اداریہ

بچوں کی سکولوں اور کتا بوں سے دوری
کہیں ہما را مستقبل ہی تا ریک نہ ہو جا ئے !

بھا رت کے دیگر حصوں کے لئے بچوں کے سکولوں سے دور ہو نے کا یہ دوسرا سال ہے جبکہ جموں و کشمیر خاص کر وادی کے بچے لگا تا ر تیسرے سال سکولوں سے دور ہیں۔اگست 2019ء میں بھا رت کی مر کزی حکو مت کی جانب سے سابق ریا ست جموںو کشمیر کی خصوصی پو زیشن ختم کئے جا نے سے قبل ہی حکو مت نے یہاں کے سکولوں کو بند کر دیا تھا اور ما رچ 2020ء میں اگر چہ سکول کچھ دنوں کے لئے کھل بھی گئے تھے تاہم کورونا وائرس کے پھیلائو کے بعد سکول پھر سے بند کر دئے گئے اور یہ سکول اب لگا تا ر بند ہی پڑ ے ہو ئے ہیں ۔بچوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے سلسلے میں اگر چہ سکولوں کو بند کرنے کا منطق سمجھا جا سکتا ہے تاہم اب جبکہ کورونا وائرس کا پھیلائو کا فی حد تک کم ہو گیا ہے اور زندگی کی معمولات کا فی حدتک بحال ہو گئی ہیں ۔بازاروں میں گہما گہمی لوٹ آئی ہے، سر کا ری دفاتر میں کام کاج معمول کے مطابق ہو رہا ہے ،بینک اور دیگر تجا رتی و کا روبا ری ادارے اپنا کا م کا ج کر رہے ہیں ایسے میں سکولوں اور کا لجوں کو ہی کیوں بند کر رکھا گیا ہے ۔تین سال سے گھروں کے اندر بیٹھے بچوں کا کتا بوں سے شگف ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو تا جا رہا ہے ۔درس و تدریس کے عمل میں بچوں نے دلچسپی لینا چھو ڑ دیا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بچوں کے ذہن میں یہ با ت گھر کر کے بیٹھ گئی ہو کہ اب سکول کبھی کھلنے والے نہیں ہیں اور سکول جا نے والے بچوں کی ایک بڑ ی اکثر یت جن میں زیادہ بچے ان گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں ،نے کتا بوں کو طاق ِ نسیاں میں رکھ دیا ہے ۔حال ہی میں مر کزی حکو مت کی جانب سے قائم کی گئی ما ہرین کی ایک کمیٹی نے اپنی رپو رٹ بھارتی پا رلیمنٹ کو پیش کی جس میں انہوں نے اس با ت کی وکالت کی تھی کہ بچوں کوان کے گھروں کی چار دیواری تک ہی محدود کر نا ایک انتہا ئی خطر نا ک عمل ہے جس کے دور رس نتا ئج نکل سکتے ہیں ۔انہوں نے اپنی رپو رٹ میں کہا تھا کہ بچوں کی ذہا نت کی سطح گھروں کے اندر قید رہنے سے کم ہو گئی ہے اور ان کے رویے میں بھی تشویشناک تبدیلیاں رونما ہو نے لگی ہیں جن میں با ت با ت پر غصہ کر نا اور تنہائی پسندی بھی شامل ہے ۔کمیٹی نے پا رلیمنٹ سے سفارش کی تھی کہ سکولوں کو کھو لے جا نے کے حوالے سے ایک لا ئحہ عمل تر تیب دیا جا نا چاہئے تا کہ بچوں کو تعلیم و تعلم کی سر گرمیوں کے ساتھ وابستہ کر کے ذیلی اثرات سے بچایا جا سکے ۔وادی ٔ کشمیر چونکہ ایک شورش زدہ علاقہ ہے لہٰذاء یہاں کے عام لوگوں میں تنا ئو کی سطح پہلے ہی کا فی زیا دہ ہے اور ایسی صورتحال میں اگر بچوں کو کئی سال تک لگا تا ر سکولوں ،کا لجوں اور یو نیورسٹیوں سے دور رکھا جائے گا تو اس سے بچے ایک تو پُرا نا یا د کیا ہوا سب کچھ بھو ل جا ئیں گے اور دوسرا خد شہ یہ ہے کہ ذہنی تنا ئو کے شکا ر بچے طرح طرح کے غلط اور قبیح مشاغل میں مصروف ِ عمل ہو کر اپنے گھر کے ساتھ ساتھ پو رے معاشرے کے لئے ایک مسئلہ بن جا ئیں گے ۔حکومت نے اگر چہ آن لائین اور بعد میں کمیو نٹی کلا سز کے ذریعہ بچوں کو کتا بوں کے ساتھ جو ڑے رکھنے کی پہل کی تھی تاہم یہ با ت عیاں اور بیاں ہے کہ یہ طریقہ زیا دہ سودمند ثابت نہیں ہو سکا ہے اور اس کی وجہ سے مسائل کے حل کے بجا ئے مسائل الجھتے ہی جا رہے ہیں۔ایک با ت جو ہر انسان کی سمجھ سے با لا تر ہے وہ یہ کہ اگر ہماری زند گی کا ہر ایک شعبہ اب بحالی کی طرف گا مزن ہو کر معمول کی سر گر میاں انجام دینے کی تگ و دو میں ہے تو پھر حکومت کے لئے سکولوں کو کھو لنا کیوں ایک بڑا فیصلہ بنتا جارہاہے ۔کیا حکو مت کو اس با ت کا ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ تین سال سے کتا بوں سے دور بچے اس قوم کا مستقبل ہیں اور خدانخواستہ ان بچوں کی تعلیم متا ثر ہو گی تو ہما را مستقبل تا ریک ہو نے کے خد شات ہیں ۔