نقطہ نظر

بنگلہ دیش کو ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے

بنگلہ دیش کو ایک نئے آغاز کی ضرورت ہے

کلدیپ نائر
ڈھاکہ میں چند روز قبل تشدد کے واقعات کا رونما ہونا قابل فہم ہے کیونکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیاء نے شہر بند کرنے کی ایک کال دے رکھی تھی یہ ان کا گزشتہ برس 5 جنوری کو ہونے والے انتخابات کے خلاف احتجاج تھا جس میں شیخ حسینہ نے ایک ووٹ بھی کاسٹ ہونے سے پہلے ہی اکثریت حاصل کر لی تھی۔ لیکن اس کی زیادہ ذمہ داری خود بیگم ضیا پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے پولنگ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ ان کو شک تھا کہ انتخابات جعلی ہونگے لہٰذا حصہ لینا فضول ہے۔ لیکن بیگم ضیاء کا خیال درست نہ نکلا کیونکہ ان کے بائیکاٹ کے باوجود انتخابات منعقد ہوئے اور وسیع تناظر میں یہ آزاد اور منصفانہ تھے۔ جنرل ارشاد کی جاتیہ پارٹی نے انتخابات لڑا اور اس کے چند ارکان پارلیمنٹ میں پہنچ گئے جو آج پارلیمنٹ میں حکومت کی بڑی اپویشن ہے۔ اور یہ کہنا کہ شیخ حسینہ بہت خود سر ہیں کوئی نئی بات نہیں لیکن بیگم ضیاء نے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے شیخ حسینہ کے جبرو استبداد کو قانونی شکل دلوادی ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت فرد واحد کی حکمرانی ہے حتیٰ کہ عدلیہ بھی کوئی ایسا فیصلہ سنانے سے گریز کرتی ہے جس سے موصوفہ کی ناراضگی کا اندیشہ ہو۔ اور جہاں تک افسر شاہی کا تعلق ہے تو وہ محض ربڑ کی مہر بن چکے ہیں یعنی جہاں چاہو ٹھپہ لگوا دو۔ اب بیگم ضیاء نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ساری رات پارٹی آفس میں بند رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو۔ پولیس نے خود اعراف کیا ہے کہ انہوں نے سیکورٹی بڑھا دی تھی اور بیگم خالدہ کو ان کے گھر لے جانا چاہتے لیکن بظاہر ایسے لگتا ہے جیسے وہ کہیں اور جانا چاہتی ہوں تاکہ اپنے الیکشن بائیکاٹ کی پہلی سالگرہ پر دی جانے والی احتجاج کی کال پر عمل درآمد کر اسکیں۔ بنگلہ دیش نے ہزاروں  لوگوں کا خون دے کر آزادی حاصل کی ہے اور اب تک اس ملک کو پُر امن ہوجانا چاہیے تھا۔ لیکن جیسا کہ آزاد کرائے جانے والے دوسرے ممالک میں بھی ہوا ہے کہ فریڈم فائٹر خود آپس میں لڑائی شروع کر دیتے ہیں تا کہ اپنی بالادستی منوا سکیں۔ اس اعتبار سے بنگلہ دیش بھی کوئی مختلف ملک نہیں۔ جو بات زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے حالانکہ آزادی کی جدوجہد کرنے والوں اور جمہوریت کے محافظوں کو قیام بنگلہ دیش کے موقع پر جو وارثت ملی تھی اسے رائیگاں کر دیا گیا ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے حصول میں وہ کسی رکاوٹ کو قبول نہیں کرتے ۔ بنگلہ دیش بھی ایسی ہی کیفیات کا شکار ہے۔ ایک مرتبہ فوج نے ریاست پر قبضہ کر لیا اور اس پر حکمرانی کرنے کی کوشش کی لیکن فوج نے دیکھ لیا کہ بنگلہ دیشی عوام اپنے اوپر خود حکومت کرنا پسند کرتے ہیں خواہ اس میں انہیں کتنی ہی مشکل کا سامنا کیوں نہ ہو اور وہ کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ کریں۔ لہٰذا فوج اپنی انگلیاں دوبارہ جلانا نہیں چاہتی۔ دونوں بیگمات، شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء مسلسل لڑے جا رہے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اپنی باادستی قائم کرنے کے لئے ان کی اس لڑائی کی وجہ سے ملک کو کتنا نقصان پہنچے گا۔ بہر حال عوام نے یہ سیکھ لیا ہے کہ دونوں بیگمات کی طرف سے ہڑتال یا پہیہ جام کی کال کو نظر انداز کر دیا جائے تاکہ روزمرہ کی زندگی متاثر نہ ہو۔ یہاں یہ امر قابل ستائس ہے کہ بنگلہ دیش کی شرح نمو گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل 6% سالانہ پر مستحکم ہے۔ البتہ پر امن طور پر حکمرانی کا طریقہ کیا ہے؟ نئی دہلی حکومت جس نے بنگلہ دیش کو آزادی حاصل کرنے میں مدد دی وہ اب بھی ایک کردار ادا کر سکتی ہے لیکن وہ شیخ حسینہ کی حمایت کر رہی ہے کیونکہ اس خاتون کو سیکولر سمجھا جاتا ہے۔ بیگم ضیاء نے جماعت اسلامی کے ساتھ الحاق کر کے اپنے مستقبل کو دائو پر لگا دیا ہے کیونکہ جماعت کو بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے جس نے بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت کی تھی اور پاک فوج کا ساتھ دیا تھا۔ اسلام آباد اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کا انحصار جن انتہا پسند عناصر پر ہے ان کی اب بنگلہ دیش میں کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اسلام کے نام پر اپیل کے باوجود بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوری ریاست ہے۔ اگر چہ انڈین مسلم لیگ جس نے کہا کہ پاکستان بنایا اس کی بنیاد مشرقی بنگال میں ہی رکھی گئی تھی جو بعد ازاں مشرقی پاکستان کہلایا۔ یہاں بھی آزادی کی آوازوں کو خاموش نہیں کرایا جا سکا کیونکہ یہ اس علاقے کی خاصیت تھی۔ آج یہاں پر لوگ بڑی بھاری تعداد میں مذہبی بن رہے ہیں لیکن دل میں وہ آزاد خیال( لبرل) ہی ہیں۔ تقریباً دس لاکھ ہندوابھی تک وہاں رہتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں کوئی مداخلت نہیں کی جاتی ۔ پاکستان اگرچہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی اپنی پوری کوشش کر رہا ہے لیکن ماضی کی تلخ یادوں کی وجہ سے اسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہو رہی۔ تحریک آزادی کے دوران بنگلہ دیش کے چنیدہ نوجوانوں کا صفایا کر دیا گیا تھا تاکہ بنگلہ دیش کا قیام عمل میں نہ آسکے۔ گیری جی باس کی کتاب’ دی بلڈ ٹیلی گرام عرف مشرقی پاکستان میں بھارت کی خفیہ جنگ‘‘ میں ان واقعات کی تصدیق موجود ہے لیکن اس کتاب میں جو انکشاف کیا گیا ہے وہ دراصل بنگلہ دیش میں ہونیوالے واقعات کے بارے میں غلط خبریں ہیں جن کی امریکی سفارت خانے کے سٹاف نے تصدیق نہیں کی۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات کی رپورٹنگ میں حد سے زیادہ جانبداری سے کام لیا گیا تھا۔ اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہوا کیونکہ اس کا تقریباً تمام تر انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ امریکہ کہ زیر نگرانی ایک کنسورشیم قائم ہے جو ڈھاکہ میں زر مبادلہ کا کام کرتا ہے اور بنگلہ دیش کے’ ٹہ‘( روپیہ) کو بھاری تعداد میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرتا ہے۔ جب تک بنگلہ دیش کے لیڈر اپنے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے تو ان کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہی رہے گا اور بیرونی طاقتیںبھی ظاہر ہے کہ اپنی قیمت وصول کرتی رہیں گی۔