سرورق مضمون

بی جے پی پہلی بار کشمیر میں اقتدار کی شراکت دار/ مخلوط سرکار پہلے ہی مرحلے پر انتشار سے دوچار

ڈیسک رپورٹ
پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد بن گیا ۔ دونوں جماعتوں نے کم سے کم مشترکہ پروگرام کے تحت حکومت چلانے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے ریاست میں پہلی بار بی جے پی کے اشتراک سے مخلوط سرکار وجود میں آئی ۔ کشمیر کی تاریخ میںایسا پہلی بارہوا کہ بی جے پی یہاں کی حکومت کا حصہ بن گئی ۔ دونوں جماعتوں کے درمیان طے پائے معاہدے کے مطابق پی ڈی پی کے سربراہ مفتی سعید 6 سال کے لئے ریاست کے وزیراعلیٰ ہونگے اور بی جے پی کے لیڈر نرمن سنگھ نائب وزیراعلیٰ کے طور کام کریں گے۔ دونوں سربراہوں نے جموں کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میںحلف لیا۔ ان کے ساتھ دونوں جماعتوںکے چوبیس ممبران پر مشتمل وزارتی کونسل نے بھی حلف لیا ۔ بعد میں وزیراعلیٰ نے ان وزیروں کو وزارتی قلمدان سونپے ۔ خزانے ، تعلیم ، مال اور صحت عامہ کی وزارتیں پی ڈی پی وزرا کو سونپی گئی ہیں جبکہ بجلی ، کنزیومر افیرز اور صحت کی وزارتیں بی جے پی کے وزیروں کی تحویل میں دی گئی ہیں۔ پی ڈی پی کے کچھ اسمبلی ممبران کے مطابق کہا جاتا ہے کہ وزارتی کونسل میں شامل نہ کئے جانے پر وہ پارٹی لیڈرشپ سے سخت ناراض ہیں۔ ایسے ممبران میں پانپور ، پلوامہ اور جڈی بل کے ممبروں کا نام لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح عبدلرحمان ویری کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ معمولی قسم کی وزارت لینے پر مطمئن نہیں ہیں ۔ اس حوالے سے سجاد غنی لون کا نام بھی سامنے آیا ۔ لون اصل میں پیوپلز کانفرنس کاسربراہ ہے اور ہندوارہ سے اسمبلی کے لئے منتخب ہوا۔ الیکشن کے دوران لون  نے وزیراعظم مودی کے ساتھ ملاقات کی جہاں کہا جاتا ہے کہ اس نے کامیابی کی صورت میں بی جے پی کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کی تھی ۔ کامیابی کے بعد اس نے بی جے پی کا بھر پور ساتھ دیا ۔ حکومت بننے کے بعد لون کو بی جے پی کوٹا میں سے وزیر نامزد کیا گیا۔ وزارتی کونسل کا حلف لینے کے بعد سجاد لون پش وپالن کا وزیربنایا گیا۔ اس وزارت پر اس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ باقی وزیروں نے اگلے ہی روز سیکریٹریٹ جاکر وزارت کا چارج سنبھالا ۔ لیکن لون نے سرینگر آنے کو فوقیت دی۔اس حوالے سے میڈیا میں کئی طرح کی چہ مے گوئیاں کی گئیں۔ لون کے ساتھی اسمبلی ممبر نے ان خبروں کی تصدیق کی ۔ پہلے لون نے خود کوئی بات کہنے سے انکار کیا۔ البتہ تازہ اطلاع یہ ہے کہ اس نے ناراضگی کی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی موت کی وجہ سے سرینگر آنے کا سبب قرار دیا ۔
جموں میں وزیراعلیٰ اور ان کی وزارتی کونسل کا حلف لینے کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ، سابق نائب وزیراعظم ایل کے ایڈوانی اور کئی دوسرے بی جے پی سربراہ موجود تھے ۔ البتہ کانگریسی لیڈروں کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد حلف لینے کی اس تقریب سے غیر حاضر رہے۔ تقریب کے اختتام پر مودی نے اپنے بیان میں بی جی پی کی کشمیر حکومت میں شراکت پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے تاریخی فتح قرا دیا ۔ شام کو وزیراعلیٰ نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔ اس موقعے پر انہوں نے دسمبر میں ہوئے انتخابات پرامن طریقے سے منعقد ہونے پر پاکستان ، عسکریت پسندوں اور حریت کانفرنس کے تعاون کو بنیادی سبب قراردیا۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یہ تین حلقے امن بنائے نہ رکھتے تو وادی میں الیکشن منعقد کرنا ممکن نہ تھا ۔ اس پر انہوں نے ان تمام حلقوں کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان پر ملک بھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور اپوزیشن کانگریس نے پارلیمنٹ میں اس پر شور شرابہ کیا۔ انہوں نے اس بیان پر وزیراعظم کا موقف جاننے کی خواہش ظاہر کی ۔ بی جے پی نے مفتی کے اس بیان سے خود کو دور کیا اور اس پر ہنگامے کو بے جا قرار دیا ۔ ادھر مفتی نے اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے ایک بار پھر اپنی بات کو دہرا یا ۔ ان کے اس بیان پر پی ڈی پی کے لیڈر اور پارلیمنٹ ممبر مظفر بیگ نے بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اتحادی سرکار کی شروعات بہتر انداز میں نہ ہوئیں ۔ یاد رہے کہ بیگ نو سال پہلے پی ڈی پی حکومت میں نائب وزیراعلیٰ ہونے کے علاوہ ایک طاقتور لیڈر مانے جاتے تھے۔ لیکن آج کے موقعے پر وہ زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ پی ڈی پی میں ناراض ممبران گروپ کی قیادت کررہے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا ممبر شپ سے مستعفی ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے ۔ ان کی ناراضگی کا اصل سبب انہیں مقامی سیاست سے دور کرنے اور مرکز میں بی جے پی وزارت میں شامل نہ کئے جانا بتا یا جاتا ہے۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ انہوں نے مرکز میں بی جے پی سرکار کا حصہ بن کر وہاں وزارت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن مفتی سعید اورمحبوبہ مفتی نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کیا ۔ اس وجہ سے بیگ اور ان کے حامی پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور پارٹی کے اندر بغاوت کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سب باتیں دیکھ کر اندازہ ہورہاہے کہ مخلوط سرکار شروع میں ہی انتشار کی شکار ہورہی ہے ۔ اب یہ پارٹی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس انتشار پر کس طرح سے قابو پائے گی ۔