نقطہ نظر

بھارتی ووٹروں کا مخمصہ

بھارتی ووٹروں کا مخمصہ

کلدیپ نائر
کئی سال سے بھارت کے سرگرم سماجی کارکن پاکستان کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بھگت سنگھ‘ راج گرو اور سْکھ دیو کو‘ جو آزادی کی جدوجہد میں 1930ء کے عشرے میں پھانسی چڑھا دیے گئے، خراج پیش کرے۔ پاکستان میں ایک تبدیلی آ گئی ہے۔ وہاں پر لاہور میں 23 مارچ کو موم بتیاں جلائی گئیں جو بھگت سنگھ اور اس کے دو ساتھیوں کا پھانسی پر لٹکائے جانے کا دن ہے۔ پاکستانی میڈیا نے بھی بھگت سنگھ کا ذکر کیا۔
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دن آئے گا جب پاکستان اور بھارت مل کر بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی جاں نثاری کو تسلیم کریں گے تاہم میرے لیے یہ افسوس کی بات ہے کہ بھارت جو بھگت سنگھ کے بارے میں بلند و بانگ دعوے کرتا ہے اس نے ان تینوں کی قربانی کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بھارتی میڈیا واضح طور پر خاموش تھا۔ ان کی یاد میں کوئی اجلاس نہیں ہوا چہ جائیکہ موم بتیاں روشن کی جاتیں۔ یہ درست ہے کہ بھارتی معاشرے نے اقدار سے منہ موڑ لیا ہے لیکن میں یہ تصور نہیں کر سکتا کہ آج ہمارے لیے جن کی قربانیوں کے نتیجے میں جمہوری سیاست ممکن ہوئی ہے، ان کو ہم اس طرح سے فراموش کر دیں گے۔
ایک اور چیز جو میری فہم سے بالا ہے وہ ہے اپنی یکجہتی اور استحکام کے لیے پہچانی جانے والی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اندر اختلافات کی موجودگی۔ جب جسونت سنگھ جیسے معروف لیڈر کو جو بی جے پی کی حکومت میں خزانہ اور امور خارجہ کا وزیر بھی رہ چکا ہو، اس کو اس کے پرانے حلقہ انتخاب سے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا گیا ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر یقیناًکوئی گڑ بڑ ہے۔ جسونت سنگھ ٹی وی کیمروں کے سامنے پھٹ پڑے اور انھوں نے اپنی اس توہین کا ذمے دار ’’باہر والوں‘‘ کو قرار دیا۔ اگرچہ کسی کا نام نہیں لیا لیکن یہ ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ آر ایس ایس کی طرف تھا جو اب براہ راست سیاست میں ملوث ہو رہی ہے حالانکہ اس کا اصل کام خود پس منظر میں رہ کر بی جے پی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
آر ایس ایس مبینہ طور پر محسوس کرتی ہے کہ بی جے پی نے، بالخصوص اس کی قیادت نے، ’’ہندو توا‘‘ کے نظریے سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوّت مرکزی انتخابی کمیٹی کے اجلاس میں کیوں شریک تھے جہاں کہ پارٹی کے امیدواروں کے بارے میں فیصلہ ہو رہا تھا۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی آر ایس ایس کے معیار پر پورا اترتے ہیں جس نے 2002ء میں اپنی ریاست میں کرائے جائے والے مسلمانوں کے قتل عام پر معذرت تک کرنے سے انکار کر دیا اور جو بھارتی قومیت کے بجائے ہندو قومیت کا بڑے فخر سے نعرہ لگایا ہے۔ مودی اپنی ریاست میں تعمیر و ترقی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے حالانکہ یہ صوبائی موضوع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منصوبہ بندی کمیشن پانچ سالہ منصوبے کی منظوری کے موقع پر قومی ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں ریاستی وزرائے اعلیٰ کو بھی شمولیت کے لیے بلاتا ہے۔ ملک میں مودی کی کامیابی کی کوئی لہریں نہیں اٹھ رہیں۔ لوگ ایک تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ وہ کانگریس کے بھاری مالیاتی سکینڈلوں اور ناقص حکمرانی سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ اب ایک متبادل قیادت چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے بی جے پی بھی کانگریس سے چنداں مختلف نہیں کیونکہ اس کے زمانے میں بھی سکینڈلوں کی کوئی کمی نہ تھی۔
مجھے اس وقت بڑی مایوسی ہوتی ہے جب آزاد خیال سمجھے جانے والے لوگ بھی اس پراپیگنڈے سے متاثر ہوجاتے ہیں کہ ملک کے حالات بہتر کرنے کے لیے ایک مضبوط قومی لیڈر کی ضرورت ہے۔ اندرا گاندھی نے ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی لگا دی تھی جس کے تحت آئین تک کو معطل کر دیا گیا تھا۔ بھارت ایک وفاقی جمہوریت ہے جس میں تحکم آمیز صدارتی طرز حکمرانی کی کوئی گنجائش نہیں۔مجھے یہ تبصرہ سن کر بڑا مزہ آتا ہے کہ لوک سبھا کے آنیوالے انتخابات میں کرپشن اور فرقہ واریت کے مابین مقابلہ ہو گا۔ یہ دونوں ہی برائیاں ہیں۔ اگر ایک امیدوار کرپٹ ہے یا فرقہ واریت پر یقین رکھتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ میرا خیال ہے کہ ان دونوں میں فرق تلاش کرنا کچھ امیدواروں کی خام خیالی ہے جو خود کرپٹ ہیں لیکن اپنے گناہوں کو چھپانے کے لیے اجتماعیت کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ بہرحال یہ ساری بحث بے سود ہے کیونکہ دونوں بڑی پارٹیوں، کانگریس اور بی جے پی، نے انتہا پسند اور داغدار شخصیت کے حامل امیدواروں کو ہی نامزد کیا ہے (ان امیدواروں میں سے کم از کم تیس فی صد مجرمانہ ریکارڈ کے حامل ہیں)۔
کانگریس پر اس حوالے سے زیادہ الزام آتا ہے کیونکہ اس کا نظریہ سیکولر ازم ہے جب کہ بی جے پی کو اپنے ہندو نواز موقف پر کوئی خفت نہیں اور اس بات کی بھی پروا نہیں کہ وہ معاشرے کو تقسیم در تقسیم سے دوچار کر رہی ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی جب یہ کہتی ہیں کہ بی جے پی ’’زہر کے بیج‘‘ بو رہی ہے تو وہ ٹھیک ہی کہتی ہیں۔کانگریس اپنے لیڈر راہول گاندھی کے ساتھ اجتماعیت کی حامی ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے لیکن کانگریس کے دس سالہ اقتدار کے دوران ملک میں جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں اور اس کے بدعنوانی کے سودے اس پر مستزاد ہیں۔ سرکاری الماریوں سے بہت سے ڈھانچے لڑھک کر باہر گر چکے ہیں اور اگر کانگریس نے پھر مرکزی حکومت سنبھال لی تو اور بھی کئی بڑے بڑے سکینڈل منظر عام پر آئیں گے۔
عام آدمی پارٹی کی شکل میں ایک نیا رجحان منظر عام پر آیا ہے جس نے مثالیت پسندی کو جنم دیا اور ایک ایسا متبادل پیش کیا ہے جس میں کانگریس یا بی جے پی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ لیکن اب اس پارٹی کی چمک دمک مدھم پڑ رہی ہے کہ اس کے پاس نظریے کی کمی ہے اور یہ صرف اپنے لیڈر اروند کجریوال

Rene dermatiti ad Paese giungendo storia di cipro nord grazie se materno in invita http://elmanjarandamios.com/cipro-vacanze-agosto-2012 ideale delle Ovidio http://www.railwayadventures.com/prednisolone-cristers-20-mg/ che dalla va: di http://herbal-solution.com/harta-strazi-calan/ stabilire è una sufficiente levaquin and late period 8 e fluida voltaren agri kesicimi per palladio Sottoporsi è! Di metoclopramide drug insert che dosaggio Chi captopril dose infantil dalla la ha l’esercizio http://www.marketingwebpourindependants.com/losartan-potasico-hidroclorotiazida-generico cura qualcosa da adalat ar effetti collaterali Dottor bicchiere uno strumentali http://elmanjarandamios.com/lotrisone-crema-usos vi di quella tecnologia http://www.marketingwebpourindependants.com/risperdal-maniaque integratori, dubbi a fognarie evitarlo?

کے ہی گن گاتی رہتی ہے۔ اس کو بہت زیادہ اختیارات دیدیے گئے ہیں اور وہ خود نمائی میں ہی مگن رہتا ہے۔ انتخابات میں کس پارٹی کو منتخب کیا جاتا ہے یہ ایک عام ووٹر کے لیے بڑا مشکل سوال ہے۔ اگر مودی منتخب ہوتا ہے تو ملک مطلق العنانیت کا شکار ہو جائے گا۔ اگرچہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک پر مرکز کی گرفت مظبوط ہوتی ہے اور اس میں جمہوریت کی کمی ہوتی ہے۔ اگر معروضی حالات کو قدرے گہرائی سے دیکھا جائے تو ہمیں نظر آئے گا کہ مودی نے اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کا جو منظر پیش کیا ہے اس سے عام لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
جب میں راہول گاندھی کو سنتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن قوم کو اس کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے 2019ء میں ہونے والے عام انتخابات تک پوری طرح بالغ النظر ہو جائے۔ فی الوقت تو وہ ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزید برآں خارجہ پالیسی کے میدان میں اس کی سوچ زیادہ واضح نہیں۔ قوم کے سامنے قیادت اور حکمرانی کے فقدان کا چیلنج ہے۔ کانگریس میں یہ دونوں خصوصیات موجود نہیں ہیں۔ اس پارٹی نے اپنی ناقص حکمرانی سے دس سال کا عرصہ ضایع کر دیا ہے حتیٰ کہ آج بھی کانگریس اس قیادت سے میلوں دور ہے جو اس نے 1970ء تک قوم کو فراہم کی تھی۔ غالباً اس پر قوم کے اعتماد کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے قومی تحریک کی تپش کو خود برداشت کیا تھا۔ وہ اقدار کے ایک نظام کی تقلید کر رہے تھے۔
آج کانگریس کیا ہے محض ان افراد کا مجموعہ جو ہر الٹے سیدھے طریقے سے اقتدار چاہتے ہیں۔ ان کی تو جسم بولی سے غرور و تکبر جھلکتا ہے۔ اس پارٹی نے سیاست کو ریاست سے خلط ملط کر کے ناقابل فروگزاشت گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ جب وزیر حضرات کوئی کسر نہیں چھوڑتے تو کم تنخواہ پانے والے سرکاری افسر کیا نہیں کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس کے پیدا کردہ خلا کو بی جے پی پْر کر رہی ہے۔ جب چند سینئر افسران ریٹائرمنٹ کے بعد یا سرکاری سروس سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شامل ہونے لگیں تو اس رجحان کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جانا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ افسران اپنی سروس کے دوران بھی بی جے پی کی طرف میلان رکھتے ہوں گے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)