بلاگ

بھارت میں سکولوں میں معیارِتعلیم کی درجہ بندی
جموں و کشمیر پھر اپنی چھا پ قائم کر نے میں ناکام کیوں ؟

بھارت میں سکولوں میں معیارِتعلیم کی درجہ بندی<br>جموں و کشمیر پھر اپنی چھا پ قائم کر نے میں ناکام کیوں ؟

جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کے اعتبا ر سے ملک کی بیشتر ریاستوں یا مر کزی زیر انتظام علا قوں سے بھلے ہی پیچھے ہو مگر خواندگی کی شرح کے اعتبار سے یہ مر کزی زیر انتظام خطہ کئی ریا ستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے آگے ہے اور یہاںاس حوالے سے ایک انقلابی صورتحال پا ئی جا رہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے ہر طرح کی مشکلا ت جھیلنے کے لئے تیا ر بہ تیا ر رہتے ہیں ۔مگر اس دوران ایک مایو س کن صورتحال یہ ہے کہ مرکزی وزارتِ تعلیم کی جانب سے ملک میں تعلیمی معیار کو پر کھنے اور ریا ستوں و مر کزی زیر انتظام علا قوں کی حکومتوں کو تعلیم کے معیار میں بہتری لا نے کے لئے تحریک دینے کی خاطر جاری کئے جا نے والے پرفا ر منس گریڈنگ انڈیکس(پی جی آئی ) میں جموں وکشمیر تعلیمی معیار کے اعتبا ر سے پہلے دس علاقوں میں اپنا نام درج کرانے میں ناکام ہوا ہے جس نے جموں و کشمیر سر کا ر کی تعلیمی پا لیسی پر شدید نوعیت کے سوالات کھڑا کر دئے ہیں ۔مر کزی وزیر تعلیم رمیش پوکھریا ل نشنک نے حال ہی میں پرفا رمنس گریڈنگ انڈیکس یا پی جی آئی رپو رٹ جا ری کی ۔یہ گریڈنت تعلیمی نظام کے 70معیارات کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے کی جا تی ہے اور مر کزی حکو مت نے یہ سلسلہ سال2019ء سے شروع کیا ہے اور اس کا مقصد ریا ستوں اور مر کزی زیر انتظام علا قوں میں حکو متوں کو تعلیمی معیار میں بہتری لا نے پر ابھارنا ہے ۔جموں وکشمیر میں تعلیمی سیکٹر ایک بہت بڑا سیکٹر تصور کیا جاتا ہے اور ہما رے سالانہ ما لی بجٹ میں بھی اس کو ایک خطیر رقم فراہم کی جاتی ہے تاہم نتائج حسبِ تو قع کبھی بھی نہیں رہے ہیں ۔سرینگر ٹوڈے نے وادی کے ایک معروف ماہر تعلیم پروفیسر عبد الغنی مدہوش سے اس معاملہ پر با ت کی تو انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے سکولوں کا بھارت کے تعلیمی منظر نا مے میں پہلی دس پوزیشنوں میں سے کو ئی پوزیشن حاصل نہ کر نا کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ توقعات کے عین مطابق ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہما ری بد قسمتی یہ ہے کہ سرکا ری سطح پر ہم نے تعلیمی نظام کو اساتذہ اور غیر تدریسی سٹاف کے لئے حصول روزگا ر کا ذریعہ تصور کیا ہے اور نجی سیکٹر میں ہم نے تعلیم کو ایک تجا رت سے آگے کچھ بھی نہیں سمجھا ہے اور نتا ئج ہم سب کے سامنے ہیں۔ پروفیسر مد ہو ش کا کہنا تھا کہ سر کا ری سطح پر جب تک محکمہ ٔ تعلیم کو احتساب کے دائرے میں نہیں لایا جا ئے گا تب تک سر کا ری سکولوں میں نظام تعلیم یا معیارِ تعلیم کی بہتری کا کوئی امکان موجو د نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہر سکول کے ہیڈ ماسٹر، ہر ہا ئر سکینڈری سکول یا پھر کا لج کے پرنسپل کو اس بات کا مقلف ٹھہرایا جا ناچاہئے کہ وہ یہ بات یقینی بنائیں کہ بچوں کا نصاب وقت پر مکمل ہو اور کلاس ٹیسٹس کا ایک رواج قائم کیا جا نا چاہئے تاکہ بچوں کی صلا حیتوں کو پر کھا جا سکے اور سکولوں و کا لجوں کے اندر معیار ِ تعلیم کو بہتر بنایا جاسکے ۔پرفیسر مد ہو ش کا کہنا تھا کہ اس با ت میں کو ئی شک و شبہ نہیں کہ اس کے لئے حکو متی پا لیسی ہی سب سے بڑ ی ذمہ دار ہے مگر اصل کر نے کا کام تو اساتذہ کا ہے جس میں کہیں نہ کہیں لیت و لعل ہو رہا ہے ۔ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ حکو مت کو چاہئے کہ وہ اساتذہ کو انتخابی ڈیو ٹی کے کام پر نہ لگا ئے اور نا ہی انہیں کسی وبائی صورتحال کے دوران کسی اضافی بو جھ تلے دبا دینا چاہئے بلکہ بہتریں چیز یہ ہو تی کہ اگر حکو مت اساتذہ کا بچا ہوا وقت ان کی صلا حیت سازی میں خرچ کر دیتی ۔
نجی سکولوں میں معیار ِ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہما رے بیشتر سکولوں میں کچھ ایسی کتا بیں نصاب میں شامل کی گئی ہیں جو بالکل فضولیا ت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کتا بوں کے شامل نصاب کر نے کا مقصد صرف اور صرف تجا رت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جن سکولوں میں انگریزی ’میڈیم آف انسٹرکشن‘ ہے وہاں Conversationنام کی کتاب کو شامل نصاب کرنے سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے اور اس طرح سے اس کا اثر سکولوں کے معیار ِ تعلیم پر پڑ تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس روش کو ترک کر نے کی ضرورت ہے اور اس عمل میں حکو مت کا میدان میں آنا ضروری ہے ۔
حالیہ درجہ بندی کے حوالے سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے پہلے دس علاقوں میں نام نہ بنانے کے پیچھے یہاں کے حالات بھی کار فرما ہیں اور صورتحال کو اس زاویے سے بھی دیکھے جا نے کی ضرورت ہے ۔جموں وکشمیر میں گزشتہ تین دہا ئیوں کی صورتحال چونکہ انتہا ئی نا گفتہ بہ رہی ہے لہٰذاء اس صورتحال کا یہاں کے تعلیمی منظر نامہ پر بھی کا فی اثر ہوا ہے۔بچوں کے اندر طرح طرح کے ذہنی مسائل پیدا ہو ئے ہیں اور سکولوں میں معمول کے کام کاج میں بھی اس دوران کئی طرح کی رکا وٹیں پیدا ہو ئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہاں کا تعلیمی منظر نا مہ اپنے اندر زیا دہ تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکا ہے ۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام خطوں کے لئے پی جی آئی سب سے پہلے سال 18۔2017 کے ریفرینس کے ساتھ 2019 میں شائع کی گئی تھی۔20۔ 2019 کے لئے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں کیواسطے پی جی آئی اس سیریز میں تیسری اشاعت ہے۔ پی جی آئی کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو کثیر رخی کارروائی کے لئے تحریک دینا ہے، جس سے حسب منشا بہترین تعلیمی نتائج حاصل ہوں گے۔ پی جی آئی ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں کے سامنے خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے لحاظ سے کارروائی کے لئے ترجیحی شعبوں کا تعین کرتا ہے تاکہ اسکولی نظام تعلیم کو ہر سطح پر مستحکم بنایا جاسکے۔
پنجاب، چنڈی گڑھ، تمل ناڈو، انڈو مان و نکوبار جزائر اور کیرل نے 20۔2019 کے لئے سب سے اونچا گریڈ (A++)) حاصل کیا ہے۔بیشتر ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں پی جی آئی 20۔2019 میں بہترین گریڈ حاصل کیا ہے۔انڈو مان و نکوبار جزائر ، اروناچل پردیش، منی پور ، پڈوچیری، پنجاب اور تمل ناڈو نے مجموعی طور پر 10 فیصد تک پی جی آئی اسکور یعنی 100 یا اس سیزیادہ پوائنٹ حاصل کئے ہیں۔13 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں نے پی جی آئی کے زمرے : بنیادی ڈھانچہ او ر سہولیات میں 10 فیصد (15 پوائنٹ) یا اس سے زیادہ حاصل کئے ہیں۔ انڈو مان و نکوبار جزائر اور اوڈیشہ کے معاملے میں 20 فیصد یا اس سے زیادہ بہتری آئی ہے۔انیس ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں کے معاملے میں پی جی آئی کے زمرے: گورننس پروسیس میں 10 فیصد تک (36 پوائنٹس) یا اس سے زیادہ بہتری آئی ہے۔ انڈو مان و نکوبار جزائر ، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، منی پور، پنجاب، راجستھان اور مغربی بنگال کے معاملے میں کم از کم 20 فیصد (72 پوائنٹ یا اس سے زیادہ) کی بہتری آئی ہے۔