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح یہ سوچتے تھے کہ پاکستان بھارت کو شکست دے سکتا ہے لیکن انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا جس کو انھوں نے برسرعام تسلیم کر لیا اور کہا کہ وہ آیندہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ انھوں نے تاریخ سے سبق سیکھ لیا ہے۔
کرگل کی جنگ میں بھارت کا شروع میں بہت نقصان ہوا لیکن اپنی فوج کی کثرت کے باعث وہ سنبھل گیا البتہ اس کے بعد سے صورت حال معمول پر نہیں آ سکی۔ گاہے بگاہے ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں میں پہلے سے موجود خلیج اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ غالباً کچھ ایسے عناصر ہیں جو دونوں ملکوں میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتے۔
پٹھانکوٹ کا واقعہ ایک حالیہ مثال ہے۔ یہ واقعہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی طے شدہ ملاقات سے چند روز قبل پیش آیا تاہم نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں اتنے باشعور ضرور ہو چکے ہیں کہ انھوں نے مذاکرات کو توڑنے کے بجائے ری شیڈول کر دیا لیکن یہ حقیقت بہرحال وہیں ہے کہ مذاکرات ابھی تک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے فوری طور پر ہونے کے آثار نمایاں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاچن گلیشیئر اپنے طور پر ایک متنازع معاملہ ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو اور زیادہ خراب کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس مسئلے نے بھی سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ اس کا مثالی حل یہی ہو سکتا ہے کہ گلیشیئر کو ’’نو مینز لینڈ قرار دے دیا جائے۔
شملہ کانفرنس کے نتیجے میں کنٹرول لائن وجود میں آئی لیکن اس کنٹرول لائن کو گلیشیئر تک توسیع نہ دی جا سکی کیونکہ ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا لہٰذا اس معاملے کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا۔ اب کسی پر الزام لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ دونوں ملکوں کو اس تلخی پر قابو پانا پڑے گا جو کہ اس وقت سے بہت گہری ہو چکی ہے۔ دونوں ملک اب بھی اس ٹوٹے ہوئے سلسلے کو وہیں سے جوڑ سکتے ہیں جہاں پر شملہ معاہدے میں جوڑا گیا تھا۔
اگر گلیشیئر کو ‘‘ نو مینز لینڈ’’ بنا دیا جائے تب دونوں فریقوں کو شملہ معاہدے پر لفظی اور معنوی طور پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔ گزشتہ مرتبہ بھی پھر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی حکومت کو پاکستان کی طرف سے ’’سنو شوز‘‘ منگوانے کی اطلاع دی تو بھارت نے بھی اپنے فوجی گلیشیئر پر تعینات کر دیے۔ بہر حال اس وقت وقت تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا جب تک دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں۔
بھارت اور پاکستان شاذ و نادر ہی کسی بات پر متفق ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دونوں نے اپنے کندھوں پر تقسیم کا بھاری بھرکم ملبہ اٹھا رکھا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ انھیں ایک دوسرے پر کوئی اعتبار نہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ بھارت میں عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں سارے معاملات اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں لہٰذا اس وقت تک کوئی بامعنی تعلق قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ مکمل جمہوری طریقوں پر عمل درآمد نہ کرایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب 1958ء میں جنرل ایوب خان نے پاکستان کا اقتدار سنبھال لیا تو بھارت نے یہ سوچ لیا تھا کہ اب دونوں ملکوں میں معمول کے تعلقات کی بحالی کا کوئی امکان ہی نہیں رہا۔
جنرل ایوب نے تو ’’مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کی پیش کش بھی کی تھی۔ جس پر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے طنزیہ طور پر کہا تھا ’’مشترکہ دفاع کا معاہدہ کس کے خلاف؟‘‘ بعد میں آنے والی دو فوجی حکومتوں کے سربراہوں‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کو نئی دہلی نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ بھارت کو یقین تھا کہ وہ دونوں خالصتاً فوجی نکتہ نظر سے سوچتے ہیں جس میں کہ قیام امن کی کوئی گنجائش نہیں۔
بہرحال جب جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف تھے تو انھوں نے ’’پرامن بقائے باہمی کا نکتہ نظر پیش کر کے بھارت کی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ تجویز کہ سول اور ملٹری قیادت مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں جو کہ کسی حد تک مبہم بات تھی۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے تھا کہ بھارت کی فوج کا فیصلہ سازی میں کوئی عمل دخل نہیں جو بنیادی طور پر منتخب نمایندوں کا کام ہے۔ جنرل کیانی کی تجویز سیاچن گلیشیئر تک محدود نہ رہی۔ انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین امن کا معاملہ عقابی سوچ کا یرغمال بنا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسی کھڑکی کھولنا چاہتے تھے کہ دونوں ملک تعلقات کو معمول پر لانے میں رضا مند ہو سکیں۔
میری خواہش ہے کہ جنرل کیانی کی تجویز پر بیک چینل ڈپلومیسی کو کارفرما کیا جاتا لیکن نئی دہلی حکومت اس وقت سرکاری طور پر اس کا جواب دینے میں ناکام ہو گئی۔ میڈیا نے اس تجویز کا بڑے محتاط انداز میں خیرمقدم کیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا بھارتی فوجی سیاچن گلیشیئر سے واپس چلے جائیں جب کہ پاکستان نے یکطرفہ طور پر انخلا سے انکار کر دیا تھا یہ تجویز اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پیش کی تھی۔
تاریخ حالات کو پھر اسی مقام پر لے آئی ہے کیونکہ نواز شریف پھر وزیر اعظم کی مسند پر براجمان ہیں۔ اب انہی کو پیشرفت کرنی چاہیے خصوصاً جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کابل سے واپسی پر لاہور کا وزٹ کر کے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ دونوں سربراہ نئی دہلی یا اسلام آباد میں ملاقات کر کے اس سمجھوتے کو نافذ کر سکتے ہیں جس کو راجیو گاندھی نے شروع کیا تھا۔ انھیں احساس کرنا چاہیے کہ جب تک پاکستان اور بھارت میں معمول کے تعلقات بحال نہیں ہونگے پورا خطہ تعمیر و ترقی سے محروم رہے گا۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ غریبوں کی تعداد اسی خطے میں ہے لہٰذا دونوں لیڈروں کو پرانی دشمنی دفن کر دینی چاہیے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)