خبریں

بھاجپا نے عدم برداشت و غنڈہ گردی کو جنم دیا

بھاجپا نے عدم برداشت و غنڈہ گردی کو جنم دیا

حریت (ع) چےئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بی جے پی نے ہندستان میں عدم برداشت اور غنڈہ گردی کی عفریت کو جنم دیا اور اسے پروان چڑھایاجو آج پورے ہندوستان کو نگلنے کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو پہلے کشمیری قیادت پر اس وقت استعمال کیا گیا جب یہ قیادت ہندوستان کے رائے عامہ کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت اور کشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں سے واقف کرانے کیلئے ہندوستان کی مختلف جگہوں کا دورہ کرنے کیلئے نکلی تھی۔میرواعظ عمرفاروق جو پچھلے پانچ دنوں سے اپنے گھر میں مسلسل نظر بند ہیں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں حکمرانوں اور سیاسی قیادت کی طرف سے بھارت میں دائیں بازو کی انتہا پسندی پر مبنی جارحانہ قوم پرستی کو حب الوطنی اور قومیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور جو کوئی اس جارحانہ سوچ کے ساتھ اتفاق نہیں رکھتا اس کو فوری طور قوم دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہندوستان کی تمام سیاسی حلقے ووٹ بنک کی پالیسی کو زیر نظر رکھتے ہوئے اس قسم کی منفی جارحانہ سوچ کی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہندوستان کے اندر نوجوانوں کا ایک طبقہ اس انتہاپسندانہ اور تنگ نظر رویے کیخلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور انتہا پسندانہ سوچ کے خلاف آواز بلند کرنے سے وہ کسی بھی طرح قوم مخالف یا غدار نہیں ہوسکتے۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ نوجوان سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کو درپیش کئی مسائل ہیں جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے کو انصاف کے اصولوں کی بنیاد پر حل کیا جانا ضروری ہے اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک نہ ان مسائل کو ان کے اصلی پیرایہ میں سمجھاجائے اور مثبت مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ میرواعظ نے جے این یو طلبہ ایسوسی ایشن کے صدر کنہیا کمار اور ایس اے آر گیلانی پر بغاوت کا الزام لگاکر ان کو گرفتار کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس اور بی جے پی کے غنڈوں کی طرف سے جارحانہ سوچ کی مخالفت کرنے والوں کو چن چن کر نشانہ بنائے جانے کو حددرجہ قابل مذمت قرار دیا ہے۔ میرواعظ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقعے پر بذریعہ ٹیلی فون اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی نے ہندستان میں عدم برداشت اور غنڈہ گردی کی عفریت کو جنم دیا اور اسے پروان چڑھایاجو آج پورے ہندوستان کو نگلنے کیلئے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو پہلے کشمیری قیادت پر اس وقت استعمال کیا گیا جب یہ قیادت ہندوستان کے رائے عامہ کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت اور کشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں سے واقف کرانے کیلئے ہندوستان کی مختلف جگہوں کا دورہ کرنے کیلئے نکلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں روکا گیا ، ہمارے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی گئی اور ہمیں بولنے یا اپنا نقطہ نظر پیش کرنے سے روکا گیا۔ اس طریقہ کار کی مذمت کرنے یا اس کے خلاف بولنے کے بجائے اس وقت اس پر زیادہ ترحلقوں نے پر اسرار خاموشی اختیار کی جب کہ کچھ حلقوں نے یہ کہہ کر اس کی حمایت کی کہ ہمارے ساتھ جو کیا گیا ہم اسی کے مستحق تھے۔ آج جب کہ یہ عفریت انہیں تنگ کرنے کیلئے آگے بڑھ رہا ہے تو وہ شور مچارہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری خاص کریو این او، او آئی سی اور ایسی دوسری تنظیموں کی طرف سے کشمیر میں جاری ظلم و ستم اور دھونس دباؤ کے بڑھتے ہوئے طرز عمل پر چشم پوشی اختیار کرنے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ دانش فاروق اور شائستہ حمید جیسے نوجوان اور ہونہار طالب علموں کو سرکاری فورسز کی جانب سے بے دردی کے ساتھ قتل کئے جانے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر غم اور مذمت کا وہ اظہار نظر نہیں آیا جو ایسے موقعوں پر ہوتا ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ اگر چہ کشمیری عوام کو کشمیر کے بارے میں صحیح حقائق سامنے رکھنے اور کشمیر میں حکومتی دہشت گردی کو منظر عام پر لانے کے سلسلے میں ہندوستانی میڈیا کے ساتھ انتہائی کم امیدیں وابستہ ہیں تاہم یہ بین الاقوامی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں آگے آکر کشمیر میں ہو رہی نا انصافیوں کو دنیا کے سامنے رکھے جس سے حکومت ہندوستان پر کشمیریوں کو قتل کرنے اور بے دردی کے ساتھ ظلم ستم روا رکھنے سے روکنے کیلئے دباؤ بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے نہتے انسانوں کا خون ، ٹارچر اور گھروں کو گرائے جانے کی کاروائی ،سیاسی کارکنان کی گرفتاری اور سیاسی قیادت کو گھروں یا جیلوں میں نظر بندکئے جانے کے حربے ہندوستان کی (سا لمیت کو بچانے )کے نام پر کئے جا رہے ہیں اور یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جس کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ ہے ایسے حربے استعمال کر رہا ہے اور اس ملک کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں ان حربوں کے خلاف آواز بلند کرنے کو قوم دشمنی اور غداری سے تعبیر کرتی ہیں۔