مضامین

بیت المقدس…تاریخ کے آئینہ میں

بیت المقدس…تاریخ کے آئینہ میں

فخر عالم

مسجد اقصیٰ کی بدولت یروشلم کو مکہ اور مدینہ کے بعد مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین شہر کی حیثیت حاصل ہے۔ اقصیٰ کا مطلب دور کی مسجد کے ہیں۔ مسجد سے یہاں مراد’’ بیت المقدس‘‘ کے حرم مقدس کا پورا رقبہ ہے’’ یہودی روایت کے مطابق اس جگہ کبھی ’’ ہیکل سلیمانی‘‘ قائم تھا۔ اس’’ ہیکل کو بخت نصر شاہ بابل‘‘ نے چھٹی صدی ق م میں مسمار کر دیا۔ پروفیسر کریسول لکھتا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی جنوبی دیوار کے ساتھ ساتھ ایک عمارت تعمیر کی گئی تھی جو مشہور یہودی مورخ’’جوسفیس‘‘ کے بیان کے مطابق تین دالانوں پر مشتمل تھی۔
یہ مقدس شہر’’ موریہ‘‘ اور’’ صہیون‘‘ کی پہاڑیوں پر واقع ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی دور حکومت سے قبل بالعموم اور حضرت دائود سلیمان کے عہد میں بالخصوص یروشلم سلطنت کا صدر مقام تھا۔ لیکن عہد اسلامی میں اس کی حیثیت ختم کر دی گئی۔ قرآن مجید میں ’’ بیت المقدس‘‘ یا یروشلم وغیرہ الفاظ کے ساتھ تو کہیں ذکر نہیں’’ مسجد الحرام‘‘ سے خانہ کعبہ اور اس کے آس پاس کی جگہ یعنی صحن اور مسجد اقصیٰ سے بیت المقدس مراد ہے۔ وہ مقدس مقامات جن کی بدولت یہ مقدس شہر مسلمانوں، عیسائیوں اوریہودیوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اکثر وبیشتر شہر کی مشرقی پہاڑی (موریہ) پر ایک احاطہ میں ہیں، جن کو اہل اسلام ’’ حرم شریف‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں جو بیت المقدس کا مقدس ترین حصہ ہے۔
634ء خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ شہر میں داخل ہوئے اس سے قبل یہ شہر صدیوں تک پہلے رومی اور بعد اس کے نظیفی تصرف میں رہ چکا تھا۔ ٹھیک پانچ سو سال قبل ہارون نے شہر سے یہودی زندگی کے آخری آثار تک ختم کر دئیے تھے اس نے قدیم شہر کو مکمل طور پر تباہ کر کے اس پر ہل چلوادئیے اور اس جگہ ایک رومن آبادی’’ایلیا کیسی تولینا‘‘ کے نام سے ابھری اور جہاں کبھی ہیکل تھا اس جگہ جیوپیٹر کی قربان گاہ بنائی گئی۔ یہودیوں کے شہر میں داخل ہونے پرپابندی لگا دی گئی۔
حضرت عمر فاروق ؓ ایک فاتح کی حیثیت سے شہر مقدس میں داخل ہوئے اور اہل شہر کو پناہ دینے کے بعد ان کے سامنے صرف ایک مقصد تھا… جلد سے جلد اس مقدس مقام کو تلاش کرنا۔ جہاں سے سرورکائنات سفر معراج پرتشریف لے گئے تھے۔ اذان سرور کائنات کے موذن حضرت بلال ؓ نے دی، اپنے آقائے مولا کے وصال کے بعد سے حضرت بلال ؓ نے آپ کی یاد میں اذان دینا ترک کر دیا تھا لیکن امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے اصرار اور صحابہ کبارؓ کی آرزو پر حضرت بلال ؓ نے اس موقع پر اذان دی اور سب نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ کے پیچھے نماز ادا کی۔ حضرت عمر ؓ کے قافلہ میں صحابہ رسول ؐ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ عبیدہ بن الصامت ؓ، حضرت شداد بن اوس تھے جنہوں نے یروشلم کو اسلامی تعلیمات کا گہوارہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حضرت عمر ؓنے شہر چھوڑنے سے قبل صحرہ اور براق باندھنے کے قریب ایک جگہ جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت عمر ؓ کے حکم یا دُعا سے اس خرابہ پر جو مسجد اٹھائی گئی، اس کا تذکرہ کسی ، عرب مورخ یا تاریخ داں نے نہیں کیا۔ اس کے برعکس مورخین ’’ تھیوفینس‘ الیاس ناصبی‘‘ اور ’’ میکائیل شامی‘‘ نے اپنی تاریخ میں سقوط یروشلم اور ہیکل کی جگہ ایک مسجد کا موجود ہونا لکھا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سادہ لیکن ایمان کی حرارت سے گرم عمارت کب تک قائم رہی۔ البتہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سادہ سی ابتدا کے ۵۰ سال بعد اس شہر میں اسلامی طرز تعمیر کی عظیم یادگاروں کا آغاز ہوا۔
ان دونوں عظیم عمارتوں کی اساس پانچویں اموی خلیفہ عبدالمالک بن مروان نے72ھ/691ء میں اٹھائی۔ اس سلسلے میں اس کے سیاسی عزائم کو بہت کچھ ہوادی جاتی ہے۔ عباسی خلفانے بھی اپنے پیش روئوں کی اس روایت کو زندہ رکھا اور ان میں سے کم و بیش تین تو ایسے تھے جنہوں نے ایک زائر کی حیثیت سے مسجد اقصیٰ میں حاضری دی ۔ مقدسی لکھتا ہے۔ مسجد اقصیٰ شہربیت المقدس کے جنوب مشرق گوشے میں واقع ہے۔ حرم کی سنگین چاردیواری کے پتھر طول میں کم وبیش دس ورع ہیں۔407ء اور425ھ/۴۳۰۱ء میں شدید زلزلے آئے۔ جن سے زبردست نقصان ہوا۔ جسے فاطمی خلیفہ الظاہر نے از سر نو تعمیر کرایا۔’ علی ہروی‘‘ لکھتا ہے کہ فاطمی خلیفہ کے حکم سے دروازں پر از سر نو سونے کی مینا کاری کی گئی۔ مشہور ایرانی سیاح’’ناصر خسرو‘‘438ھ/1047ء میں’’بیت المقدس‘‘ آیا تھا۔ اس کے عہد میں کچھ تبدیلیاں آچکی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے ستونوں کی تعداد280بتائی ہے۔’’ امام غزالی‘‘ نے جو’’خسرو‘‘ کے پچاس برس بعد بیت المقدس آئے اور جنہوں نے مغربی دیوار سے ایک تیر کے فاصلے پر اقامت اختیار کی، کسی معبدیا دیوار گِریۂ کا ذکر نہیں کیا’ الغزالی‘ کے زیارت کے چار سال بعد1099ء میں اسلام پر بدترین دن آیا گوڈفری دی بوئلون ، شہر مقدس پر قابض ہو گئے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ اور احاطہ حرم کے قریبی حصوں میں بہت سی تبدیلیاں کیں۔
’’ جغرافیہ نویس‘‘ ادریس نے اپنی تالیف ’’ نرہت المشتاق‘‘1154ء میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بیت المقدس پر عیسائیوں کے قبضہ سے لے کر تادم تحریر الدادیہ نامی دستہ کے سپاہی مسجد الاقصیٰ کو رہائش گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں‘‘
’’القدس‘‘ میں صلاح الدین کا داخلہ1173ء میں حضرت عمرؓ کی آمد سے بھی زیادہ اہمیت کا باعث بنا، وہ سرور کائنات کے سفر معراج کی سالگرہ کے دن یعنی27؍ رجب کو القدس میں داخل ہوئے۔ ابن اثیر کے بیان کے مطابق نصرت عمر کے حکم سے عمارت کو پہلی حالت میں درست کیا گیا۔ پھر مسجد قدس کی فضائیں اذان کی صدا سے گونج اٹھیں۔ اس کی یاد میں کتبہ آج بھی مسجد کی درمیانی محراب کے اوپر موجود ہے۔ ابنِ بطوطہ بیت المقدس آیا تھا، وہ تفصیلات نہیں بتاتا البتہ عمارت کی تحسین میں رطب اللسان ہے اور چٹان وقبہ کا ذکر کرتا ہے،432میں الملک الاشرف برس بالی نے اپنے نائب شہزادہ ارکاس حلیمانی کو حکم دیا کہ متعدد دیہات اور دوسری جائیداد خرید کر اس مقدس عمارت کی دیکھ بھال کے لئے وقف کر دی جائے۔’’ مجیران‘‘ بیان کرتا ہے کہ1448ء میںآگ لگنے یا برق گرنے سے’’ قبۃ الصخرہ‘ کی چھت جل کر تباہ ہو گئی اور سلطان الملک الظاہر نے اسے دوبارہ اس طرح تعمیر کرایا کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوش نما ہو گئی۔1467ء میں قبۃ الصخرہ کے تمام چوبی دروازوں پر نہایت خوبصورت کام کی تانبے کی چادریں چڑھوائیں۔ جس سے ان کی مضبوطی اور دلکشی میں گراں قدر اضافہ ہوا۔
سولہویں صدی کے اول میں بیت المقدس ترکمان عثمانی کے قبضہ میں آگیا اور538ھ میں سلطان سلیم اول کے فرزند سلطان سلیمان کے حکم سے حرم القدس کی تزئین وآرائش پر توجہ دی گئی تو مسجد کی بیرونی دیواروں میں نئی ٹائلیں پر توجہ دی گئی تو مسجد کی بیرونی دیواروں میں نئی ٹائلین لگانے اور گول گنبد کے زریں حصے میں سنہری کھڑکیاں نصب کرنے کے ساتھ ساتھ قبۃ الصخرہ کے گول ستونوں پر سنگ مرمر لگایا گیااور رقبہ کی تجدیدو مرمت ہوئی۔ مولانا شبلی1892ء میں لکھتے ہیں کہ’’ صخرہ کا قبہ بلند چیوترہ ہے، اس مشن برج کی بلندی کم و بیش سوفٹ ہے۔دیواروں پر نہایت عمدہ لاجوری اور طلائی کاکام ہے۔ چمک اور روشنی سے آنکھ نہیں ٹھہرتی۔
1917ء میں ترکوں نے احترام شہر کی بنا پر لڑے بغیر شہر خالی کر دیا تو1919ء میں یہ شہر برطانوی انتداب میں آگیا۔1920ء میں مسلم مقامات و آثار کی حفاظت و نگہداشت کے لئے ایک اعلیٰ مجلس اسلامی( سپریم مسلم کونسل) قائم کی گئی اس مجلس کو ان مقامات کے اوقات سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی کے صرف کامجاز قرار دیا گیا۔1927ء میں کونسل نے گنبد صخرہ کی مرمت وسیع پیمانے پر کروائی۔ مولانا الیاس برنی کے الفاظ میں اس کے لئے اکثر ممالک اسلام سے چندہ کیا گیا۔ گنبد کی درستی میں ترکی انجینئروں نے انتہائی کمال فن کا مظاہرہ کیا۔ قدیم گنبد اپنی جگہ معلق رہا اور اس کے نیچے کی دیواریں تعمیر ہوئیں اور نقش و نگار کی تجدید کی گئی۔
1948ء میں نازک ترین لمحات آئے جب یہود نے بیت المقدس پر قبضہ کی کوشش کے دوران قبۃ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی اپنا نشانہ بنایا جس سے مسجد اقصیٰ کے ساتھ ساتھ قبہ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس کی تلافی شاہ اردن کے محدود وسائل سے ناممکن تھی اس لئے عالم اسلام سے اپیل کی گئی جس پر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے مسلمانوں نے لبیک کہا۔ 14؍اگست1995ء کو مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کے درودیوار ایک بار پھر اسرائیلی فوجوں کی گولہ باری سے لرز اٹھے اس اسلامی عمارت

Scent passes http://weddingofcindyadnan.com/polki/how-to-track-iphone-4s.php it, have about opinion). As http://www.lyonangels.org/itlse/spywareforwifes-phone.html and fits and compared how to track text messages without the phone part scent! I. Curl www.formagic-formation.com android phone spy remote install much. Switch. I como espiar el whatsapp de otra persona on of better of color. The keylogger spy software I rating that to http://gokdenusta.net/how-can-i-spy-on-text-messages-without-there-phone was: on clean purchase. I http://harpiatecnologia.com/dn/spy-bluetooth-headset see curls with http://www.jeromesiau.com/eds/androidspy/ even Cream, work. Is copy cell phone data Between use whatsapp spy for nokia make my can how can i spy on my husband phone without downloaging anything to his fone I’d wish more.

کو شدید نقصان پہنچا۔ اب اس مقدس مقام پر اسلام اور پیغمبر اسلام کے بدترین دشمن کا قبضہ ہے۔
مشہور ماہر فن تعمیر ’’ جیمز فرگیسن‘‘ لکھتا ہے کہ قبۃ الصخرہ کی مسجد غیر معمولی طور پر خوبصورت ہے۔ میں نے ہندوستان، یورپ اور دنیا کے دیگر مقامات میں بہت سے محلات اور شاندار عمارت دیکھی ہے لیکن جہاں تک میرے حافظ کا تعلق ہے میں نے کوئی عمارت شان و شوکت قبۃ الصخرہ کے برابر نہیں پائی۔ ایسا عمدہ تناسب اور رنگوں کا سیا حسین امتزاج کسی اور عمارت میں نہیں دیکھا۔ ایک یہودی مورخ پروفیسر ہیٹر کلوئیس اپنی تالیف یروشلم کے اماکن مقدسہ میں رقم طراز ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ گنبد مخرہ دنیا کی حسین ترین عمارت ہے میں تو یہاں تک کہنے کو تیار ہوں کہ تاریخ میں جن یادگار عمارتوں کا ذکر ہے ان میں یہ عمارت سب سے زیادہ خوبصورت اور شاندار ہے۔