اداریہ

بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات اولین ترجیح

پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے خارجہ پالیسی کے خدوخال اور ترجیحات وضع کرتے ہوئے تمام ممالک میں موجود سفراء کو اس پر کام کرنے کیلئے کہا ہے۔ جو خط مختلف ممالک میں موجود پاکستانی ہائی کمشنروں کوبھیجے گئے ہیں ان میں نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پرامن اور ترقی پسندانہ تعلقات اولین ترجیح ہو گی۔انہوں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آ باد تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی راہ پر گامزن رہے گا۔تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بڑی ترجیحی قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہا رکیا کہ ان کا ملک تمام ہمسائیوں بالخصوص بھارت کے ساتھ پر امن اور ترقی پسندانہ تعلقات کی راہ پر گامزن رہے گا۔تاہم نواز شریف نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندو پاک تعلقات میں خوشگواریت لانے کیلئے تمام حل طلب مسائل پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگا۔اسلام آبادمیں پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف نے مختلف ممالک میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنروں کے نام اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت پاکستان کی توجہ فوری طور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے گی۔انہوں نے اپنے پیغام میں یہ واضح کیا ہے کہ جب تک خطے میں امن نہیں ہوگا تب تک کسی بھی ملک میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ نواز شریف نے امن و امان کی صورتحال اور بہتر تعلقات کیلئے تنازعات کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے باہمی تعلقات بہتر بنانے کیلئے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل و معاملات کے حل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو بڑی ترجیح قرار دیتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ باہمی تعلقات کو بنانے کیلئے مذاکرات کے عمل کو نتیجہ خیز بنانا ہوگا۔ شریف نے پھر ایک مرتبہ اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کو جموں و کشمیر سمیت اپنے تمام دو طرفہ معاملات اور تصفیہ طلب مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ اس خطے میں حقیقی امن قائم رہنے کے ساتھ ساتھ ترقیاتی عمل میں سرعت لائی جا سکے۔میاں محمد نواز شریف نے پھر ایک مرتبہ کہا کہ جنرل مشرف کی طرف سے سال 1999میں ان کا تختہ پلٹ دینے کے وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات و امن کا عمل جہاں رک گیا تھا ،اب وہ عمل وہیں سے پھر شروع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ اس خطے میں پائیدار امن اور حقیقی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوری خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ پر امن تعلقات کے ساتھ ساتھ ترقی پسندانہ روابط کو استوار کیا جائے اور اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ مذاکرات اور امن عمل کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھا کر نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی جائے گی۔پر امن اور مستحکم افغانستان ،پاکستان کے مفاد میں ہے اس لئے نئی حکومت کی یہ کوشش ہو گی کہ اس قریبی ہمسائیہ اور برادر ملک میں امن و استحکام کی کوششوں میں تعاون کر سکے۔ نواز شریف نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دونوں ملکوں کے مختلف محاذوں پر مشترکہ مفادات ہیں اور اسی کے تحت امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کا خاکہ کھینچا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں جو سرد مہری اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں ، ان کا سد باب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔