خبریں

بھاجپا سے کونسی مانگیں پوری ہوئیں؟

بھاجپا سے کونسی مانگیں پوری ہوئیں؟

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘ کے مترادف ڈھائی تین ماہ سے ڈرامہ بازی، شوشے بازی ، فریب کاری اور مکاری کی تمام حدیں پار کرکے پی ڈی پی جماعت نے پھر ایک بار زعفرانی رنگ میں رنگ کر بھاجپا کے ساتھ بغلگیر ہوئے، جس کی نشاندہی نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت نے پہلے ہی کی تھی۔پی ڈی پی کے پاس بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ اس جماعت کا قیام فرقہ پرست بھگوا جماعتوں نے زرکثیر صرف کرکے عمل میں لایا ہے۔ ان باتوں کا اظہار گذشتہ دنوں نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی عہدیداروں کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیشنل کانفرنس جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی ماہ تک محبوبہ مفتی بھاجپا پر مفتی محمد سعید کے ساتھ دھوکہ دینے کی دہائی دیتی رہی۔ ان ایام کے دوران بھاجپا کے ساتھ حکومت نہ بنانے اور سخت موقف اختیار کرنے کے شوشے پھیلائے گئے۔ پی ڈی پی والوں نے یہ تک کہا تھا کہ جب تک بھاجپا اعتماد سازی اور ایجنڈا آف الائنس پر تحریری طور پر ضمانت نہیں دیگی تب تک وہ حکومت نہیں بنائی گی۔انہوں نے کہا کہ اب کس نے محبوبہ مفتی کو تحریری طور پر لکھ کر دیا کہ وہ پوری طرح مطمئن ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے اسلام آباد میں گذشتہ ماہ ہوئے جلسے میں کہاتھا کہ ’’مجھے وہ حکومت نہیں چاہئے جس میں ریاستی عوام کی عزت اور وقار نہ ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ اسی جلسے میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھاجپا نے مفتی محمد سعید کے ساتھ دھوکہ کیا اور کم از کم مشترکہ پروگرام پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ لیکن دوسری جانب پی ڈی پی کی تمام لیڈر شپ نئی دلی اور ناگپور میں حکومت سازی کیلئے کشکول لیکر بھاجپا لیڈران کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے تھے۔ ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی والے ان ڈھائی ماہ میں عوام میں بہت قسم کے شوشے ڈالے، جن میں ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ افسپا کی منسوخی، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی، کے سی سی قرضہ جات معاف کرانے کے جیسے معاملات پر بھاجپا کے ساتھ حکومت سازی پر مذاکرات چل رہے ہیں۔ ساگر نے کہا کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ پی ڈی پی ان ڈھائی ماہ کے دوران بھاجپا سے کیا مانگ رہی تھی اور وزیر اعظم سے ملاقات میں پی ڈی پی والوں کے مطالبات میں سے کون کون سی مانگ پوری ہوئی۔ پی ڈی پی والے عوام کے سامنے ان باتوں کا خلاصہ کرنے سے کیوں کترا رہی ہے۔ ساگر نے کہاکہ اگر پی ڈی پی والوں کو پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنا تھا تو حکومت سازی میں ڈھائی ماہ کی دیری کیوں لگاکر عوام کے مشکلات میں اضافہ کیا گیا۔