خبریں

بھارت کے دو عبرت انگیز واقعات!

بھارت کے دو عبرت انگیز واقعات!

اس وقت بھارت ایسے دو عبرت انگیز واقعات سے گزر رہے ہیں جنھوں نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دونوں میں اگر چہ بالواسطہ طور پر کوئی مطابقت نہیں ہے لیکن اپنی فطرت کے اعتبار سے دونوں میں کم از کم ایک مماثلت ضرور ہے۔ اور وہ ہے ان کا جنسی پہلو۔ پہلا معاملہ دوہرے قتل سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرے میں اگر چہ جسمانی قتل نہیں ہوا ہے لیکن عزت و ناموس کا قتل ضرور ہوا ہے۔ پہلے معاملے میں سزا سنائی جا چکی ہے اور دوسرا معاملہ الزام کے مرحلے سے آگے گزرتے ہوئے عدالتی کارروائی تک پہنچ رہا ہے۔ پہلے میں الزام ثابت ہو چکا اور دوسرے میں ابھی باقی ہے۔
آئیے اول الذکر معاملے پر پہلے نظر ڈالتے ہیں۔ یہ ہے ایک امیر والدین کی چودہ سالہ اکلوتی بیٹی آروشی اور گھریلو نیپالی ملازم ہیم راج کا قتل اور اس میں سنایا جانے والا فیصلہ۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ساڑھے پانچ سال پرانے اس معاملے میں آروشی کے والدین کو مجرم ٹھہرایا ہے اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ حالانکہ والدین یعنی ڈاکٹر راجیش اور نوپر تلوار کا اب بھی یہ اصرار ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔ یعنی ان کے مطابق جس نے اس کو قتل کیا ہے اسے سزا دلا کر رہیں گے۔ اس معاملے میں اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا کہ والدین نے ہی لڑکی کا قتل کیا ہے لیکن واقعاتی شواہد اتنے زیادہ تھے کہ عدالت کو بالآخر والدین کو مجرم ٹھہرانا پڑا۔ عدالت نے اپنے طویل فیصلے میں ایسے 26نکات گنائے ہیں جو والدین کے خلاف جاتے ہیں اور جن سے یہ ہویدا ہوتا ہے کہ ہو نہ ہو قتل والدین نے ہی کیا ہے۔ قانونی ماہرین کے خیال میں عدالت کو اس معاملے میں فیصلہ سنانے میں کافی ذہنی مشقت کرنی پڑی ہوگی۔ اس نے اس سے قبل واقعاتی شواہد کی روشنی میں سنائے جانے والے فیصلوں کو نظیر بنایا اور پھر اپنا فیصلہ سنایا۔
اس معاملے کی تمام تفصیلات سامنے آچکی ہیں کہ کیسے کیسے کیا کیا ہوا تھا۔ رات میں والدین، مقتولہ اور گھریلو ملازم کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں تھا۔ مقتولہ کی لاش جہاں اس کے بستر پر پائی گئی وہیں ملازم کی لاش چھت پر دو روز بعد ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر راجیش اور نوپر تلوار نے آروشی اور ہیم راج کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا اور غصے میں آکر انھوں نے اس کا قتل کر دیا۔ گویا یہ بھی آنر کلنگ کا معاملہ یعنی خاندانی عزت کی خاطر کیا جانے والا قتل تھا۔ اس معاملے میں جو بات بنیادی نکتے کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ خاندانی عزت داغدار ہوئی تھی۔ ایک گھریلو ملازم کے ہاتھوں امیر والدین کی اکلوتی بیٹی کی چادر عصمت تار تار ہوئی تھی۔ اب اس میں دونوں کی مرضی و منشا شامل تھی یا نہیں یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہے یہ معاملہ جنسی زیادتی کا۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو پائیں گے کہ موجودہ زمانے کا لائف اسٹائل قصوروار ہے۔ صنفی برابری کے نام پر اور آزادانہ ماحول میں زندگی گزارنے کی خواہش کے نتیجے میں وہی کچھ ہوتا ہے جو ہوا ہے۔ جب والدین بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھ رہی اپنی بیٹی کو ایک ملازم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے تو یہی کچھ ہوگا۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنسی خواہش ایک ایسی چیز ہے جس پر بڑی مشکل سے قابو پایا جاتا ہے۔ اور جب حالات ایسے ہوں کہ کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہ ہو اور مخلوط رہائش کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ گھلنے ملنے پر کوئی اعتراض نہ ہو تو ظاہر ہے کہ آگ تو لگے گی ہے۔ اب اس آگ پر کیسے قابو پایا جائے یہ اصل مسئلہ ہے۔ لیکن جب گھر کے بڑوں نے دیکھا کہ آگ لگانے میں دونوں شامل ہیں تو انھیں غصہ آنا فطری تھا اور انھوں نے وہی کیا جو ان حالات میں عام طور پر باضمیر والدین کر سکتے ہیں۔ انھیں اس کا ہوش نہیں رہا کہ وہ اپنی اکلوتی بیٹی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ بہر حال یہ جو کچھ ہوا ہے وہ ایسے والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جو گھروں میں مرد ملازم رکھتے ہیں اور آزادی کے نام پر سب کو ایک دوسرے کے ساتھ گھلنے ملنے کی چھوٹ دیتے ہیں۔
دوسرا معاملہ تہلکہ کے بانی ایڈیٹر ترون تیج پال کا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی ایک خاتون ساتھی صحافی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ یہ معاملہ گوا میں منعقد ہونے والے تہلکہ کے ایک پروگرام ’’تھنک فیسٹ‘‘ کے دوران پیش آیا۔ تیج پال پر الزام ہے کہ اس نے لفٹ میں مذکورہ خاتون کے ساتھ دو بار جنسی بدسلوکی کی۔ اس نے اس کے ساتھ کیا کیا اس کی تفصیل خاتون بتا چکی ہے۔ یہ بات اخباروں میں بھی تفصیل سے آچکی ہے اور گوا پولیس میں لکھائی گئی رپورٹ میں بھی۔ سب سے پہلے اس نے تہلکہ میگزین کی مینیجنگ ایڈیٹر شوما چودھری سے شکایت کی۔ اس پر تیج پال نے ایک ای میل کے ذریعے معافی مانگی اور ایڈیٹر شپ سے چھ ماہ کے لیے مستعفی ہونے کی پیشکش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک طرح کا کفارہ ہے جو وہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ اس نے بد سلوکی کی ہے لیکن وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اس میں خاتون کی منشا شامل ہے اورجب بقول اس کے ’’مجھے معلوم ہوا کہ اس میں اس کی منشا شامل نہیں ہے تو میں اس حرکت سے الگ ہو گیا‘‘۔ بعد میں اس نے عدالت میں پیشگی ضمانت کی جو درخواست دی۔ اس میں اس نے بہت سی باتوں کی تردید کی اور کہا کہ پروگرام کے دوران مذکورہ خاتون نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ وہ تمام پروگراموں میں ہنسی خوشی شامل ہوتی رہی۔ اگر چہ تیج پال نے بعد میں یہ اپیل واپس لے لی لیکن اس نے بی جے پی پر الزام بھی لگایا کہ چونکہ اس کے ادارے نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا تھا اس لیے انھو ں نے اس کے خلاف سازش کی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس معاملے نے کس طرح سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے، یہ بھی جنسی آزادی اور ماڈرن زمانے کا ایک لازمی مظہر ہے۔ ایک شخص جب لفٹ میں ایک عورت کو تنہا پاتا ہے تو اس کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کرتا ہے اور عورت بھی کیسی اس کی بیٹی کی عمر کے برابر۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ تیج پال کی بیٹی اور مذکورہ خاتون دوست ہیں اور دوسری طرف خاتون کے باپ اور تیج پال میں بھی دوستی ہے۔ اس کے باوجود تیج پال کا ایسی حرکت میں ملوث ہونا باہمی اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔ وہ لڑکی جو تیج پال کو اپنے والد کے برابر سمجھتی رہی ہے جب ایسے حالات سے گزری ہوگی تو اس پر کیا بیتی ہوگی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ اگر پروگرام کے دوران کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس سے خوش تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ بقول اس کے اس نے تیج پال کی حرکتوں پر مزاحمت کی تھی۔
یہ معاملہ بھی صنفی مساوات اور جنسی آزادی کے معاملے سے وابستہ ہے۔ اگر ان میں اتنی بے تکلفی نہ ہوتی کہ تیج پال جنسی چھیڑ چھاڑ تک پہنچ جائے تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا۔ اگر ایک مرد اور عورت کے مابین وہ دوری قائم رہی ہوتی جس کی ایک مہذب معاشرے میں ضرورت ہوتی ہے تو یہ معاملہ پیش نہیں آتا۔ اب اگر ترون تیج پال اس بد سلوکی کا اعتراف کرتے ہوئے کفارہ ادا کرنے کی بات کرتا ہے تب بھی اس کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ خواتین کے خلاف جرائم کے تعلق سے جو نیا قانون منظو رہوا ہے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی عورت کسی کے خلاف یہ شکایت درج کرادے کہ فلاں شخص اسے گھور رہا تھا یا اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس کی گرفتاری ہو جائے گی اور ضمانت نہیں ہوگی۔ اوراب تو مذکورہ خاتون نے گوا پولیس میں شکایت بھی درج کرا دی ہے۔ لہٰذا تیج پال کے خلاف قانونی کارروائی درست ہے۔
بہر حال یہ معاملہ جیسا کہ ذکر کیا گیا آزاد او رماڈرن ماحول کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے ایسے ماحول میں ایسے واقعات سے مفر نہیں ہے۔ اگر معاشرہ ایسے گھناونے واقعات سے نجات پانا چاہتا ہے تو اسے اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی اور ایک شریفانہ ماحول قائم کرنا ہوگا۔ ایک ایسا ماحول جہاں مرد اور عورت کے درمیان ضروری حد فاصل قائم ہو اور ان کو اس کی اتنی آزادی نہ دی جائے کہ وہ جنسی احترام کو بھول جائیں اور انسانیت سے گرتے ہوئے حیوانیت پر اتر آئیں۔ یہ واقعہ مہذب سماج کے منہ پر ایک زورادر طمانچہ ہے او راس کے ساتھ ہی ایک شریف معاشرے کے لیے عبرت انگیز بھی ہے۔
سہیل انجم