خبریں

بھاجپا کے ساتھ اتحاد نہیں ہوگا

بھاجپا کے ساتھ اتحاد نہیں ہوگا

ریاست میں بی جے پی کی کامیابی کیلئے نیشنل کانفرنس کانگریس حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پی ڈی پی صدر اورنومنتخب ممبر پارلیمنٹ محبوبہ مفتی نے بی جے پی سمیت کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پی ڈی پی اپنے بل پر اسمبلی چناؤ لڑے گی اور مفتی محمد سعید وزارت اعلیٰ عہدے کے امید وار ہونگے۔دفعہ370کی منسوخی کو ناممکن قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ اسی دفعہ کی وجہ سے کشمیر بھارت کا حصہ بنا ہے اور اگر یہی دفعہ نہ رہی تو رشتہ خودبخود ختم ہوجائے گااور بات رائے شماری تک پہنچ جائے گی جس کی دلّی متحمل نہیں ہوسکتی۔مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ پاکستان اس مسئلہ کا اہم فریق ہے اور اس مسئلہ کے حل میں علیحدگی پسندوں کا بھی رول بنتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کی 6پارلیمانی نشستوں میں3پر بی جے پی کی جیت کیلئے نیشنل کانفریس کانگریس حکومت کی بدحکمرانی ،کورپشن ،نااہلی اور لاقانونیت ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے این سی نے ہی99میں بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملا کر انہیں یہاں اعتباریت دی اور پھر 2008میں حکومت میں آکر یہاں بربادی کرکے بھاجپا کو تین سیٹیں دلائیں۔محبوبہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہی بھاجپا اس حد تک کامیاب ہوئی۔انہوں نے کہا ’’بی جے پی کو مخلوط سرکار نے ہی یہاں مضبوط کیا ،کانگریسیوں نے جموں میں اتنا کورپشن کیا کہ بھاجپا کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا،لداخ میں کیا ہوا ،لداخ میں ایک کانگریس اور ایک این سی کا امیدوار تھااور نتیجہ ہار کی صورت میں نکلا ‘‘۔بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کے نیشنل کانفرنس کے الزا م کو مسترد کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا’’میں اس کی وضاحت کیوں کروں جب کچھ ہے ہی نہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ایسے الزامات لگانا احمقانہ ہے،انہیں اس کی قیمت چکانا پڑی،ہمیں جموں سے الیکشن کیوں نہیں لڑتے ،ہم کوئی خیراتی دکان نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ چونکہ عمر کی سربراہی والی حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہا تو انہوں نے اب ایسے بیہو دہ الزامات لگانا شروع کئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’و ہ کہتے ہیں کہ جموں میں ہماری بھاجپا کے ساتھ مفاہمت تھی جو وہاں کانگریس کی ہار کی وجہ بنی لیکن عمر کشمیر کی تینوں سیٹیں کیوں ہارگئے،وہ لداخ کیوں ہار گئے ،اس کیلئے وہ کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے،بدحکمرانی ،کورپشن اور دیگر کئی وجوہا ت کی وجہ سے ہارتسلیم کرنے کی بجائے وہ ہمیں ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں جوحیران کن ہے‘‘۔انہوں نے نیشنل کانفرنس کو بھاجپاکی کامیابی کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا’’بھاجپا نے جموں میں ووٹروں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جبکہ وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس نے بھی صورتحال کو اپنے ایجنڈے کی وجہ سے پولرائز کیا‘‘۔ بی جے پی کے اتحاد کو خارج ازمکان قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا’’بھاجپا کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا،سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے،ہم اکیلے اپنے بل پر اسمبلی چناؤ لڑیں گے اور واضح منڈیٹ مانگنے کے علاوہ لوگوں کو موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے آگاہ کریں گے جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو ریاست میں اتنی جگہ مل گئی‘‘۔محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ حکومت ملنے کی صورت میں مفتی محمد سعید ہی وزیراعلیٰ ہونگے۔اس ضمن میں انہوں نے کہا’’اگر ہماری حکومت بنتی ہے تومفتی صاحب ہی وزیراعلیٰ بنیں گے،اس میں کوئی کنفیوژن نہیں ہونا چاہے اور الیکشن کے دوران مفتی صاحب کو ہی وزارت اعلیٰ امیدوار کے طور پروجیکٹ کیاجائے گا‘‘۔کشمیر حل میں علیحدگی پسندوں کے رول سے متعلق انہوں نے کہا’’علیحدگی پسندوں کا رول بنتا ہے،ہمارے وقت میں ایڈوانی کے ساتھ علیحدگی پسندوں کی بات چیت شروع ہوئی جو اقتدار کی منتقلی کے بعدجاری نہ رہ سکی کیونکہ اس کے بعد ترجیحات تبدیل ہوگئیں،آپ پسند کریں یا نہ کریں ،علیحدگی پسندمزاحمت کی علامت ہیں،یہ ہمیں شاید اْس وقت نظر آتا ہے جب حالات خراب ہوتے ہیں،انکے ساتھ مذاکرات متواتر عمل ہونا چاہئے،کوئی بھی حکومت ہو ،پالیسی میں تسلسل ہونا چاہئے،ان کو برابر مذاکرات میں شامل کرنا ہے‘‘۔دفعہ 370کی منسوخی کو ناممکن قراردیتے ہوئے محبوبہ نے کہا’’دفعہ370کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، کوئی طاقت اس کے خلاف نہ جاسکتی ہے کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ آئین ساز اسمبلی نہیں ہے تو پھر ریاستی عوام سے پوچھنا پڑے گا جو دلی نہیں کرسکتی ہے اور یہ ناممکن ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’کشمیر بھارت کا حصہ دفعہ370کی وجہ سے بناہوا ہے اور اگراسی دفعہ کو کاٹتے ہیں تو یہ حصہ ہی نہیں رہے گا اور ہمیں رائے شماری پر پہنچناپڑے گا۔