مضامین

بھارت کا مستقبل اور متوقع دو لیڈران کا رویہ !

بھارت کا مستقبل اور متوقع دو لیڈران کا رویہ !

محمد آصف اقبال
کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تہذیب و ثقافت پر نظر ڈالی جائے کیونکہ ہر معاشرہ اپنی مقدس تہذیب و ثقافت کا عکاس ہوتا ہے۔کچھ یہی حال ہندوستان اور \”ہندوستانی معاشرہ\”کی ہے۔ گرچہ ہندوستانی معاشرہ مختلف نوع ثقافتوں کا ایک ملا جلا مرکب ہے اس کے باوجودیہ اکثریت و اقلیت میں تقسیم ہے۔اکثریت ان لوگوں کی جو ایک خاص فکر و عمل کے علمبر دار ہیں اور ہند میں رہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو \”ہندو\”کہتے ہیں تو اقلیت ان کی جو اپنا تشخص برقرار رکھناچاہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔لیکن ان دومتضاد معاشروں کو باہم ملانے اور یکسانیت پیدا کرنے کی کوششیں وقتاً فوقتاً جاری رہی ہیں۔ مقصد کے حصول کے لیے کبھی \”گنگا جمنی تہذیب\”کا لفظ استعمال کیا گیا تو کبھی کوشش کی کہ\” کومن پرسنل لاء\” متعارف و مقبول کیا جائے ۔اس کے باوجود ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی جدوجہد میں مصروف لوگوں کوکامیابی نہیں مل سکی۔شاید اس لیے کہ اقلیتی طبقہ اپنی پہچان برقرار رکھنا چاہتا ہے یا پھرشعور ی و لاشعوری طور پر افکار و نظریات کی سرد جنگ نے ایسانہ ہونے دیا۔ دوسری جانب گرچہ ہند کے رہنے والے اب تک سب \”ہندو\”نہیں بن سکے لیکن معاشرتی بنیادیں وتصورات،رسم و رواج اور سماجی نظام نے اپنی سطح تک ہر دو معاشروں پر اپنے اثرات ضرورمرتب کر لیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عمل کی حد تک مسلمان معاشرہ جو درحقیقت اسلامی معاشرہ کا عکاس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے۔ اوراس کی خطرناک تصویر یہ ہے کہ فکر ونظر میں بھی مسلمان اسلامی معاشرہ کے قیام میں سرگرم نہیں ہیں۔پس یہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر توجہ نہ کی گئی تو جو کچھ باقی ہے اس کے مٹنے کا بھی اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے۔
سردار پٹیل کے سوانح نگار کہتے ہیں:
سردار پٹیل کو لے کر بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امید وار نریندر مودی اور کانگریس کے درمیان چل رہی رسہ کشی کے پس منظر میں پٹیل کی مشہور سوانح عمری لکھنے والے راج موہن گاندھی نے کہا ہے کہ پٹیل کبھی بھی مودی کو اپنا نظریاتی جانشین نہ مانتے اور انہیں مودی کے مسلمانوں کے تئیں رویے سے بہت دکھ ہوتا۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار پٹیل کی سوانح عمری لکھنے والے اور مہاتماگاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کہا کہ پٹیل ایسا بالکل نہیں مانتے کہ 2002میں گجرات کے فسادات کے وقت مودی نے اپنا راج دھرم پوری طرح ادا کیا تھا۔ اس جملہ کا استعمال اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مودی کی مذمت کرنے کے لیے کہا تھا۔ راج موہن گاندھی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پٹیل صرف ایک ساستداں کے طور پر ہی نہیں بلکہ گجرات کے باشندہ ہونے کی وجہ سے بھی اس بات سے بہت مایوس،دکھی اور پریشان ہوتے کہ ایسے واقعات گجرات میں نہیں ہونے چاہیے تھے اور اس وقت کی حکومت اسے روکنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے راج موہن گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے حامیوں کی طرف سے یا خود ہی خود کو پٹیل کا جانشین سمجھنے والے مودی ،پٹیل کو نہ تو صحیح طریقے سے سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کا حق نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر مودی اس تصویر پر ابھرے ہوتے تو بہت اچھا ہوتا ، لیکن دو وجوہات سے وہ شکست کھا جاتے ہیں۔ پٹیل نے گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کی سرپرستی میں ایک شاگرد کی طرح ترقی کی۔ مودی نے یہ شروعات آر ایس ایس کی سرپرستی میں کی۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک شخص کے طور پر پٹیل ہمیشہ سے ایک گروپ کی تعمیر کرنے والے ہیں، دوسرے لوگ ان کے روز مرہ کی زندگی میں اہم کردار رکھتے تھے، جبکہ مودی ایسے ہیں کہ میں چاہوں گا کہ وہ ایسے ہی رہیں۔راج موہن گاندھی نے کہا کہ پٹیل کو کانگریس کا رکن ہونے پر فخر تھا اور انھوں نے یہ قبول کیا تھا کہ نہرو کو وزیر اعظم بنانے کا مہاتما گاندھی کا فیصلہ درست تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نہرو کو بین الاقوامی سطح پر مزید شناخت حاصل تھی۔ مرد آہن کے نام سے جانے جانے والے پٹیل نے 1947کے فسادات کے دوران آر ایس ایس کے کاموں کی تعریف کی تھی، لیکن گاندھی کے قتل کے بعد پٹیل کا رخ بدل گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اس ہندوستانی نظریاتی تنظیم کے دشمن نہیں تو سخت مخالف ضرور تھے۔
اور جالندھر میں پٹیل کی مورتی!
جالندھر،ریاست پنجاب میں چل رہی سیاست کے دوران ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈر وریندر شرما مطالبہ کر رہے ہیں کہ میونسپل کارپوریشن کے اسٹور میں رکھی پٹیل کی کانسہ کی مورتی کو شہر کے پٹیل چوک پر نصب کیا جائے۔لیکن جہاں ایک جانب بی جے پی کی قیادت والی جالندھر نگر نگم فی الحال6سال پرانی پٹیل کی کانسہ کی مورتی کو تلاش کرنے میں ناکام ہے۔وہیں دوسری جانب دونوں پارٹیوں کے لیڈران ایک دوسرے پرالزام تراشی کرتے نظر آرہے ہیں۔کانگریسی کہتے ہیں کہ بی جے پی کے لیڈران نے ہی مورتی کو گم کرکے اسے نیست و نابود کر دیا ہے اور شہر کے میئر کو بتانا چاہیے کہ آخر پٹیل کی مورتی کہاں ہے؟تو بی جے پی کہتی ہے کہ گجرات میں پٹیل کی مورتی کا سنگ بنیاد رکھتے ہی کانگریسیوں کوپٹیل کی یاد آگئی۔معاملہ یہ ہے کہ پٹیل کے انتقال کے بعد1950میں پٹیل کی ایک مورتی کو ریلوے اسٹیشن پر لگایا گیا تھا۔ریلوے کی مخالفت کے بعد کی وجہ سے تین سال بعد اسے پرانے ڈی سی آفس واقع میونسپل دفتر میں لگوادیا گیا۔ بعد میں دقت ہونے کی وجہ سے 1973میں مورتی کو وہاں سے ہٹا دی گئی اور تب سے یہ کارپوریشن کے اسٹور میں رکھی ہوئی تھی۔اور اب جب اس کو پٹیل چوک پر لگانے کی بات آئی تو وہ ملی نہیں۔اس پورے واقعہ کے پس منظر میں بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اس ملک مین پٹیل اور اس کی مورتی کی حیثیت کیا ہے۔اس کے باوجود آج کل مورتیوں کے ملک میں پٹیل کی مورتی پر سیاست جاری ہے!
سقوط حیدرآباد بھی پس منظر میں ہے!
\”مرد آہنگ\”کو اگر سقوط حیدر آباد وغیرہ کے پس منظر میں سمجھا جائے تو شاید ممکن ہے کہ نریندر مودی ،ان کی فکر،ان کے ماضی و مستقبل کے عزائم کو سمجھنے میں بھی آسانی ہو۔17؍جنوری 1948ء کو ، ممبئی میں 50 ہزار سے زائد اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر داخلہ ہند سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کہا تھا \”گاندھی جی عدم تشدد اور کچھ نہ کرو کی تلقین کرتے ہیں مگر ہم نے حکومت سنبھالی ہے اور ہمارے ملک میں گڑبڑ ہوتی ہو یا ملک کے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہو تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے اور ہم خاموش نہیں رہ سکتے \”۔ساتھ ہی 15؍اگست1948ء کو یوم آزادی ہند کے موقع پر نائب وزیراعظم ہند سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نشری تقریر میں کہا تھا\”کشمیر میں ابھی جنگ جاری ہے اور جہاں تک حیدرآباد کا تعلق ہے وہ ایک ناسور بن گیا ہے جس کا زہر بقیہ ہندوستان میں بدستور سرایت کرتا جا رہا ہے۔ حکومت ہند کو اس بات کا اعتمادہے کہ وہ کشمیر اور حیدرآباد کے مسائل کو آنے والے دنوں میں حل کرلے گی\”۔مزید8؍اگست 1948ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نائب وزیراعظم ہند نے بتایا کہ\”حکومت کو جواطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے ظاہر ہی کہ اب تک 8؍لاکھ ہندوستانی مسلمان حیدرآباد میں پناہ گزینوں کی صورت میں منتقل ہو چکے ہیں اور حکومت ہندوستانی مسلمانوں کی پناہ گزینوں کی صورت میں منتقلی کے انسداد کیلے ممکنہ تدابیر پر غور کر رہی ہے\”۔ سطور بالا کی تفصیلات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سقوط حیدرآباد میں کس حدتک اپنا نظری اور عملی کردار ادا کیا تھا! سقوط حیدرآباد، تاریخ کا ایک قابل لحاظ سفر طے کر چکا ہے جس کی تفصیلات میں بہت کچھ کہنا سننا باقی ہے۔ اب ہمارے لئے یہ سوال ہی اہم رہ گیا ہے کہ حیدرآباد کے مسلمان سقوط حیدرآباد کے تاریخی المیہ سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟ جبکہ مورخین کا پہلا اصرار یہی ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں گزرے ہوئے واقعات سے سیکھا جائے کیونکہ وہ ایسے تجربات ہوتے ہیں جن کے استعمال سے تاریخی بصیرت اور شعور پیدا ہوتا ہے اور انسانی مستقبل کو ایک بامعنی سمت دی جاسکتی ہے۔ اس پس منظر میں مستقبل کوبامنعی بنانے کیلئے ، بہادر یار جنگ کے الفاظ بھی ہمیں یاد رکھنا پڑیں گے ، بشرطیکہ ہم اپنے تاریخی شعور سے کام لینا چاہتے ہوں ۔انھوں نے کہا تھا کہ \”اب وقت آ گیا ہے کہ اگر آپ نے فوراً حالات حاضرہ سے واقف ہو کر اپنے امراض اور کمزوریوں کا علاج نہ کیا تو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دئیے جائیں گے \” (اقتباس:سقوط حیدرآباد میں سردار پٹیل کا رول،بشکریہ تعمیر نیوز)۔
مستقبل اور متوقع دو لیڈران کا رویہ:
یہ وہ مکمل پس منظر، پیش منظر اور حالات ہیں جن کی روشنی میں سردار پٹیل،ان کی فکر،ان کے منصوبہ اورذمہ دارنہ کردار بحیثیت وزیر داخلہ ہند ا بھر کر سامنے آتا ہے۔شاید اُسی پس منظر میں بی جے پی کے موجودہ \”مرد آہنگ\”اپنی ذمہ داری کو جو ان کو پارٹی کی جانب سے 2014الیکشن کے تعلق سے دی گئی ہے ، کا احساس رکھتے ہوں گے۔جس طرح ملک کی سا لمیت اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے سردار پٹیل نے بہت کم وقت میں اپنا کرداربخوبی ادا کیا ٹھیک اسی طرح مودوی اور ان کی پارٹی کے افراد اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتے ہوں گے!لیکن یہ ہمارا اور عوام کا قیاس ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کرنا چاہتے ہیں یا کرنا چاہتے ہوں گے ۔ برخلاف اس کے جس طرح گزشتہ دنوں ایک طرف اپنی تقریروں میں انھوں نے ایک نہیں مختلف مواقعہ پر اپنی کم علمی کا اظہار کرتے ہوئے تاریخ اور تاریخی واقعات و شخصیات کو مجروح کیا ہے وہیں دوسری طرف گودھرا اورگجرات میں انسانی جانوں کی ہلاکت اور بحیثیت وزیر اعلیٰ پورے معاملے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی بھی لازماًہمارے سامنے رہنا چاہیے۔صرف ان دو واقعات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ ملک اور اہل ملک کے حق میں سود مند ثابت نہیں ہو سکتے ۔دوسری طرف خاندانی سیاست کے وارث راہل گاندھی جو ایک طویل عرصہ سے سیاست میں داخلہ لیے ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ اپنی پہچان بنانے میں ناکام رہے ہیں۔اس کی ایک مثال سابقہ اتر پردیش کی ریاستی ذمہ داری اور اس میں ناکامی ہے تو وہیں حالیہ دنوں لکھی لکھائی تحریروں کو تقریوں میں منتقل کرتے ہوئے مظلوم مظفر نگرکے مسلمانوں کا تخریب کاری طاقتوں سے رابطہ میں رہنے کا الزام ہے۔اس واقعہ نے جہاں ایک جانب مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر مزید نمک مرچ چھڑکنے کا کام کیا ہے وہیں دوسری جانب وہ اپنی سیاسی ناتجربہ کاری کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کانگریس اور بی جے پی کے ان دو لیڈران میں سے کون مستقبل قریب میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالتا ہے ۔لیکن ان دونوں ہی لیڈران پر اہل ملک کو اطمینان نہیں ہے۔اور اگر یہ واقعہ ہے تو پھر کیا ہونا چاہیے ؟یہ فیصلہ بھی قبل از وقت ضروری ہے!