سرورق مضمون

بھاری پولنگ اورمحدود بائیکاٹ/ معمولی تشدد کے بیچ الیکشن کا دوسرا مرحلہ مکمل

ڈیسک رپورٹ/

ریاست میں 2 دسمبر کو الیکشن کا دوسرا مرحلہ پرامن طور اختتام کو پہنچا۔ اس مرحلے میں کل 18اسمبلی حلقوں میں نمائندے چننے کے لئے ووٹ ڈالے گئے ، جن میں کئی ایک حلقے بہت ہی اہم اور حساس سمجھے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ کے اختتام پر جو اعداد وشمار سامنے لائے گئے ان کے مطابق مجموعی طور 72 فیصدرائے دہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ البتہ وادی کشمیر کے کچھ مخصوص حلقوں میں بائیکاٹ کا اثر بھی دیکھاگیا۔ اس طرح کے حلقوں میں کولگام ، دیوسر اور ہوم شالی بوگ کے چند گائوں کا نام لیا جاتا ہے ۔تمام حلقوں میں ریاسی کے حلقے میں سب سے زیادہ یعنی 80 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس کے مقابلے میں سب سے کم ووٹ کولگام ضلع کے ہوم شالی بوگ میں ڈالے گئے۔ یہاں صرف 36 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا۔ اس حلقے سے اطلاع ہے کہ لوگوں نے علاحدگی پسندوں کی اپیل پر الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کیا ۔ اسی طرح کولگام کے ہی نورآباد علاقے میں اس بار توقع کے برعکس کم ووٹ ڈالے گئے۔ یہاں 58 فیصد کے لگ بھگ ووٹ ڈالے گئے۔یہاں سے ریاست کی واحد خاتون کابینہ وزیر سکینہ ایتو الیکشن لڑرہی ہیں ۔ ان کا مقابلہ پی ڈی پی کے امیدوار مجید پڑرو سے ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہاں پہلی بار سکینہ ایتو کو سخت مقابلہ ہے اور کئی لوگ ان کی پوزیشن کمزور قرار دے رہے ہیں۔ کولگام اسمبلی حلقے کے کئی دیہات میں بھی بہت کم ووٹ پڑے ۔ اس حلقے سے سی پی آئی (ایم) کے واحد ممبر یوسف تاریگامی پچھلے تین انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس بار لوگ تبدیلی کی توقع کرتے تھے ۔ لیکن تاریگامی نے اپنی کامیابی اس بار بھی یقینی قرار دی ہے ۔ شمالی کشمیر سے اطلاع ہے کہ یہاں کپوارہ ، کرناہ اور لنگیٹ حلقوں میں 70 فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے ۔ یہاں لوگوں میں ووٹنگ کے روز کافی جوش و خروش نظر آرہاتھا۔ کپوارہ ضلع کے کنن پوشہ پورہ کے گائوں میں آرمی کے ہاتھوں مبینہ طوربیس سال پہلے عصمت ریزی کی شکار خواتین نے پولنگ بوتھ کے سامنے احتجاج کیا اور ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ البتہ شہید مقبول بٹ کے گائوں میں ووٹروں نے بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ووٹ تبدیلی کے لئے ڈالا۔ کپوارہ میں پیوپیلز کانفرنس کے الیکشن میں اترنے کے فیصلے کو ووٹنگ میں ابھار کا بنیادی سبب قرار دیا جاتا ہے۔

ادھر الیکشن کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر ریاست کادورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بار ان کی توجہ جموں کے بجائے وادی کشمیر ہے ۔ بی جے پی پہلی بار ریاست کے انتخابات میں اس قدر دلچسپی کااظہار کررہی ہے ۔ اس سے پہلے بی جے پی کے کئی اہم مرکزی رہنما ریاست میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرنے یہاں تشریف لائے ۔ امیت شاہ سے لے کر مرکزی وزیر ارون جیٹلی تک کئی لیڈر یہاں تشریف لائے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کے لئے کشمیر اسمبلی کے انتخابات مرکزی اہمیت کے حامل بن چکے ہیں۔ پارٹی کی ان انتخابات کے حوالے سے اس قدر دلچسپی کے حوالے سے لوگ مختلف آرا بیان کرتے ہیں۔ مقامی طور اس بارے میں لوگ سخت تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی آئین میں کشمیرکو دی گئی خصوصی پوزیشن ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس غرض سے پارٹی +44 کا نعرہ دے چکی ہے۔ پارٹی اسمبلی میں چوالیس نشستیں حاصل کرکے آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے ۔ یہ جاری انتخابات میں ایک اہم ایشو بن گیا ہے ۔ بی جے پی نے پچھلے پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنے مینی فیسٹو میں لوگوں سے آئین کی دفعہ 370 ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اپنے اس وعدہ کو عملی شکل دینے کے لئے پارٹی چاہتی ہے کہ کشمیر میں اقتدار کسی نہ کسی طرح حاصل کیا جائے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پارٹی نے کچھ مقامی جماعتوں سے تال میل پیدا کیا ہے۔ اب تک صرف پیوپلز پارٹی کے رہنما سجاد غنی لون ہی اعلانیہ بی جے پی سے اتحاد کا اعلان کرچکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ دہلی میں الیکشن سے پہلے اہم ملاقات کی۔ اگرچہ مختلف پارٹی لیڈر ایک دوسرے پر بی جے پی کااتحادی ہونے کا الزام لگاتے ہیں تاہم ہر کوئی اس سے انکار کرتا ہے ۔ البتہ اب تک ابھر آئے الیکشن منظر نامہ سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی اپنے بل پر حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوگی بلکہ اتحادی سرکار بننے کا امکان پیدا ہورہاہے ۔