سرورق مضمون

بھارتی جنرل(ر) کا سرنڈراور جنگ بندی / سیاستدانوں کو پیسے دینے کے بیان سے صاف انکار

بھارتی جنرل(ر) کا سرنڈراور جنگ بندی / سیاستدانوں کو پیسے دینے کے بیان سے صاف انکار

ڈیسک رپورٹ
بھارت کے سابق فوجی جنرل وی کے سنگھ نے اپنے اُس بیان سے صاف انکار کیا ہے جس میں مبینہ طور کشمیر میں سیاستدانوں میں پیسے بانٹنے کی بات کی گئی تھی ۔جنرل سنگھ کا یہ بیان جب سامنے آیا تھا تو بیان نے سیاسی حلقوں کے اندر تہلکہ مچادیا تھا۔ اس بیان پر یہاں سخت ہنگامہ کھڑا کیا گیا تھا اور مین اسٹریم جماعتوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ یہاں تک کہ اسمبلی کے اجلاس میں اس پر ایک مشترکہ قرار داد پاس کی گئی تھی ۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ سنگھ کے نام نوٹس اجرا کرکے اسے اسمبلی کے سامنے اصل حقایق پیش کرنے کے لئے بلایا جائے۔ اس کے بعد اسمبلی کے سپیکر نے سنگھ کے نام نوٹس جاری کرکے اسے اسمبلی میں آکر بیان دینے کے لئے کہا تھا ۔ پہلے تو سنگھ نے اپنے بیان کو سچائی پر مبنی بیان قرار دیا اور اپنے بیان کو واپس لینے سے انکار کیا ۔ لیکن نوٹس ملنے کے چند دن بعد اپنے بیان سے صاف انکار کیا اور حسب معمول پریس کو اس طرح کے بیان کی من پسند خبر قرار دیا ۔ سنگھ نے کشمیر اسمبلی کے سپیکر کے نام جوابی خط میں ایسے کسی بھی بیان سے انکار کیا ہے اور اپنے بیان کی سی ڈی بھی بھیج دی ہے تاکہ سپیکر بیان کی خود چھان بین کرسکے ۔ سپیکر کی طرف سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ سپیکر کس حد تک سنگھ کے بیان سے مطمئن ہوگئے ہیں ۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ اسمبلی کے لئے سنگھ کے خلاف مزید کاروائی سے روکنے کا بہانہ مل گیا ہے ۔
سابق فوجی جنرل کے نام نوٹس اسمبلی سپیکر نے رواں سال کی پچیس تاریخ کو بھیجا تھا اور اسے بیس دن کے اندر وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا تھا ۔ تب سے لے کر اسمبلی سیکٹریٹ جواب کے انتظار میں تھا ۔ اب بیس اکتوبر کو یہ جواب یہاں پہنچا ۔ بتا یا جاتا ہے کہ بند لفافے میں ایک خط کے علاوہ اس انٹرویو کی سی ڈی بھی رکھی گئی ہے جو دہلی کے ایک ٹی وی چینل سے دکھایا گیا تھا اور اس میں مبینہ طور کشمیری سیاست دانوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ فوج کا کام کرنے کے لئے کروڑوں کی رقم حاصل کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اس پر بحث شروع ہوگئی تھی ۔ بعد میں مذکورہ جنرل کے ساتھ یہ بیان بھی منسوب کیا گیا تھا کہ ریاستی کابینہ کے ایک وزیر نے کشمیر میں 2010میں چلی ایجی ٹیشن کے دوران حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کئی لاکھ کی رقم فوج سے حاصل کی تھی۔ یہی وہ بیان ہے جس نے یہاں ہل چل پیدا کی تھی۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریاستی وزراء اعلیٰ نے بھی اپنے وقت میں فوج سے پیسے حاصل کئے ہیں۔ اس پر موجودہ وزیراعلیٰ کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی ایک بیان دیا تھا اور پیسوں کے لین دین سے انکار کیا تھا۔ اس کے بعد سابق فوجی جنرل کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا ۔ اس دوران کشمیری علاحدگی پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ فوج سیاستدانوں کو ہندوستان کا ایجنڈا آگے لے جانے کے لئے پیسے دیتی ہے ۔ فوج کی طرف سے رقم دینے کے اس انکشاف کا سہارا لیتے ہوئے ماضی میں ہوئے تمام انتخابات پر سوالیہ کھڑا کیا جانے لگا۔ علاحدگی پسندوں نے الزام لگا یا کہ اب تک کی ساری حکومتیں فوج اور مرکز کی کٹھ پتلی رہی ہیں ۔ اس کے بعد وی کے سنگھ سخت دباؤ میں آگیا ۔ سنگھ نے کچھ ہی عرصہ پہلے بی جے پی کے ساتھ ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا۔ آئندہ انتخابات کے لئے بی جے پی کی طرف سے وزیراعظم کے عہدے کے لئے پیش کئے گئے متنازع شخص نریندر مودی کی طرف سے سابق فوجیوں پر مشتمل ایک جلسہ بلائے جانے پر وی کے سنگھ نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ بہت سے مبصرین کا کہنا تھا کہ سنگھ نے کشمیری سیاست دانوں کے خلاف بیان بی جے پی کی ایما پر ہی دیا تھا۔ لیکن سنگھ نے ایسا الزام مسترد کیا اور کئی روز تک اپنے بیان پر بضد رہا۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنا بیان بدل دیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس نے روپے کے لین دین کی کوئی بات کہی ہے ۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے بیان کو سیاق و سباق سے الگ کرکے دیکھا گیا ہے ۔ ان کی طرف سے لکھے گئے خط کی تفصیل اگرچہ ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی ہے ۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنا بیان بدل دیا ہے اور خود کو اسمبلی میں پیش ہونے سے بچا لیا ہے۔ اسمبلی اگرچہ اس پوزیشن میں نظر نہیں آرہی تھی کہ سابق فوجی جنرل کے خلاف کاروائی کرے تاہم ان کے بیان بدلنے سے حکومت کا موقف مضبوط ہوگیا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ اسمبلی سپیکر اسی پر بس کرے گا یا کیس مزید آگے لے جائے گا ۔