نقطہ نظر

بھارت کا امریکہ کی طرف جھکاؤ

بھارت کا امریکہ کی طرف جھکاؤ

کلدیپ نائر
وزیراعظم نریندر مودی یقیناپچھتا رہے ہوں گے کہ انہوں نے صدر بارک اوبامہ کو یوم جمہوریہ کے لیے کیوں دعوت دی۔ اوبامہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’’گھرواپسی‘‘ کے نعرے اور ہندوتوا کے نظریے سے متعلق دیگر پروگراموں کو مسترد کرنے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کیا اور بھارت کو یاد دہانی کرائی کہ وہ مذہبی آزادیوں کے اپنے آئینی دعوے کی پاسداری کرے۔
اس کی ایک وضاحت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مودی یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جمہوری دنیا بی جے پی کے ہندو راشٹرا کے پر جوش نئے پروگرام کے بارے میں کیسے سوچتی ہے۔ خیر جو بھی وجہ ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ بی جے پی کو اس انداز میں منہ کی کھانی پڑی ہے کہ اب اس کے لیے جمہوری دنیا میں منہ دکھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
صدر اوبامہ نے بھارتی قوم کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ مذہبی بکھیڑوں میں نہ پڑیں بلکہ عوام کو اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کی بھی مکمل آزادی دیں۔ اب چاہے بی جے پی اوباما کے اس بیان کو پسند کرے یا نہ کرے مگر قوم خوش ہے کہ اوبامہ جیسا ایک بلند قامت لیڈر ملک کو اس کی اجتماعیت کی اقدار کی یاد دہانی کرا رہا ہے۔
بی جے پی کے بعض لیڈر پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ بابری مسجد کے انہدام شدہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے اشارے دے رہے تھے۔ اوبامہ کے دورے کا ایک منفی اثر عالمی امور میں بھارت کی حیثیت پر بھی پڑا ہے۔ شاید اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے ایک پاکستانی ٹی وی چینل نے مجھے فون کیا اور پوچھاکہ اوبامہ کے دورے کا لب لباب کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ بھارت کے امریکہ کی طرف جھکاؤ کا نتیجہ چین کی ناراضی ہے۔
سرد جنگ کے دوران بھارت ناوابستہ تحریک کی قیادت کر رہا تھا لیکن ماسکو کی طرف اس کا جھکاؤ بہت نمایاں تھا۔ بھارت سوویت یونین کے لیے ایک مستحکم، مستمر اور قابل اعتماد راہداری فراہم کر رہا تھا تو اب امریکا نئی دہلی کے اپنی طرف جھکاؤ کو اس کی پیشرفت تصور کر رہا تھا۔ آج ماسکو نہ تو اسقدر مضبوط ہے اور نہ ہی اسے اس وقت کے مشرقی یورپ کی حمایت حاصل ہے۔ گوصدر ولادی میر پیوٹن نے اپنی طاقت کے اظہار کے لیے بڑا مضبوط قدم اٹھایا ہے لیکن انھیں اپنی محدودات کا بخوبی احساس ہے۔ یو کرائن کی بغاوت اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا برسرعام اس کی حمایت کر رہا ہے۔
یہاں تک کہ صدر اوباما کی دہلی میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں انھوں نے کسی اگر مگر کے بغیر یوکرائن کی حمایت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم مودی جو سرد جنگ کے بعد لیڈر بنے ہیں وہ امریکا کی فوجی اور اقتصادی عظمت سے بخوبی آگاہ ہیں اور روس کی کمزوریاں بھی ان سے چھپی ہوئی نہیں۔ وہ اتنے عمل پسند ضرور ہیں کہ آگے دیکھتے ہوئے وہ ان چیزوں کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں۔ امریکا کی طرف ان کا جھکاؤ خاصا نپا تلا ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ روٹی کے کس طرف مکھن لگا ہوا ہے۔ اب جلد ہی وہ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ بھی تعلقات بنائیں گے۔ واشنگٹن کو کوئی شک نہیں کہ اس کا اصل دشمن چین ہے۔
امریکہ کو بھارت کے سوا اور کوئی پارٹنر نہیں مل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے صدر اوبامہ کے دورۂ بھارت پر اس قدر برہمی کا اظہار کیا ہے اور بھارت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے آغاز پر اتنا بھی پھولا نہ سمائے۔ نئی دہلی کو چین کے احساسات سے مکمل آگاہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرخارجہ سشما سوراج پہلی ہی فرصت میں بیجنگ جا رہی ہیں تا کہ انھیں یقین دلا سکیں کہ امریکہ کے ساتھ دوستی چین کی قیمت پر نہیں کی جا رہی۔ لیکن بیجنگ کو ممکنہ خطرات کا مکمل ادراک ہے۔ اسے علم ہے کہ خطے میں بھارت واحد طاقت ہے جو چین کو چیلنج کر سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ 1962ء میں چین کو بھارت پر فتح حاصل ہوئی تھی لیکن اس فتح کا نشہ اتنا تیز ہے جو ابھی تک بیجنگ کو مدہوش کیے ہوئے ہے لیکن اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ بھارت اس وقت کے بعد سے بہت آگے نکل چکا ہے۔
اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ 1962ء کی نسبت بھارت فوجی اعتبار سے خاصا مضبوط ہو چکا ہے۔ اس وقت بھارت کی ناوابستہ تحریک سے وابستگی امریکا کے ساتھ وجہ نزاع تھی۔ اس کے باوجود امریکہ نے جواہر لعل نہرو کی درخواست پر ہتھیار اور فضائی دفاع فراہم کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ چین نے بھارت کی فوجی طاقت کو فیصلہ کن شکست دینے کے بعد یکطرفہ طور پر ہی جنگ بندی کر دی تھی۔ صدر اوبامہ کے دورے نے بھارت کو یہ ضمانت فراہم کر دی ہے کہ اگر اس پر دوبارہ کوئی سخت وقت آیا تو وہ اکیلا نہیں ہو گا۔ اوبامہ کے دورے کے بعد اب بھارت خود کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے۔ نئی دہلی نے امریکہ کو پاکستان سے دور کرنے کی اپنی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ وزیراعظم مودی نے مبینہ طور پر صدر اوبامہ کے ساتھ ایک سے زائد مرتبہ بات چیت کی لیکن وہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی حمایت حاصل کر سکے۔
مشترکہ بیان میں ایک اضافی پیرا شامل کیا گیا تھا جس میں اسلام آباد پر زور دیا گیا کہ 26/11 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ امریکہ کے نزدیک دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت ناگزیر ہے۔ اصولی طور پر اس معاملے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ممبئی حملے کے ذمے داروں کو پکڑنے کی سنجیدگی سے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔
صدر اوبامہ کا یہ بیان کہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بے معنی ہے کیونکہ انھوں نے کسی عملی کارروائی کی یقین دہانی نہیں کرائی۔ یہ ظاہر ہے کہ اوبامہ ایک حد سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ پاکستان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ پھر بھی امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان کو کسی بات پر مجبور کر سکتا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر اور زیادہ دباؤ ڈالے۔
میری خواہش ہے کہ صدر اوبامہ اپنی حیثیت استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے مابین ایک ملاقات کا بندوبست کریں۔ ان دونوں کے نقطہ نظر میں جس قدر اختلاف بھی ہو اس کے باوجود ان دونوں ملکوں کو تجارت اور سیاحت کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور تلاش کرنا چاہیے۔ جب دونوں ملکوں میں ملاقات ہو گی تو وہ باہمی تعاون کے دیگر راستے بھی تلاش کر سکیں گے۔ اب چونکہ دونوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں اور نہ یہ دونوں کے آپس میں کوئی رابطے ہیں لہٰذا ان دونوں کے درمیان جو خلیج ہے وہ مسلسل بڑھتی رہے گی۔
صدر اوبامہ نے شمسی توانائی کے پیداوار بڑھانے کے لیے مالی امداد کی پیش کش کی ہے جس سے بھارتی حکومت کو ترغیب ملے گی کہ وہ وسیع پیمانے پر شمسی توانائی کا استعمال کریں۔ راجھستان میں بھارت نے پہلے ہی کچھ پلانٹ لگا رکھے ہیں، ان کی توسیع اور نئی تنصیبات کے بعد بھارت اتنی توانائی حاصل کر سکتا ہے کہ وہ اسے سرحد پار بھی بھیج سکے۔ پاکستان فی الوقت توانائی کی قلت کا شکار ہے۔
امریکہ صدر اوبامہ کی تجویز کے مطابق بھارت پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اضافی پیداوار میں پاکستان کو شریک کر لے۔ اس کے بعد دیگر اقتصادی منصوبوں میں بھی شراکت ہو سکتی ہے جس سے بھارت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ اوبامہ کی ذاتی دلچسپی سے ایسے منصوبے بڑی تیزی سے مکمل ہو سکیں گے اور پاکستان اور بھارت دونوں اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اقتصادی روابط سب سے مضبوط ہوتے ہیں۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)