نقطہ نظر

بھارتی مسلح افواج کا اثر و رسوخ

بھارتی مسلح افواج کا اثر و رسوخ

کلدیپ نائر
پندرھویں لوک سبھا کی پانچ سالہ مدت مکمل ہو گئی ہے لیکن اس عرصے میں اگر ایوان کی کارکردگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ خاصی مایوس کن اور بے سْری سی دکھائی دیتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ ایوان جو جمہوریت کی نمایندگی کرتا ہے عملی طور پر تمام ایشیائی ممالک میں ہی ناکام نظر آتا ہے۔ اگلے تین ماہ کے عرصے میں بھارتی عوام ایک بار پھر اپنے نمایندے منتخب کرنے کی خاطر پولنگ بوتھ کے سامنے قطاروں میں لگے ہوں گے۔ ابھی تک تو اراکین اسمبلی کا معیار پست ہی رہا ہے مگر مجھے اعتماد ہے کہ اگلا ایوان پہلے سے بہتر ہو گا کیونکہ عام آدمی پارٹی (عاپ) کے منظر عام پر آنے نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے، جو پہلے سے زیادہ صاف شفاف ہو گیا ہے۔
اس کے باوجود مجھے مسلح افواج کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ پسند نہیں۔ وزیر دفاع اے کے انٹونی کا یہ کہنا درست ہے کہ ملک میں کبھی بھی فوجی بغاوت نہیں ہو سکتی۔ بھارت کے اولین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے بھی اگست 1947ء میں پارلیمانی نظام حکومت کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ایک تو ملک کا حجم بہت بڑا ہے اور دوسرا اس میں ذات پات اور مذہب کا بہت زور ہے۔ میری تشویش البتہ مسلح افواج کی اس بالادستی پر ہے جو اسے حکمرانی کے معاملات میں حاصل ہے۔ مثال کے طور پر سیاچن گلیشیئر پر فوجی دستوں کی تعیناتی کا معاملہ۔ یہ آخر کیوں ضروری تھا جب کہ بہت سے ریٹائرڈ چوٹی کے فوجی افسروں نے کہہ دیا تھا کہ اس کی کوئی تزویراتی اہمیت نہیں ہے۔ جب بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکریٹریوں میں ایک سمجھوتہ ہو رہا تھا تو بھارتی مسلح افواج کو بھی اس فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے تھی۔ مگر انھوں نے اسے منجمد کر دیا۔ بجائے اس کے کہ اس علاقے کو ’’نومین لینڈ‘‘ بنا دیا جائے وہاں دونوں ملکوں کے فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا جو انتہا درجے کے شدید موسم میں وقفے وقفے سے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
ایک اور مثال آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کی ہے جو بھارتی فوج کو اختیار دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو محض شبے کی بنا پر نہ صرف یہ کہ بغیر کسی قانونی کارروائی کے گرفتار کیا جا سکتا ہے بلکہ ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے شمال مشرقی علاقے پر سالہا سال سے یہ قانون نافذ ہے۔بھارتی حکومت کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی نے اس قانون کو ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی سفارش کی لیکن مسلح افواج نے اس قانون کو جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ لہٰذا یہ بدستور نافذ العمل ہے۔ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرکاری طور پر نئی دہلی کی مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ ان کی ریاست کو اس قانون سے نجات دلائی جائے لیکن مرکزی حکومت کچھ نہیں کر سکی کیونکہ مسلح افواج افسپا کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی جو عاجزانہ سی درخواست کی ہے اس کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ اور زیادہ قریبی واقعہ ریاست کے پتھریبل کے مقام پر ہونے والے جعلی مقابلے کا ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے جب کہ مقامی دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ وہ سب بے گناہ تھے۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے اس واقعہ کی تحقیقات کی ہے اور رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بالکل جعلی مقابلہ تھا جس پر نہایت سنگدلی سے عمل کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کپواڑا کے ڈپٹی کمشنر ایس ایم یاسین نے حال ہی میں 23 سال بعد اپنی خاموشی توڑی ہے کہ اسے فروری 1991‘ میں کنن پوشپورا کے علاقے میں ہونے والی اجتماعی آبروریزی کے واقعہ پر اپنی رپورٹ کو تبدیل کرنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں اور ساتھ ہی ترقی کا لالچ بھی دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فوج کے دعوے کے مطابق ایسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں۔ چوٹی کے فوجی افسروں کی طرف سے اپنے آپ کو خود ہی بری الذمہ قرار دینے کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگوں میں علیحدگی کے جذبات کو اور زیادہ ہوا ملی ہے۔ بھارتی حکومت کو جعلی مقابلوں اور آبروریزی کے گھناؤنے واقعات کے ضمن میں سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کرنا چاہیے۔ پتھری بل میں ہونے والے جعلی مقابلے کی دْھول ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ جب جنوری 2012ء میں ہونے والی ایک ممکنہ فوجی بغاوت کی خبر منظر عام پر آ گئی۔ فوج کے دو یونٹ، جن میں سے ایک بکتر بند بٹالین بھی تھی، آ گرہ سے دہلی کی طرف آ گئے۔ مرکزی دارالحکومت کی طرف فوج کی کوئی نقل و حرکت پیشگی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود دونوں یونٹوں نے حرکت کی اور اس وقت واپس گئے جب سیکریٹری دفاع نے آدھی رات کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل اے کے چوہدری کو طلب کر کے بتایا کہ حکومت کی اعلیٰ قیادت اس واقعہ پر بہت ناراض ہے۔ اس وقت جب ایک روزنامہ اخبار نے یہ خبر شایع کی تو وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اس کو بے بنیاد قرار دیدیا۔
بعض کلیدی فوجی اور سول افسروں نے بھی اس کی تردید کی لیکن اب لیفٹیننٹ جنرل اے کے چوہدری نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ اس وقت کے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف این اے براونی کی طرف سے اس کی تصدیق اور زیادہ دھچکا پہنچانے والی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’’چھاتہ برداروں کو نئی دہلی کے قریب ہنڈون ائر بیس پر سی 130 طیارے کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ تاہم وزیر دفاع اب بھی اس کو معمول کی تربیتی مشق قرار دے رہے ہیں۔ جب ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز کو بتا دیا گیا تو حکومت نے ایک ہیلی کاپٹر یہ دیکھنے کے لیے بھیجا کہ کیا فوجی واپس جا رہے ہیں لیکن وہاں اور بھی بہت کچھ تھا جو آنکھوں کو نظر نہیں آیا۔ اور چونکہ یہ وہی تاریخ تھی جب سپریم کورٹ میں اس وقت کے آرمی چیف وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اپیل کی سماعت ہونا تھی اس لیے فوجی یونٹوں کی اس نقل و حرکت کو حد سے زیادہ اہمیت دیدی گئی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سارے معاملے پر چوٹی کے سول اور فوجی افسروں کی ایک ٹیم مزید تحقیقات کرے تا کہ اصل حقیقت کی تہہ تک پہنچا جا سکے کہ کیا واقعی یہ معمول کی مشق تھی۔ اس معاملے کو محض وزیر دفاع کے انکار پر نہیں چھوڑا جا سکتا خواہ وہ کتنے اصرار کے ساتھ ہی انکار کیوں نہ کریں۔
میرے خیال میں تو سویلین معاملات میں فوج کی ایک محدود دخل اندازی بھی بڑی نحوست کی بات ہے۔ مسلح افواج اپنی تربیت اور عزم کے اعتبار سے غیر سیاسی ہوتی ہیں لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں میں یہ سیدھے راستے سے بھٹک گئیں۔ برصغیر کے دوسرے دو ملکوں میں بھی فوج کو ایسی ہی تربیت بہم پہنچائی گئی تھی۔ اس کے باوجود انھوں نے دو منتخب حکومتوں کو نکال باہر کیا۔ حتیٰ کہ آج بھی جب فوجی دستے واپس اپنی بیرکوں میں چلے گئے ہیں کوئی بھی فوج کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ بھارتی فوج کو علم ہے کہ جمہوری سیاست میں اس کو کس قدر باعزت مقام حاصل ہے اس کے باوجود جو مثالیں میں نے دی ہیں ان کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے ہلکا سا انتباہ کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت کی سرزمین میں جمہوری مزاج کا بیج بو دیا گیا ہے۔ لیکن اسی کو حتمی خیال نہیں کر لینا چاہیے۔ بونا پارٹ ازم کی چھوٹی سی مثال کو بھی نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی گہرائی سے تحقیقات کی جانی چاہیے۔ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہیں جس کا فیصلہ کرنے کا استحقاق منتخب حکومت کو حاصل ہے۔ یہ بنیادی چیز ہے لہٰذا کسی جمہوری نظام میں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
(ترجمہ:مظہر منہاس)