نقطہ نظر

بھارت کا نظریاتی بحران

بھارت کا نظریاتی بحران

کلدیپ نائر

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے وزارت عظمیٰ کے امید وار بھی ہیں مسلمانوں کی نمایندہ جماعت جمعیت علمائے ہند سے ایسے چار یا پانچ اقدامات کی فہرست دینے کو کہا ہے کہ جن کا اعلان کرنے سے وہ مسلمانوں کا اعتماد جیت لے۔ جماعت نے بجا طور پر اشارہ دیا ہے کہ یہ مودی کا ہی کام ہے کہ وہ سوچے کہ وہ کس طرح مسلمانوں کا خود پر اعتماد بحال کر سکتا ہے۔ ایک کام جو مودی سیدھے طور پر کر سکتا تھا وہ یہ کہ ریاست میں 2002ء میں ہونی والی قتل و غارت پر معافی مانگ لیتا جو مبینہ طور پر اسی کی آشیر باد سے ہوئی جب احمد آباد کے نزدیک گودھرا کے مقام پر کچھ ہندو یاتریوں کو ریل گاڑی کے ایک ڈبے میں جلا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس امر کی تصدیق کے لیے کافی شواہد ہیں کہ کس طرح اس نے اعلیٰ افسران کی ایک میٹنگ اس غرض سے بلائی کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے۔ مودی کی کابینہ کے ایک وزیر ہیرن پانڈے نے اس کارروائی میں حصہ لینے کے بعد اعتراف کیا کہ وہ پہلے سے تیار تھے اور پولیس کو کسی بھی قسم کی مداخلت نہ کرنے کی ہدایت تھی۔ بعد ازاں اسے ہلاک کر دیا گیا اور آج تک اس کا قاتل قانون کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ اور حالیہ دنوں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے (CBI) مرکزی تفتیشی ادارے کو لکھے ایک خط میں اعتراف کیا ہے کہ مودی نے اس مبینہ قاتل کو جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کے لیے اسے استعمال کیا۔
اپنی نامزدگی کے بعد پہلی تقریر میں ہی مودی نے بے شمار مسائل بشمول ہمسایہ ممالک سے تعلقات‘ دہشت گردی اور دفاع کو موضوع سخن بنایا لیکن اس نے مظفر نگر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ کہا۔ اس شہر نے جو دہلی سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر ہے پچاس انسانوں کی ہلاکت اور ہندوؤں اور مسلمانوں سمیت تقریباً چالیس ہزار انسانوں کو اس شہر سے کوچ کرتے دیکھا جو صدیوں سے اکٹھے رہتے آئے ہیں۔ در حقیقت یہ مودی جیسے لوگوں کی تقسیم در تقسیم پر مبنی سیاست کا نتیجہ ہے کہ سیکولر ازم کے حوالے سے بھارت کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ مودی ہندوتوا کے نظریے کا ’پوسٹر بوائے‘ ہے جیسا کہ میڈیا اس کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ آزادی کے 66 برس بعد بھی دونوں قومیتیں اپنے مذہبی رہنماؤں یا ان کے بھیس میں سیاسی لیڈروں کی کال پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کو چڑھ دوڑتی ہیں۔ قوم کو اپنے باطن کا مشاہدہ کرنا چاہیے کہ عوام الناس ان کے ہاتھوں میں کیوں کھیلتے ہیں اور بھارت بطور قوم کے ایک سیکولر جمہوری ریاست کے قیام میں کیوں ناکام ہو گیا ہے۔
مودی کو بھارت کی اجتماعیت کے اخلاقی ڈھانچے سے کوئی سروکار نہیں۔ اس نے ہندو کارڈ کا استعمال اس یقین کے ساتھ کیا ہے کہ ہندو اکثریت والے ملک میں سیکولر ازم کا کوئی جواز نہیں۔ اگر مودی نے یہ سبق گجرات کے فسادات کے بعد سیکھا ہے جس کا اس نے دعویٰ کیا ہے تو اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ کچھ روز قبل ہی اس نے گجرات کے فسادات میں مرنے والوں کا موازنہ کتے کے ان پِلوں سے کیا جو تیز رفتار گاڑی کے نیچے آ کر کچلے جاتے ہیں۔ مودی کو پروان چڑھانے والی جماعت (RSS) راشٹریہ سیوک سنگھ کو یقین ہے کہ وہ آیندہ انتخابات ’’اقلیتوں کے ساتھ جارحیت‘‘ کی بنیاد پر لڑنا چاہتی ہے۔ حالانکہ وہ اقلیتوں کی اپنی شناخت کے لیے اٹھائی جانے والی آواز کو یکسر غلط سمجھ رہی ہے۔ اگر اس میں جارحیت کا پہلو پنہاں ہے تو اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔ لیکن اکثریت کی طرف سے ہونے والی جارحیت فاشزم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسا ہی جرمنی میں ہوا جہاں نازیوں نے کنٹرول سنبھال لیا اور ہٹلر کھل کر سامنے آ گیا۔
یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مودی کو نامزد کیا ہے کہ وہ 2004ء اور 2009ء کے انتخابات فرقہ واریت کے ایجنڈے کی وجہ سے ہار گئے تھے۔ حتیٰ کہ اٹل بہاری واجپائی کی آزاد خیالی کا تاثر بھی اس پارٹی پر لگے تنگ نظری کے کلنک کو دھو نہ سکا۔
عمومی طور پر بھارتی معاشرہ متحمل معاشرہ ہے۔ لوگ مذہب کو سیاست میں شامل نہیں کرتے۔ بی جے پی (BJB) عوام الناس کو اور نہ ہی ان کی خواہشات کو سمجھ سکی ہے۔ بھارت کا تصور بھی ملک کے متنوع ہونے پر مبنی ہے۔ جو کچھ مظفر نگر میں ہوا وہ اس تنوع کے تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ ایک بار پھر بی جے پی نے ایک جعلی ویڈیو دکھا کر جلتی پر تیل ڈال دیا ہے۔
مظفر نگر کے دیہات سے آئے مہاجرین جو ہندو جاٹوں اور مسلمانوں پر مشتمل ہیں ،کہتے ہیں کہ ان پر حملہ کرنے والے باہر سے آئے ہوئے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہمیں اپنے گھر بیرونی عناصر کے دباؤ پر چھوڑنا پڑے تھے۔ ہمارے مسلمان دوستوں نے ہمیں پناہ دی اور سیالکوٹ چھوڑنے تک تقریباً ایک ماہ تک وہ ہمیں خورد و نوش فراہم کرتے رہے۔
مظفر نگر کے متاثرین بڑے تلخ لہجے میں شکایت کرتے ہیں کہ ہمسائے پْر تشدد کارروائی دیکھتے رہے، کوئی ان کی مدد کو آیا اور نہ ہی کسی نے اس خونریزی اور تباہی کو روکنے کی کوشش کی۔ جب فسادات سر اٹھاتے ہیں تو خونی رشتے بھی سرد مہری اختیار کر لیتے ہیں۔ مظفر نگر کے واقعات ملک میں انتشار اور خلفشار کا موجب بن رہے ہیں کیونکہ فرقہ واریت کا وائرس دیہاتی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ انتظامیہ اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اسے سیاست میں ملوث کر دیا جائے اور وہ حکمران جماعت کے احکامات کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ سرکاری افسران نے افسران بالا کے ردعمل سے ڈرتے ہوئے کوئی کارروائی نہ کی۔ پولیس کا محکمہ ایک بیمار ادارہ ہے اور اس کا جھکاؤ ہندوؤں کی طرف ہے۔ اور ملک بھر میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 15 فیصد ہے۔
میڈیا میں دی جانے والی رپورٹ کے مطابق مظفر نگر کے واقعات ایک اشتعال انگیزی کا نتیجہ تھے جس کا شبہ بی جے پی (BJP) کی جانب سے کی جانے والی سازش پر کیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان لڑکے کو کسی لڑکی کو چھیڑنے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ بدلے میں دو ہندو لڑکوں کو بھی بغیر کسی عدالتی کارروائی کے ہلاک کر دیا گیا اور پھر فسادات کا ایک ہولناک سلسلہ چل نکلا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیڈروں نے بھی اشتعال انگیز تقریریں داغ دیں۔ بی جے پی (BJP) نے ایک جعلی ویڈیو دکھا کر جلتی پر تیل انڈیل دیا جس میں کہیں اور ہندوؤں پر پْرتشدد اور ظالمانہ کارروائیاں ہوتی دکھائی گئیں۔ مسلمانوں کے ایک مولوی نے جمعہ کی نماز کے بعد ایک بڑے ہجوم کی قیادت کی۔ اور جیسا کہ ریاست کے گورنر نے مرکز کو بھیجی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ ملائم سنگھ یادیو کی حکمران سماج وادی پارٹی کی نسبت کہیں زیادہ نحیف ہو چکی ہے جو صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے مگر وہ خاصے الجھاؤ میں بھی مبتلا ہے۔ بی جے پی نے زیارتوں کے لیے رام مندر کی اس جگہ تعمیر کرائی جہاں بابری مسجد مسمار ہونے سے پہلے کھڑی تھی۔ اور اسی کی بنا پر اس نے ماحول کو آلودہ کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ آر ایس ایس RSS آیندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے پْر امید ہے۔ یہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ایک جمہوری سیکولر ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی قومی جدوجہد کے سماجی اخلاقیات کے ڈھانچے کو تہس نہس کر دے۔ مودی کی شخصیت کے جملہ خطوط بحیثیت ایک فطرتاً جابر انسان کے جو کبھی آر ایس ایس کا پرچارک تھا ہندو راشٹرا کے ایجنڈے کے عین مطابق ہیں۔
مجھے ایل کے ایڈوانی کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔ میں نے ان کی شکست خوردہ کیفیت کو 1979ء کے آخر میں دیکھا تھا کہ جب جنتا پارٹی نیا نہیں آر ایس ایس کے ساتھ روابط منقطع کرنے سے انکار پر نکال باہر کیا تھا۔ انھوں نے 1980ء میں بی جے پی کی بنیاد رکھی اور اٹل بہاری واجپائی کو جو ان کے ساتھ ہی پارٹی سے باہر ہوئے تھے، بی جے پی کا صدر بنا دیا۔ آج ایک مرتبہ پھر ایڈوانی دل گرفتہ حالت میں اکیلے کھڑاہیں اور ان کی تنہائی کی ذمے دار آر ایس ایس RSS ہی ہے۔ اس نے مودی کو وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے نامزد کیا ہے۔ جس طرح آر ایس ایس نے مودی کو بی جے پی پر مسلط کیا ہے، ایڈوانی کو یہ طریق کار ناگوار گزرا ہے۔ بظاہر آر ایس ایس سمجھتی ہے کہ اگر کوئی شخص ہندو راشٹرا کے نظریاتی موقف پر پورا اترتا ہے وہ مودی ہے ایڈوانی نہیں جنہوں نے مذہب کے کٹر اصولوں سے برسوں انحراف کیا ہے اور جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو سیکولر شخصیت تصور کرتا ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)