اداریہ

بھاری پولنگ:فائدہ کس کو؟

اب اگر چہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے دو مرحلے مکمل ہوئے ہیں اور دونوں مرحلوں میں ووٹروں نے بڑ چڑ کر حصہ لیا۔ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے میں ووٹروں کی بھاری شرکت نے کئی حلقوں کو حیران کر دیا ۔ پہلے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح اگر چہ 70 فیصدی رہی تاہم دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کی شرح مجموعی طور 72 فیصد رہی۔ اس طرح سے پہلے مرحلے سے زیادہ دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کی شرح رہی۔ رواں سال کے ابتداء کے مہینوں میں ہی پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے اور ریاست میں ان پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی۔ رواں سال کے ہی ستمبر مہینے میں طوفانی سیلاب بھی آیا اور آناً فاناً وادی کے اکثر علاقوں خاص کر شہر سرینگر کے کئی علاقوں کو تباہ و برباد کر کے چھوڑ دیا۔ کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور گھریلو املاک کوبھی تباہ و برباد کر دیا۔ سیلاب کے دوران حکومت نے اگرچہ عوام کے لئے اتنا کچھ نہیں کیا جتنا کہ عوام کو درکار ہے یا جتنا کہ حکومت کر سکتی ہے یا جتنا کہ عوام کو ضرورت ہے۔ شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں سیلاب کے دوران حکومت کے بجائے عام نوجوانوں نے بچائو کارروائیوں میں حصہ لیا اور حکومتی مشینری ان علاقوں میں ایک طرح سے ناکام ہوئی یا حکومتی مشینری نے جان بوجھ کر ان علاقوں میں بچائو کارروائیاں انجام نہیں دی ۔ تاہم اُس وقت یہی اندازہ لگایا جاتا تھا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کا خمیازہ ضرور حکومت کو اٹھانا پڑے گا اور یہ بھی خدشہ تھا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں پولنگ کی شرح بہت کم رہے گی کیونکہ عوام حکومت کے تئیں سخت ناراض تھی ۔ مگر یہ خدشے اس وقت مسترد ہوئے جب ووٹروںنے ایک کے بعد دوسرے مرحلے میں بھاری ووٹنگ کی جس کی مجموعی شرح 72 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ اب جبکہ چنائو کے تین مرحلے اور بھی ہیں اور آنے والے ان تین مرحلوں میں پولنگ کی شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور یہ بھاری ووٹنگ کس کے فائدہ کا باعث بن سکتی ہے۔اب دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ عوام کے چنے ہوئے نمائندے عوام کے فائدے کیلئے کچھ کر سکتے ہیں کہ نہیں البتہ کامیاب امیدواروں کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ کس پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہوں گے۔ اندازہ یہی ہے کہ ایک ہی جماعت اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ہے البتہ بر سراقتدار جماعتوں کو اپنے کئے کاضرور خمیازہ اٹھانا ہوگا۔