سرورق مضمون

بی جے پی کا گوا اجلاس مودی کے ہاتھوں ایڈوانی کی چھٹی

بی جے پی کا گوا اجلاس مودی کے ہاتھوں ایڈوانی کی چھٹی

ڈیسک رپورٹ
گوا کے سیاحتی شہر میں بی جے پی کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہواجس کی دھوم سارے ملک میں ہے۔ اجلاس میں اس وقت سخت گرماگرمی دیکھنے کو ملی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو آنے والے انتخابات کے لئے پارٹی کی الیکشن کمیٹی کا چیرمین بنایا گیا ۔مودی کے اس انتخاب پر پارٹی کے سینئر رہنما سخت ناراض ہوگئے اور انہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا ۔ اس پر سب سے زیادہ احتجاج پارٹی کے سینئرترین لیڈر ایل کے ایڈوانی نے کیا ۔ ایڈوانی نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دیا۔ اس وجہ سے پارٹی کے اندر سخت افراتفری اور انتشار نظر آنے لگا ۔ اس کو دیکھ کر پارٹی کی ساتھی جماعت آر ایس ایس کے رہنما متحرک ہوگئے اور انہوں نے ایڈوانی کو اپنا استعفیٰ واپس لینے پرمجبور کیا۔ اس کے بعد ایڈوانی نے اپنا استعفیٰ واپس تو لے لیا لیکن انتشار اندر ہی اندرموجود دکھائی دیتا ہے ۔
مودی کو بھاجپا الیکشن کمیٹی کا چیر مین بنانا ہندوستان کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ملک میں پارلیمانی انتخابات آئندہ سال منعقد ہونے والے ہیں ۔ البتہ سیاسی جماعتوں نے ابھی سے اس کے لئے تیاریاں شروع کی ہیں ۔ حکمران جماعت کانگریس اپنے لئے میدان تیار کررہی ہے۔ ہندوبنیادپرست جماعت بی جے پی نے زیادہ سرگرمیاں دکھانا شروع کی ہیں ۔ بی جے پی کا ایک اہم اجلاس گوا میں ہوا جہاں 10جون کو آنے والے الیکشن کے لئے الیکشن کمیٹی بنائی گئی اور نریندر مودی کو اس کا سربراہ بنایا گیا ۔ مودی کے انتخاب کو پارٹی کے نوجوان ورکروں نے کافی سراہا۔ بتایا جاتا ہے کہ مودی کے انتخاب کا جب اعلان ہوا تو اجلاس میں سخت جوش و خروش دیکھنے کو ملا ۔ وہاں موجود لوگوں کاکہناہے کہ کئی منٹ تک تالیوں کا شور سنائی دیا اور نعرے بازی بھی کی گئی ۔ البتہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے لئے اس میں خوشی کے بجائے ناراضگی پائی گئی ۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے تمام وزراء اعلیٰ نے مودی کو اسی وقت مبارکباد دی اور اس پر سخت خوشی کا اظہار کیا ۔ تاہم یہ ساری خوشی اس وقت ذائل ہوگئی جب پارٹی کے سب سے سینئر لیڈر ایڈوانی نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کااعلان کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈوانی واحد بی جے پی لیڈر نہیں ہیں جن کو اس فیصلے پر سخت تشویش ہے بلکہ ان کے ساتھ یشونت سنہا اور سشما سوراج نے بھی فیصلہ نیم دلی سے تسلیم کیا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے اعلانیہ کچھ نہیں کہا تاہم اند ہی اندر اپنی ناراضگی دکھائی ہے۔ایڈوانی نے فوری ردعمل تو دکھایا لیکن بعد میں پارٹی صدرراج ناتھ سنگھ کی ایک ہی ٹیلی فون کال سے ڈھیلا پڑگیا اور استعفیٰ واپس لیا۔ استعفیٰ واپس لینے پروہ اتنی جلدی سے کیوں تیار ہوا، اس بارے میں زیادہ تفصیل سامنے نہ لائی گئیں ۔ تاہم ایک بات صاف ہے کہ بی جے پی پر اب ایڈوانی اور اس کے ساتھیوں کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے اور نریندر مودی نے اپنے لئے جگہ بنائی ہے۔ ایڈوانی نے مودی کے انتخاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اب اپنے آدرشوں سے ہٹ گئی ہے اور اس نے اپنے اصولوں کو ترک کیا ہے ۔ اصل حقیقت کچھ بھی ہو لیکن ایک بات صاف ہے کہ مودی نے ایڈوانی کی پگڑی اتارنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ بہت کم لوگ اس بات کو ماننے کے لئے تیار تھے کہ بی جے پی ایڈوانی کو چھوڑ کر کسی اور کو لیڈر بنانے کے لئے تیار ہوگی ۔ یہاں تک کہ ایڈوانی بھی ابھی اس خوش فہمی میں تھے کہ ان کے سوا کوئی اور الیکشن کمیٹی کا ممبر نہیں بن پائے گا۔ لیکن جب ایڈوانی کا اعلان ہوا تو ان کے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور اس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر پارٹی عہدے چھوڑ نے کا اعلان کیا۔ بعد میں پارٹی صدراوراپنے حامیوں کے کہنے پر یہ استعفیٰ واپس لیا۔
نریندر مودی کے الیکشن کمیٹی کا سربراہ بننے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھاجپا کی طرف سے اسی کو وزیر اعظم کے طور پیش کیا جائے گا ۔ اب تک خیال تھاکہ اٹل بہاری واجپائی کے پارٹی سے ریٹائرہونے کے بعد ایڈوانی اس عہدے کیلئے امیدوار کے طور نامزدکیا جائے گا۔ لیکن اب جب کہ اچانک مودی کا نام سامنے آیا تو اس سے کئی حلقوں کے علاوہ ایڈوانی اور اس کے حمایتی حلقے میں مایوسی پھیل گئی ۔مودی تو ایڈوانی کا ہی تیار کیاہوا لیڈر ہے ۔ ایک زمانے میں دونوں ایک دوسرے کے بہت ہی قریب تھے ۔ دونوں نے ایک ہی طریقے سے عوام میں اپنے لئے جگہ بنائی ۔ ایڈوانی نے رام مندر اور اس کی تعمیر کے لئے رتھ یاترا نکال کر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی اور اپنے لئے ہندو ووٹروں میں جگہ بنائی ۔ بابری مسجد کو ڈھانے میں دوسرے کئی لیڈروں کے ساتھ ایڈوانی کا اہم رول رہا۔ اس پر اس کے خلاف ابھی بھی مقدمہ چل رہاہے۔ اسی طرح گودھرا کانڈھ اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام سے مودی نے اپنے لئے شہرت حاصل کی۔ مودی اس وقت تک ملکی سیا ست میں کہیں بھی موجود نہیں تھے ۔ گجرات فسا دات میں تین دن تک مسلمانوں کا قتل عام اور پھر اس پر خاموشی کی وجہ اس نے ہندو انتہاپسندوں کی ہمدری حاصل کی۔ اس وقت سے لے کر اب تک مودی کی کوشش ہے کہ کسی طرح دہلی کے تخت کو حاصل کیا جائے۔ بی جے پی کے لئے کوئی ایک بھی طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعے وہ دہلی میں اقتدار حاصل کرسکے ۔ اس مقصد کے لئے اس نے مودی کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ اس میں بی جے پی سے زیادہ آرایس ایس ، وشواہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لیڈروں کا زیادہ اہم رول بتا یا جاتاہے ۔ یہ لوگ ایڈوانی سے اتنے خوش نہیں ہیں جتنا کہ یہ مودی کو چاہتے ہیں ۔ مودی اس وقت سب سے زیادہ مسلم دشمن مانے جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایڈوانی کے بجائے مودی کو گود لینے کا فیصلہ کیا اور اس میں وہ اچھی طرح سے کامیاب دکھائی دیتے ہیں ۔ ایڈوانی کی چھٹی اور مودی کو کندھا دینے کے بعد اب ان کی نظریں دہلی حکومت پر لگی ہوئی ہیں ۔ آگے کون سا نیا قدم اٹھایا جائے گا ، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے ۔