بلاگ

بیت المقدس اور تیسری جنگ عظیم

امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کا قول ہے کہ موجودہ نسل بالتحدید ہر مجدون کا معرکہ دیکھے گی۔ ‘
’’عمر امۃ الاسلام و قرب ظھور المہدی ‘‘ امین محمد جمال الدین کی ایک معرکۃ الآراء کتاب ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے!
عجیب بات ہے ہر مجدون کے ثبوت کے لیے اہل کتاب کے اقوال تواتر کے ساتھ کثرت سے وارد ہوئے ہیں مگر بہت سے مسلمان تو جانتے ہی نہیں کہ یہ ہرمجدون کیا ہے اور اس لفظ کے اہل کتاب کی ڈکشنری میں معنی کیا ہیں۔ ہرمجدون بطور لفظ اتنا اہم نہیں بلکہ بطور مدلول اور رمز اس میں بہت سے معانی چھپے ہوئے ہیں۔
کئی سالوں سے کفر کی اس سمت تیاری تھی لیکن اب اس کا اسٹیج تیار کیا جا چکاہے۔ یہ حکمت عملی کی جنگ ہوگی ،جراثیمی جنگ ہوگی (جس کی شروعات کوروناوائرس کے ذریعے ہوچکی ہے)ایٹمی اور عالمی ہوگی۔ یہ معرکہ عالمی اور اتحادی ہوگا۔ ایک طرف مسلمان اوردوسری طرف اہل روم (یورپ اور امریکہ اس کے لازماً فریق ہونگے۔ اس کے علاوہ کچھ اور ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔
جب آتش فشاں پہاڑ مسلسل اندر کی جدوجہد سے پک کر پھٹتا ہے تو اپنے اردگرد ہر چیزوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے۔ اسی طرح انسانوں نے اپنی خود غرضی ،منافع خوری، طاغوت کی عبادت اور بندگی،طاغوتی نظام کو قائم کرنے کے لئے لگاتار کوششیں اور ناپاک جرائم اور عزائم سے اتنے سنگین حالات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ معاملات اپنی شدت کو پہنچ کر تیسری عالمی جنگ عظیم کی منتظر ہے۔اس عالمی جنگ میں اس قدر تباہی اور بربادی آئے گی کہ اس کاوہم وگمان ممکن ہی نہیں، اس سے قبل انسانوں کا اتناقتل وغارت پوری تاریخ انسانیت میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
دو اہم مسئلہ کشمیر اور مسئلہ بیت المقدس ہے،جو مستقبل میں تیسری جنگ عظیم کی وجہ بنے گی۔
مسجد اقصیٰ تین بڑے مذاہب کے لئے تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتا ہے: یہودیت، عیسائیت اور اسلام۔ یہودیت اور اسلام کے لئے اسے خاص مذہبی اہمیت حاصل ہے، اور ان مذہبی جماعتوں کے مسابقتی دعووں نے اسے دنیا کے سب سے زیادہ مقابلہ کرنے والے مذہبی مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔مسجد الحرام (مکہ کی عظیم مسجد) اور مسجد نبوی (مدینہ میں واقع مسجد نبوی) کے بعد مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لئے سب سے مقدس مقام ہے۔اقصیٰ کا وسیع احاطہ تقریبا 35 ایکڑ رقبہ ہے۔
عیسائی عقیدے کے مطابق عہد قدیم سے یہ مقام اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ، یسوع کی زندگی میں یروشلم کا مقام اسے بہت اہمیت دیتا ہے۔ یروشلم وہ جگہ ہے جہاں یسوع کو بچپن میں لایا گیا تھا(ایک روایت کے مطابق یہی عیسیٰ ابن مریم پیدا ہوئے تھے،اور جگہ کو بیت الحم بھی کہاجاتاہے)
یسوع کو ہیکل میں ”پیش کیا گیا” (لوقا 2: 22) اور تہواروں میں شرکت کے لئے ہی حاضر ہو کر عقیدت کا نظرانہ پیش کیا جاتا ہے(لوقا 2:41)
سب انجیلوں کے مطابق، یسوع نے یروشلم میں خاص طور پر ہیکل کے درباروں میں تبلیغ اور شفا کی۔ یسوع کے بیت المقدس کی ”صفائی” کا بھی ایک بیان ہے، جو مقدس علاقوں سے مختلف تاجروں کا پیچھا کرتے ہیں (مارک 11: 15) انجیلوں میں سے ہر ایک کے اختتام پر، یروشلم میں ایک ”بالائی کمرے” میں حضرت عیسیٰ کے آخری عشائیہ، گتسمنی میں اس کی گرفتاری، اس کی آزمائش، گولگوٹھہ میں اس کی مصلوبیت، قریب اس کی تدفین اور اس کے جی اٹھنے اور اٹھائے جانے کے واقعات ہیں۔
اس کمپاؤنڈ میں واقع ٹیمپل ماؤنٹ ایک دیوار والا علاقہ ہے جو دوسرا یہودی مندر کے زمانے کا ہے جو پہلی صدی کے بی سی ای کے آخر میں بنایا گیا تھا۔ یہودیوں کا ماننا ہے کہ یہ دیواریں پہاڑ موریاہ کی چوٹی کے آس پاس بنائی گئیں، جہاں ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کو بطور قربانی پیش کیا۔یہودیوں کے لئے بھی ایک اہم مقدس مقام ہے،جو اسے ہیکل پہاڑ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔یہودی روایت اور صحیفے کے مطابق، پہلا مندر بادشاہ داؤد کے بیٹے سلیمان بادشاہ نے 957 بی سی اے قبل مسیح میں تعمیر کیا تھا اور اسے نو بابل کی سلطنت نے 586 بی سی اے قبل مسیح میں تباہ کیا تھا۔تاہم کسی بھی آثار قدیمہ کے ثبوت نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ دوسرا مندر 516 بی سی اے قبل مسیح میں زیروبابل کے زیراہتمام تعمیر کیا گیا تھا، اور اسے رومن سلطنت نے 70 عیسوی میں تباہ کردیا تھا۔ آرتھوڈوکس کی یہودی روایت برقرار ہے کہ یہاں یہ ہے کہ جب مسیحا آئے گا تو تیسرا اور آخری مندر بھی تعمیر کیا جائے گا۔ یہ مقام یہودیت کا سب سے مقدس مقام ہے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں یہودی اپنی نماز کے دوران رجوع کرتے ہیں۔ اس کے انتہائی تقدس کی بناء پر، بہت سارے یہودی پہاڑ پر خود نہیں چلیں گے،غیر ارادی طور پر اس علاقے میں داخل ہونے سے بچنے کے لئے جہاں ہولی کا مقدس کھڑا ہے، چونکہ ربانی قانون کے مطابق، الہی وجود کا کچھ پہلو ابھی بھی اس جگہ پر موجود ہے(یہودی روایات کے مطابق)
حالیہ بدامنی کا ایک اہم محرک یہودی آباد کار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 1956 ء میں، اسرائیل نے پہلی عرب اسرائیل جنگ جیت لینے کے فوراََ بعد ہی، اپنے گھروں سے محروم ہونے والے تقریبا 28 فلسطینی خاندانوں کو مشرقی یروشلم کے شیخ جارحہ میں آباد کردیا۔ اس وقت مغربی کنارے اردن کے حکمرانی میں تھا اور یہ اردن کی حکومت اور اقوام متحدہ نے کنبوں کے لئے زمین کی فراہمی اور تعمیر میں مدد کی تھی۔ تاہم، یہ عمل اس وقت سے رکاوٹ ہے جب سے 1967ء میں اسرائیلی مغربی کنارے کے قبضے میں آیا تھا۔ 1948ء میں یورپ کے تعاون سے باضابطہ اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت متحدہ عرب امارات کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کے ممبروں نے بہ یک زبان ہوکر اس بات کا عہد کیا، کہ آج سے ہم اسرائیل کے تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے ، اور اپنے اپنے ملک میں ان مصنوعات کے درآمد پر مکمل پابندی لگا دیں گے۔جن مغربی ملکوں نے بزور طاقت یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا فیصلہ کیا تھا۔ان ملکوں کا مقابلہ عربوں کے بس میں نہ تھا۔ عربوں کے غیرت و حمیت کا ایک بہترین منظر یہ بھی تھا۔لیکن اب وہی عرب ممالک بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ نہ صرف ان اسرائیلی مصنوعات کا اپنے ملک میں درآمد کر رہے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر اسرائیلی فیکٹریوں میں تیار ہونے والے مصنوعات کے حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔
مسئلہ کشمیر پکے ہوئے جلتے لاوے کی مانند ہے۔ مسئلہ کشمیر دو مضبوط نیو کلائی طاقتوں کے مابین سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کو جان بوجھ کر ناقابلِ حل بنا کر پورے شمالی ایشیاء کو خطرے میں مبتلا کر دیاگیا ہے۔لاکھوں کشمیری جانوں کا خون بھی اس مسئلے کی آگ کو ٹھنڈا نہ کر سکا۔ تعجب کی بات ہے انسان چاند پر جاچکا ہے، مریخ پر مکانات تعمیر کرنے کا خواب دیکھ رہا اور اسی کوشش میں سرگرداں ہے لیکن ہندوستان، پاکستان، امریکہ، چین، دنیا کے نام نہاد ٹھیکیدار اور اقوامِ متحدہ بھی اس مسئلہ حل نہیں کر سکے؟ یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا اگر پوری عالمی برداری دلچسپی لیتی خصوصاََ مغربی ممالک لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں چاہیں گے کیونکہ پھر ان کا ثالث بننا، مشرق کی سیاست میں بلا وجہ دخل دینا، اپنی چودھراہٹ کی دھونس جمانا اور یہاں پر بد نیتی کے قدم جمانا محال ہے۔ پچھلے 70سالوں میں کشمیر کے متعلق جتنی بھی مذاکرات کا انعقاد ہوا وہ صرف بے ہودہ مزاق اور طاقت کی نمائش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔بھارت نے اگست 2019 ء میں دفعہ 370کو ہٹا کے خطے میں سیاسی تناو کا آغاز کیاتھا۔
دفعہ 370چونکہ جموں وکشمیر کو بشمول لداخ کے ایک خصوصی پوزیشن فراہم کرتا تھا جس کی وجہ سے مسئلہ جموں وکشمیر بین الاقوامی اداروں کی مباحثی کاروائیوں کا ایک مناسب و موزوں موضوع کی حیثیت سے چل رہا تھا۔ جموں و کشمیر کی عوام کے ساتھ ساتھ چین اور پاکستان بھی ایک امید لیے ہوئے تھے کہ کبھی نا کبھی یہ مسئلہ حل ہو ہی جائے گا۔ چین براہ راست اور کھلم کھلا امیدوار نہیں تھا البتہ پاکستان کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہونے کے مناسبت سے لداخ کے معاملے میں مثبت دکھائی دے رہا تھا۔ جموں و کشمیر کا مسئلہ اگر بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق حل ہوتا تو اس کے بعد چین بآسانی پاکستان کے ساتھ گفت وشنید کرکے لداخ کا مسئلہ حل کر سکتا تھا۔ لیکن اب جب کہ دفعہ 370کو ختم کر دیا گیا ہے تو یہ بات ناممکن سی ہو گئی ہے۔ان دونوں معاملوں سے دنیا میںمسلسل بدامنی پھیل رہی ہے۔
اظفرندیم