نقطہ نظر

بھارتی پولیس کی ناقص کارکردگی

کلدیپ نائر
یہ نظام انصاف کی ناکامی کا بین ثبوت ہے۔ عدالت نے اتر پردیش کی صوبائی مسلح کانسٹیبلری کے سولہ کے سولہ پولیس والوں کو ثبوت کی کمی کی بنا پر رہا کردیا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ یہ رات کی تاریکی کا وقت تھا لہٰذا اس بات کا تعین کرنا کہ پولیس والوں میں سے کس نے کس کے اوپر فائر کیا ممکن نہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکوائری کے وقت اس بات کی قطعاً کوشش نہیں کی گئی کہ ہلاکتوں کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آخر ابتدائی تحقیقات میں 17 پولیس والوں کو ان کے باقی ساتھیوں سے کس بنا پر علیحدہ کر کے ان پر لاتعداد مسلمانوں کے قتل کا الزام عائد کیا گیا؟ عدالت کو ان کی بریت کا فیصلہ کرتے وقت کسی اصول کو تو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔
درحقیقت اس قتل عام کے واقعے نے جلیانوالہ باغ کے المیے کی یاد تازہ کر دی۔ اْس وقت برطانوی افسروں نے باغ کا اکلوتا گیٹ بند کر کے ہجوم پر فائرنگ کر دی اور تقریباً 1000 مظاہرین کو ہلاک کر دیا جو آزادی کے حق میں مظاہرہ کر رہے تھے۔ ہاشم پورہ میں بھی 5 گلیوں میں مسلمان رہتے تھے جن کے لیے پیچھے سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ بہت سے فوجی بھی ہر گھر کی تلاشی لے رہے تھے۔ مسلمان جن میں بوڑھے جوان اور بچے سب شامل تھے وہ ہاتھ اٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
عورتیں گھروں کی چھتوں پر کھڑی چیخ رہی تھیں کہ ان کے مردوں کو چھوڑ دیا جائے۔یہ بھی سچ ہے کہ عدالت نے تمام ملزموں کو رہا کر دیا ہے لیکن اس سے اْس قتل عام کو تو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ فطری بات ہے کہ مسلح پولیس کے تمام اہلکاروں کو رہا کرنے کا عوام پر بہت منفی اثر ہوا۔ جن گھروں کے لوگ مارے گئے وہ سخت بے بسی محسوس کررہے ہیں۔
سب کے سب ملزموں کو بیک جنبش قلم رہا کر دیا گیا حالانکہ عدالت از سر نو تفتیش کا حکم بھی جاری کر سکتی تھی تا کہ انصاف کے تقاضے کسی حد تک پورے ہو سکتے۔ اس واقعے کی تحقیقات 28 سال کے طویل عرصے تک جاری رہی لیکن پولیس ایک بھی قابل قبول شہادت پیش کرنے میں ناکام رہی۔ پولیس نے اپنے آپ کو بچانے کی جو کوشش کی ہے وہ عیاں ہے۔ میری تمنا ہے کہ عدالت اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی ضرور کوئی تبصرہ کرتی۔
ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی مرکزی حکومت بھی برابر کی ذمے دار ہے لہٰذا یہ لازمی تھا کہ دارالحکومت نئی دہلی کی طرف سے بھی کوئی انکوائری کمیٹی قائم کی جاتی اور اس میں گواہوں کو طلب کیا جاتا جو کہ میڈیا میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستانیں سنا رہے تھے۔ ہاشم پورہ کے واقعے میں قتل و غارت کی تمام تر ذمے داری خود پولیس پر ہی عائد ہوتی ہے۔
مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ نے بھی کوئی موثر کارروائی نہیں کی۔ ریاستی وزرائے اعلیٰ کسی بات کی پرواہ نہیں کرتے باالخصوص جب مرکز میں بھی ان کی ہی پارٹی حکمرانی کر رہی ہو۔ دھرما ویر کمیشن نے 39 سال قبل جو اصلاحات تجویز کی تھیں وہ ابھی تک ریاستوں کے پاس پڑی ہیں اور ان پر گرد و غبار کی تہیں چڑھ رہی ہیں لیکن ان کا نفاذ عمل میں نہیں آیا۔ کمیشن کی سفارشات میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ ریاستیں ایک نگران محکمہ قائم کریں جس میں لیڈر آف دی اپوزیشن بھی شامل ہو جو ایس ایچ او اور اس سے اوپر کے تمام افسروں کی تقرری اور تبادلوں پر نظر رکھے۔
بہرحال کمیشن کا اصل مقصد یہ تھا کہ ریاست کو سیاست سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ریاستی وزیراعلیٰ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ آج وہ کسی تھانے کے انچارج تقرر میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسی جگہوں پر ان کے اپنے وفادار افسر متعین ہوں جن کو وہ ٹیلی فون پر براہ راست ہدایات دے سکیں جیسا کہ وہ کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے ارکان یا دیگر واقف کاروں کے خلاف ہونے والی تحقیقات میں کھلی مداخلت کرتے ہیں۔
یہ ایک لایعنی دلیل ہے کہ اس میں نظام کا قصور ہے۔ نظام عوام کی خواہشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ جمہوریت میں سب کچھ عوامی نمایندوں پر منحصر ہوتا ہے جو کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے جاتے ہیں لیکن وہاں بھی کوئی ٹھوس کام نہیں ہوتا کیونکہ تمام ادارے سیاست بازی کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس قسم کے حالات میں عدلیہ واحد ادارہ ہے جس کی ابھی تک عزت قائم ہے۔ اگر پولیس کو عدلیہ کے ماتحت کر دیا جائے تو وہ قدرے زیادہ آزادانہ طور پر تحقیقات کرسکتی ہے۔ تب پولیس کو سیاسی مداخلت سے بھی نجات مل سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں پولیس کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتی ہے اور موجودہ سیاسی ماحول میں پولیس کے لیے آزادانہ طور پر کام کرنے کا تو کوئی اسکوپ ہی نہیں۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ ’’سٹیٹس کو‘‘ قائم رکھنے پر اصرار سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہورہا۔ اس حوالے سے ہمیں ایک نئے تجربے کی ضرورت ہے۔
پولیس فورس کو عدلیہ کی ماتحتی میں دے دینا چاہیے۔ اس سے ممکن ہے کہ حالات میں کوئی بہتری پیدا ہو سکے۔شاہ کمیشن نے جو کہ ایمرجنسی کے دوران کی جانیوالی زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا وہ اس افسوس ناک تجزیے پر پہنچا کہ پولیس حکمرانوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والا ایک ظالمانہ ہتھیار بن چکا ہے۔ پولیس فورس غیر قانونی احکامات کی بجا آوری کے لیے اپنی حدود سے تجاوز کر کے اپنے سیاسی آقاؤں کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بابری مسجد کے انہدام کی تفصیلات باہر آنے پر بھی اسی قسم کی تابعداری کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس دل و جان سے کلیان سنگھ حکومت کے احکامات کی تعمیل کر رہی تھی حالانکہ سپریم کورٹ کی طرف سے واضح احکامات جاری کیے گئے تھے کہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کو برقرار رکھا جائے یعنی بابری مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے لیکن اس کے باوجود اسے منہدم کر دیا گیا۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ سپریم کورٹ نے بی جے پی کے چوٹی کے لیڈروں کے خلاف نوٹس جاری کر دیا ہے جن میں ایل کے ایڈوانی‘ مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی شامل ہیں کہ وہ اس سارے معاملے میں اپنے ملوث ہونے کے الزام کی صفائی پیش کریں۔
بی جے پی کے لیڈروں کو یہ وضاحت کرنی پڑے گی کہ انھوں نے کتنے مہینے پہلے ’’کار سیوک‘‘ بھرتی کر لیے تھے اور فنڈز اکٹھے کیے تھے تا کہ ایودھیا کے مقام پر قائم بابری مسجد کو منہدم کیا جا سکے۔
یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ 23 سال بعد بھی اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی جا سکی کہ پولیس نے اس وقت امن و امان قائم رکھنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی۔ مسلح پولیس کانسٹیبلری کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ وہ مذہب سے کس قدر مغلوب ہے حتٰی کہ اس نے تھانوں میں بھی مندر قائم کر لیے ہیں۔ کسی کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ضمن میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کے تمام بڑے افسر بھی فکری آلودگی کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اس نمک کا کیا فائدہ جو بالکل ہی پھیکا ہو۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)