نقطہ نظر

بنگلہ دیش راہ بھول گیا

کلدیپ نائر
جب انقلاب وقوع پذیر ہوئے چار دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی آزادی اور عدل و انصاف کی فریاد کے لیے شورو غوغا بلند ہوتا ہو تو اس کا یہی مطلب نکلتا ہے کہ انقلاب سیدھے رستے پر نہیں رہا۔ اگر ہڑتالیں اور مظاہرے اسی تواتر سے ہو رہے ہوں، تو پھر منظر اور بھی افسوسناک محسوس ہوتا ہے۔ تو133 بنگلہ دیش میں یہی کچھ ہو چکا ہے۔
ملک کے پہلے وزیر خارجہ کمال حسین نے یہی سب کچھ بتانے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے۔ میری خواہش ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کے قیام کے بارے میں بہت کچھ اور بھی لکھا ہوتا اور یہ بات واضح کی ہوتی کہ جس سیکولر جمہوریت کے لیے جو جدوجہد کی گئی تھی وہ ناکام کیونکر ہوئی۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد انقلاب تھا جو مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے بالاتر تھا اور اسے ایسے جمہوری نظام کی بنیاد تصور کیا گیا جس میں مذہب کا کوئی دباؤ نہ ہو۔ کمال حسین کی تمام کہانی یہ بات واضح کرنے سے قاصر ہے کہ جس ملک نے تعصب کے خلاف آہنی عزم سے جنگ کی ہو وہ انتہا پسندی کے مقابل یکدم ڈھیر ہو جائے۔
زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب مشرقی پاکستانیوں نے 1970ء کی دہائی میں پاکستان سے آزادی حاصل کی تھی اور خود کو بنگلہ دیشی کہلانے لگے۔ ایک مسلمان قوم نے دوسری مسلمان قوم سے جنگ لڑی اور مذہب کے نام پر کی جانے والی اپیلوں کو درخور اعتنا نہ سمجھا بلکہ انھیں بے موقع قرار دیا۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بنگلہ دیشی مذہب کے نام پر ہی آپس میں برسرپیکار ہو گئے اور تنگ نظری پر مْصر نظر آئے۔ کمال حسین کو یہ حقائق واضح کرنا چاہیں تھے کہ انقلاب سے پہلے دیکھے گئے سارے خواب کیونکر چکنا چور ہو گئے کہ مذہب سیکولر ازم پر حاوی ہے۔ ان دنوں بنگلہ دیش جو منظر نامہ پیش کر رہا ہے اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ انتہا پسندی نہ ختم ہونے والی چیز ہے اور بہت کم لوگ اس سے بلند ہوکر سوچتے ہیں۔
اگر بنگلہ تحریک آزادی کا خاکہ کھینچیں تو یہ تحریک بنگلہ دیشیوں کی تعصب اور طیش کے خلاف فتح کی داستان سناتی ہے۔ یہ تحریک ایک ایسے نظریئے کی علمبردار تھی جس نے عمومی نوعیت کے مفادات سے صرف نظر کیا۔ یہ داستان طویل فاصلے پر واقع راولپنڈی سے آزاد ہونے کی نہیں تھی۔ یہ مساوات کے نظریے پر مبنی ایک نظام اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی تحریک تھی جو فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر تقسیم کے خلاف برسرپیکار ہو جائے۔ پاکستانی فوج کے نو مہینے کے آپریشن نے حکومتی نظام و انصرام کے تار و پود بری طرح بکھیر دیے اور خطے پر آمریت مسلط کر دی۔ علاوہ ازیں غریب اور کمزور بنگلہ دیشیوں کے خلاف نفرت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ غریب بنگلہ دیشی جو اپنی شناخت ظاہر کرنے پر خوف زدہ تھے، ان کے لیے اب صرف بغاوت کا ہی ایک راستہ رہ گیا تھا۔
شیخ مجیب الرحمان نے، جو بابائے قوم بھی کہلائے، کہا کہ ہم بغاوت کے سوا اور کیا کر سکتے تھے۔ بنگلہ دیش کی تباہی کے ضمن میں یہ اعداد و شمار سامنے آئے کہ 14 ملین غریب کسانوں میں سے 2.44 ملین برباد ہوئے۔ باقی ماندہ کے مویشیوں، آلات کھیتی باڑی اور بیجوں کو تباہ کیا گیا۔ 56 ملین رہائشی آبادیوں بشمول پختہ و نیم پختہ مکانات و جھونپڑیوں کو زمین بوس کیا گیا۔ علاوہ ازیں بقول مجیب الرحمٰن ہمارے 18000 ٹرکوں میں سے 12000 کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ کرنسی نوٹ جلا دیے گئے اور بیرونی زرمبادلہ لوٹ لیا گیا۔ ہمارے خوراک کو ذخیرہ کرنے والے گوداموں کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا۔ جب مجیب نے حکومت سنبھالی تو اتنے بڑے پیمانے پر کی جانے والی تباہی نے عوام الناس کی نارمل زندگی کے تمام امکانات معدوم کردیے تھے۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ نظام کو درست کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن اس کی اپیل کا عوام پر کوئی اثر نہ ہوا جو انقلاب کے بعد فوری اور مثبت نتائج دیکھنا چاہتے تھے۔
عوام نے صرف ایک معجزہ 133 آزادی کا معجزہ۔ ظہور پذیر ہوتے دیکھا تھا۔ مگر وہ معاشی ترقی اور خوشحالی کی صورت میں دوسرے معجزے کے بھی متمنی تھے۔ لیکن تعمیر کو ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ عوام صبر نہیں کر پا رہے تھے اور آزادی کی وہ آگ جو سینوں میں بھڑک رہی تھی وقت کے ساتھ ساتھ بجھتی چلی گئی۔ دوسری طرف آزادی مخالف عناصر بھی تھے جو پہلے تو خاموش رہے لیکن ایک وقت پر وہ ثابت کرنے پر تل گئے کہ آزادی کا عمل بے معنی تھا اور یہ کہ پاکستان کے ساتھ رشتہ نہیں ٹوٹنا چاہیے تھا۔ اور آزادی کے لیے لڑنے والے انقلابی بھی حکومت سے فوری اصلاح اور بہتری کے خواہاں تھے۔
ملک میں بندوقیں زیادہ ہو گئی تھیں جنھیں مفید خیال کرنے والوں میں صرف پرجوش کارکن ہی نہیں تھے وہاں دوسرے بھی تھے جو مختلف سیاسی رنگوں میں رنگے ہوئے تھے اور ان میں سادہ پوش بھی تھے جن کا کسی سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں۔ مجیب کا شخصی سحر بس ایک حد تک ہی کارگر رہا۔
ایک اندازے کے مطابق 100,000 سے 200,000 تک ہتھیار کبھی واپس جمع نہیں کرائے گئے۔ اس سرزمین میں اندر ہی اندر تشدد کی آگ دبی ہوئی تھی اور آزادی کی جدوجہد مکمل ہونے کے بعد یہ آگ انتقام کی صورت میں بھڑک اٹھی۔ بہرحال بنگلہ دیشی لیڈروں کے لیے سب سے زیادہ غیر متوقع بات بھارت دشمن جذبات کا فروغ تھا، حالانکہ یہ وہ ملک تھا جس نے آزادی حاصل کرنے میں ان کی مدد کی تھی۔ بنگلہ دیش کے ایک وزیر اعظم تاج الدین نے خود مجھ سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں چاہتا ہوں کہ میں آج مر جاؤں کیونکہ اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اس قدر اچھے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ اپنی زندگی میں ان تعلقات کو بگڑتے ہوئے دیکھوں۔ لیکن جب میں نے مجیب سے ملاقات کی تو انھیں کوئی تشویش نہیں تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں بعض عناصر جنھیں بین الاقوامی مفادات رکھنے والی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، انھوں نے بھارت کے خلاف سرگوشیوں کی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن وہ آپ کے عظیم ملک کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات کو کبھی بھی خراب نہیں کر سکیں گے۔ ایک بنگلہ دیشی تو اس شخص کو بھی کبھی فراموش نہیں کرتا جس نے اسے پانی کا ایک گلاس پینے کو دیا ہو جب کہ آپ نے تو ہمارے عوام کے لیے اپنی جانیں تک قربان کی ہیں۔ وہ آپ کی اتنی بڑی قربانی کو آخر کیسے بھول سکتے ہیں؟ آپ نے بنگلہ دیش راہ بھول گیا
ایک کروڑ سے زائد پناہ گزینوں کا دس ماہ تک بوجھ اٹھایا ہے۔ حتیٰ کہ اب بھی آپ ہمیں خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کر رہے ہیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے لوگ احسان فراموش نہیں۔ لہٰذا جو تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنی سازش میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔
ڈھاکہ میں دفتر خارجہ اب بھی بیرونی ممالک کے ان ریمارکس پر چین بہ جبیں ہو جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کی پالیسیاں نئی دہلی کی کاربن کاپی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ ’’اگر ہم کہیں نہ کہیں آپ کی مخالفت کریں تو اس کا مقصد صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ اپنی آزادی کے تاثر کو ابھار سکیں۔ انھوں نے چھوٹی قوم ہونے کے اپنے احساس کی نفی کر دی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیشی حکام محض اپنی الگ شناخت کو قائم رکھنے کی خاطر بھارت کی مخالفت کا تاثر دیتے رہیں گے۔ بھارت کا حجم بہت بڑا لگتا ہے۔ بہت سے سول سرونٹ اچانک اس احساس میں مبتلا ہو گئے کہ وہ ایک بہت چھوٹے ملک کے ملازم تھے جو ترقی یافتہ بھی نہیں تھا، وہ اب بھارت دشمنی کی باتوں میں ملوث ہوتے ہیں ’’آپ کا ملک بہت بڑا ہے اور پڑوسی ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے زیر نگیں نظر آتے ہیں‘‘۔
لیکن کمال حسین کی کتاب میں یہ ساری چیزیں نہیں ہیں۔ منزل پر پہنچنے کی خوشی کے ساتھ ناکامیوں کی مایوسی بھی شامل ہو گئی ہے۔ اس کتاب میں کوئی انکشاف نہیں ہے جس کا اس قسم کی کتابوں میں وعدہ کیا جاتا ہے۔ کمال حسین مجیب کے بارے میں کچھ باتیں بتاتے ہیں مگر انتظامی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کی خامیوں کا کوئی ذکر نہیں کرتے اور کئی اہم تاریخی حقائق سے بھی چشم پوشی کی گئی ہے مثلاً یہ کہ مجیب کو سزائے موت سنا دی گئی تھی جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے مداخلت کر کے انھیں رہائی دلوائی تھی۔ شاید کمال حسین ایک اور کتاب لکھیں جس میں یہ سب باتیں شامل ہوں۔