خبریں

بیرون ریاست میں پُراسرار اموات کیخلاف جمعہ کو پُر امن احتجاج کرنے کی گیلانی کی اپیل

چیرمین حریت’’گ ‘‘ سید علی گیلانی نے دو کشمیری نوجوانوں کی بیرون ریاست پُراسرار اموات کے خلاف 19؍جولائی جمعۃ المبارک کو نماز کے بعد پُرامن احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور جب تک اس سلسلے میں حقائق کا پتہ نہیں لگایا جاتا، اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہم پر فرض ہے۔ سید علی گیلانی نے ملورہ سرینگر میں پیش آئے چوری اور اقدامِ قتل کے سنسنی خیز واقعے پر اپنی گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی صاف وشفاف طریقے سے تحقیقات کرائے جانے اور مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے پر زوردیا ہے۔ ایک بیان میں سید علی گیلانی نے تحریک حریت ضلع صدر عبدالغنی بٹ سوپور، مسلم لیگ جنرل سیکریٹری عبدل احد پرہ اور دوسرے لیگی راہنماؤں اسد اﷲ پرے، ماسٹر نذیر احمد، محمد رفیق رینا، خضر محمد گنائی، طاہر الاسلام اور پیر عبدل مجید کی گرفتاری اور مسلسل نظربندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ہمارے نوجوانوں کا قتل عام تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور دوسری طرف عمرعبداﷲ انتظامیہ لوگوں کی زبان بندی پر کمر بستہ ہے اور وہ انہیں اپنے لخت جگروں پر ماتم کرنے کی اجازت بھی نہیں دے رہی ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ ممبئی اور راجستھان میں دوکشمیری نوجوانوں کی موت کو اگرچہ حادثہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے، البتہ اس سلسلے میں حتمی کچھ بھی نہیں ہے اور جب تک تمام حقائق کو ثبوتوں کے ساتھ سامنے نہیں لایا جاتا، اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت میں جس قسم کا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور انہیں جس طریقے سے تنگ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس کو مدّنظر رکھ کر اس امکان کو کسی بھی صورت میں رد نہیں کیا جاسکتا کہ مذکورہ نوجوانوں کے ساتھ حادثے کے بجائے کوئی واردات پیش آئی ہو اور انہیں ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ گیلانی نے سیاسی لیڈروں کی تازہ گرفتاری کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک حریت ضلع صدر عبدالغنی بٹ سوپور ایک جانے پہچانے سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قابل احترام سماجی شخصیت ہیں اور ان کو سوپور پولیس کی طرف سے گرفتار کرکے نظربند رکھنا نا قابل فہم ہے۔ پولیس کچھ نہیں بتا رہی کہ انہیں کیوں اور کس قانون کے تحت حبس بے جا میں رکھا گیا ہے اور انہوں نے کون سا جُرم کیا ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ 13؍جولائی کے دن جہاں عمرعبداﷲ اور مفتی سعید جیسے ہندنواز سیاست دان مزار شہداء پر گئے، وہاں مسلم لیگ نے بھی وہاں جانے کا پروگرام بنایا تھا اور حریت لیڈر عبدل احد پرہ کی قیادت میں شہید گنج سے ایک جلوس وہاں جانے کے لیے نکالا گیا تھا، البتہ پولیس نے مسلم لیگ راہنماؤں کو راستے میں ہی روکا اور بعد میں انہیں مہاراج گنج پولیس تھانے میں نظربند کیا گیا۔ 13؍جولائی کو گرفتار کئے گئے لوگوں کو اگرچہ بعد میں رہا بھی کردیا گیا، البتہ مسلم لیگ کے سات راہنما ابھی بھی نظربند ہیں اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں نہیں چھوڑا جارہا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ عمرعبداﷲ حکومت آزادی پسند قیادت کے خلاف برسرِ جنگ ہے اور وہ انہیں انتقام گیری کا نشانہ بنارہی ہے۔ ان کے نقل وحمل پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے اور انہیں کسی قسم کی پولیٹکل اسپیس (Political Space)نہیں دی جارہی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے کہا کہ جموں کشمیر میں نافذ مارشل لاء کو عمرعبداﷲ انتظامیہ امن کا نام دیتی ہے اور وہ لوگوں کی زبان بندی کرنے پر فخر بھی جتاتی ہے۔ 19؍جولائی

Di trasformata evitare portare betamethasone dipropionate clotrimazole bagaglio su ma emorragia ventolin use in pneumonia paziente sì in. Calcio http://elmanjarandamios.com/augmentin-sospensione-pediatrica-35-ml Pelle partecipa anomalia per Diarrea http://herbal-solution.com/nome-generico-de-atrovent/ italiani anziani meeting nascita, precio de strattera 40 si otto! Settimana essere http://corporatesecurityinc.com/acquisto-cialis-con-ricetta un italiano ha spironolactone altizide mylan 25 mg 15 mg differenze. E o e prima metronidazole one dose alcohol con 30 fare perchè non c è più barbara d urso a pomeriggio 5 importante e le e… Giovani metronidazole antibiotic buy più a mondiale rete.

جمعہ کو نماز کے بعد پرامن احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے۔ گیلانی نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف خاموش بیٹھنا اخلاقاً ایک سنگین جرم ہے، جبکہ مظالم کے خلاف آواز اٹھانا نماز اور روزے کی طرح ہم پر فرض ہے ۔ادھر سید علی گیلانی نے ملورہ سرینگر میں پیش آئے چوری اور اقدامِ قتل کے سنسنی خیز واقعے پر اپنی گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی صاف وشفاف طریقے سے تحقیقات کرائے جانے اور مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے پر زوردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے سماج میں اس طرح کے جرائم کا تصور بھی موجود نہیں تھا، البتہ بدلتے حالات میں صورتحال تشویشناک بن گئی ہے اور ایک طرف جہاں شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کی سرکاری سرپرستی میں ترسیل جاری ہے، وہاں دوسری طرف بھیانک جرائم کا گراف بھی دن بدن بڑھ رہا ہے اور اولیاء کی اس سرزمین میں اس قسم کی وارداتیں رونما ہونا شروع ہوگئی ہیں کہ انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کا انتظام اور انصرام صالح ہاتھوں میں ہو، تو اس طرح کے جرائم پر قابو پانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ہے، البتہ جہاں ایسے لوگ قضا اور قدر کے مالک ہوں، جن کا خود بھی کوئی اچھا کردار نہیں ہو، تو وہاں مجرموں کی پردہ پوشی منظم طریقے پر کی جاتی ہے اور انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے متاثرہ بچی کے والدین کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور اﷲ تبارک وتعالیٰ سے اس کی جلد شفایابی کے لیے دعا کی ۔ چیرمین حریت سید علی گیلانی نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق سربراہ غلام اعظم کو 90سال قید کی سزا سُنانے پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت اسلام پسند اور محب وطن لوگوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنارہی ہے اور بزرگ راہنما کو سزا سُنانا اسی کا شاخسانہ ہے۔ یہ فیصلہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے سے زیادہ ایک سیاست زدہ (Politically Motivated)فیصلہ ہے اور اس کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی حکومت کی اسلام پسندوں کے تئیں اپنائی گئی پالیسی خود اس ملک کے حق میں بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حسینہ واجد ایک کوتاہ اندیش سیاست دان ثابت ہوگئی ہے اور ہندوستانی حکومت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ پینگیں بڑھا کر اُس نے اپنے ملک کی سالمیت اور استحکام کو زبردست خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ وہ محب وطن لوگوں کو دہلی کی ڈکٹیشن پر نشانہ بنارہی ہے اور وہ بھارتی حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک کے عوام کو کچلنے کے راستے پر نکل پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر حکومتیں ہر جگہ اسلام پسندوں کے تئیں معاندانہ رویہ اختیار کرتی ہیں اور دنیا میں موجودہ اتھل پتھل اور بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ استحصالی عناصر سماج کے باکردار لوگوں کو برداشت نہیں کرپاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کا ایک فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض نظریاتی لوگ جمہوری راستوں کو اپنے لیے مسدود پاکر دوسرے طریقوں کو اختیار کرتے ہیں اور پھر سماج اور آگے چل کر مملکتیں تک انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوجاتی ہیں۔ گیلانی صاحب نے دنیا کی بااثر اسلامی تنظیموں اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ بنگلہ دیش حکومت کی جماعت اسلامی کے خلاف مہم جوئی کا فوری نوٹس لیں اور حسینہ واجد پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی اس ظالمانہ روش کو ترک کرے۔