اداریہ

بندوق بدحالی کی وجہ

بندوق بدحالی کی وجہ

ریاست کیلئے اندرونی خودمختاری اور اقتصادی خو دانحصاری ناگزیر ہے۔ ریاست کی پسماندگی اور مالی و معاشی بدحالی ملی ٹنسی کی مرحون منت ہے لہٰذا مسائل کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے کیلئے مزاحمتی قائدین کو آگے آکر اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ بندوق ریاست کی پسماندگی وجہ ہے۔ ریاست میں تعمیر و ترقی اور اقتصادی و معاشی بہتری کیلئے امن و امان کا ہونالازمی ہے، موجود ہ سرکار نے قیام امن کی طرف خاص توجہ دی۔ 23سال قبل جب ریاست میں ملی ٹینسی کے دور کی شروعات ہوئی ،تو اس وقت ریاست تعمیر و ترقی اور افرادی آمدن کے معاملے میں دیگر ریاستوں سے کہیں آگے تھی۔ بندوق نے ریاست کو پیچھے دھکیل دیا جس کے نتیجے میں نہ صرف تعمیراتی اور ترقیاتی اعتبار سے ہمیں نقصان اٹھاناپڑا بلکہ معاشی بدحالی کے نتیجے میں عام آدمی کی آمدن بھی گھٹتی چلی گئی۔ بندوق کی وجہ سے نہ صرف ریاست اقتصادی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی بلکہ بندوق کی وجہ سے قیمتی جانوں کا زیاں بھی ہوا۔ ان باتوں کا اظہار ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے جانوں کے زیاں اور حقوق انسانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ریاستی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس بات کی طرف توجہ دی گئی کہ سیکورٹی اور امن و قانون کی صورتحال میں بہتری لائی جائے تاکہ ریاستی مشینری کو کام کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے 2008کے اسمبلی انتخابات تعمیر وترقی کے نام پر لڑے اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ سرکار نے گزشتہ5برسوں کے دوران عام لوگوں کے مشکلات کو دور کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتخابات کا جموں و کشمیر کے مسئلے سے کوئی لینا دینانہیں ہے۔ جموں و کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو سیاسی طور مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے جبکہ ریاست میں ہونے والے انتخابات کا اس مسئلے سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ انتخابات کے ذریعے لوگ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ انتظامی اور عوام سے جڑے معاملات کو چلایا جا سکے۔ سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے پر ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔مرکزی حکومت کی نوٹس میں بھی یہ بات لائی گئی کہ مذاکرات اور امن کا عمل شروع کرکے ہی مسائل کوپْر امن طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ دلی اور کشمیری لیڈر شپ کے درمیان ایک پْل کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے کیلئے تیار ہیں تاکہ مذاکرات کا ایک ایسا عمل شروع کیا جائے جس کے نتیجے میں سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست میں پائیدار امن و امان کے قیام کو بھی یقینی بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کو دو بارہ دہرایا کہ وہ افسپا کو ہٹا کر ہی دم لے گا چا ئیے ان کی حکو مت ہو یا نہ ہو لیکن وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گے جب تک نہ افسپا کو ریاست سے نکال باہر کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جمو ں کشمیر کے عوام پی ڈی پی کے کھو کھلے نعروں سے بخوبی واقف ہے۔پی ڈ ی پی نے ہر محاذ پر ان کی جماعت کے خلاف تمام وسائل بروئے کار لائے تاہم ان کی تمام کو ششوں کو نا کام بنا دیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب پی ڈی پی نے 2002میں الیکشن لڑا تو انہوں نے ہر گھر میں دو نو کریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نو جوان ہمارا مستقبل ہیں اور ہماری حکومت بے روز گاری کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔