نقطہ نظر

بے اعتمادی تیرا نام ہی سیاست ہے

بے اعتمادی تیرا نام ہی سیاست ہے

کلدیپ نائر
وزیر اعظم منموہن سنگھ کی حکومت کو تقریباً ایک عشرہ مکمل ہونے والا ہے اور یہ سال موصوف کے اقتدار کے آخری سال سے پہلے کا سال ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں اس دوران جو سب سے زیادہ نقصان دہ بات ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ بالخصوص حکمران کانگریس سے۔ حقیقت میں عوام اس قدر نالاں بلکہ برہم ہوچکے ہیں کہ وہ اب بددیانتی اور سیاست کو ایک دوسرے کا مترادف و متبادل سمجھنے لگے ہیں۔ کیونکہ جو لوگ بھی سیاست میں آئے ہیں وہ صرف دولت کمانے پر ہی لگے ہیں۔
میں یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کہ بہت بلند حیثیت اور اہم مناصب پر فائز بہت سے لوگوں نے وزیراعظم کے امدادی فنڈ میں کچھ بھی جمع نہیں کرایا، کیونکہ ان کو شک ہے جو رقم وہ اترا کھنڈ کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دیں گے وہ کانگریس پارٹی انتخابات کے لیے استعمال کر لے گی۔ میں یہ بات تو سمجھ سکتا ہوں کہ امدادی رقوم کی تقسیم کا انتظام بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے لیکن وزیر اعظم کے امدادی فنڈ پر شکوک و شبہات سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ عوام کا اب ان پر سے اعتماد بالکل ہی اٹھ چکا ہے۔
موبائل فونز کی دوبارہ درجہ بندی کے حوالے سے منظر عام پر آنے والا ٹو جی اسپیکٹرم اسکینڈل اور کوئلے کے بلاکس کی نا معلوم افراد کو الاٹمنٹ نے یقیناًکانگریس پارٹی کی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچایا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ جو لوگ بھی اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کا تعلق کس پارٹی سے ہے وہ سب کے سب ایسے ہی ہیں، یہ سیاست دانوں پر ایک بہت افسوسناک تبصرہ ہے۔ بعینہ حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی کسی بھی رپورٹ یا تفتیش پر ہمیشہ ہی سوالیہ نشان ہوتا ہے حالانکہ ایسے عدالتی فیصلے پر بھی جو مکمل دیانت داری کے ساتھ کیا جائے۔ لیکن یہ عوام کا قصور نہیں ہے بلکہ اس طریق کار کا قصور ہے جس کے مطابق ستر کے زمانے سے معاملات کو نمٹایا جاتا ہے۔
عوام کا اعتماد بحال کرنے کی خاطر کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ یا اگر کچھ ہوا بھی ہے تو ناکافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری مشینری بالکل ہی ناکارہ ہو چکی ہے۔ آپ عشرت جہاں کے پولیس مقابلے کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ مرکز میں وزارت داخلہ نے اور ریاستی حکومت نے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے عشرت اپنی تین ساتھی لڑکیوں کے ہمراہ، جو سب کی سب دہشت گرد تھیں، پولیس مقابلہ میں ماری گئیں۔ جب کہ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کا کہنا ہے کہ یہ پولیس کے ہاتھوں ایک نہایت وحشیانہ قتل تھا۔ سی بی آئی کو اس میں پاکستان اور لشکر طیبہ کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کا کہ دعویٰ انٹیلی جنس بیورو نے کیا ہے۔
آخر عوم کس پر یقین کرتے ہیں؟ سی بی آئی اور آئی بی دونوں ایک ہی حکومت کے حصے ہیں۔ عوام سی بی آئی کے اس دعویٰ سے اور بھی زیادہ الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ عشرت اور اس کی ساتھی لڑکیوں کو مختلف مقامات سے اٹھایا گیا اور گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان سے جن ہتھیاروں کی برآمدگی کا دعویٰ کیا گیا وہ خود پولیس نے وہاں رکھے تھے اور جن میں سے کوئی بھی ہتھیار طویل عرصے سے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ عشرت اور دوسری لڑکیاں واقعی دہشت گرد تھیں۔ لیکن کیا پولیس کو یہ حق حاصل تھا کہ ان کو کسی عدالت کے روبرو پیش کر کے اپنا الزام ثابت کیے بغیر ہلاک کر ڈالتی؟ اگر اسی اصول کو اپنایا جائے تو پھر اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قاتلوں کو بھی اسی وقت پولیس مقابلہ میں مار دیا جانا چاہیے تھا، آخر یہ مقدمات سپریم کورٹ تک کیوں چلتے رہے۔ ہمیں اجمل قصاب کے مقدمے پر بھی کروڑوں روپے خرچ نہیں کرنا چاہیے تھے جس کو عدالتی فیصلے کے مطابق پھانسی دی گئی۔ اس کا بھی کام موقع پر تمام کر دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس نے ممبئی پر حملہ کیا تھا۔
حکومت جس ’’فوڈ سیکورٹی بل‘‘ کے لانے کا ارادہ کر رہی ہے جس کے تحت 65 فیصد آبادی کو خوراک میں سبسڈی دی جائے گی، مگر اس پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اس حوالے سے مورد الزام ہے کہ آخر یہ مسودہ قانون اس قدر عجلت میں منظور کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں محض تین ہفتے باقی ہیں۔ (اب اسی آرڈیننس کی وجہ سے اسے اگست کے وسط تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے) زیادہ تر پارٹیاں اس بل کے حق میں ہیں مگر اس کو منظور کرنے سے قبل پارلیمنٹ میں اس پر مکمل بحث کرانا چاہتی ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ اسی وجہ سے آرڈیننس لا رہی ہے کیونکہ بی جے پی نے پارلیمنٹ کو کارکردگی دکھانے کی اجازت ہی نہیں دی۔
یہ سچ ہے مگر آرڈیننس کو بھی تو پارلیمنٹ سے منظور ہو کر آنا چاہیے۔ مگر اس کے لیے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ آخر حکومت آرڈیننس لانے سے قبل افہام و تفہیم کی کوشش کیوں نہیں کرتی۔ اس الزام میں یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ کانگریس کی نگاہیں پارلیمانی انتخابات پر لگی ہیں جو مئی 2014ء میں ہونے کو ہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ وسط مدتی پولنگ کی صورت میں انتخابات نومبر، دسمبر میں ہی ہو جائیں۔ یہ شکوک و شبہات ہیں جنہوں نے فوڈ سیکورٹی آرڈیننس کالعدم قرار دے کر رکھ دیا ہے خالانکہ اس سے محدود آمدنی والے اندازاً 85 کروڑ افراد کو فائدہ ہوتا جنھیں چاول 3 روپے‘ گندم 2 روپے اور باجرہ ایک روپیہ کلو کی قیمت پر ملتا۔
سی بی آئی کی خود مختاری کا معاملہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے جس پر لازماً غور کیا جانا چاہیے۔ لوگوں کو ہائی کورٹ کے تین ریٹائرڈ ججوں کی نگرانی پر بھی اعتبار نہیں۔ شک یہ ہے کہ حکومت لچکدار جج متعین کرے گی کیونکہ سی بی آئی حکومت کے ماتحت ہے لہٰذا وہ جو اقدام چاہے کرلے قابل بھروسہ نہ ہو گا۔
دوسری بڑی سیاسی پارٹی بی جے پی پر اس بنا پر شک ہے کیونکہ یہ مودی کے ’’ہندوتوا‘‘ کے نظریے کو فروغ دے رہی ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ جہاں بابری مسجد کھڑی تھی جسے منہدم کر دیا گیا وہاں اب یہ رام مندر کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ اس پارٹی کو احساس ہونا چاہیے کہ مذہب کا کارڈ بار بار نہیں کھیلا جا سکتا۔ مندر کی تعمیر اور یکساں سول کوڈ کے مطالبے کو تعمیر و ترقی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے جس کے بھیس میں ’’ہندوتوا‘‘ کا پرچار کیا جائے گا۔ یہ پارٹی بھی اقتدار کی اتنی ہی ہوس میں مبتلا ہے جتنی کانگریس ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیوں میں سماجی انصاف ہے اور جہاں تک وفاق میں شمولیت کا سوال ہے تو یہ معاملہ انھوں نے اپنے عوام کی صوابدید پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان کی ستائش کے لیے بائیں بازو کی پارٹیوں کے کنونشن میں‘ جو گزشتہ ہفتے دہلی میں ہوا‘ ان دو نقاط کو خاصی اہمیت دی گئی۔ یقیناًمنموہن سنگھ حکومت نے امیر کو اور زیادہ امیر بنا دیا ہے اور سیاسی خود مختاری کا بھی خوب مذاق اڑایا ہے۔
تاہم سی پی آئی (ایم) بھی تو 15 سال تک مغربی بنگال میں برسر اقتدار رہی ہے اور اس مسئلے پر اس نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ سچر کمیٹی نے کہا ہے کہ اس ریاست میں مسلمان آبادی تعلیم میں سب سے زیادہ پسماندہ ہے۔ اس کی شرح صرف 2.7 فیصد ہے۔ یاد رہے سی پی آئی نے ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی کی آمرانہ حکومت کی حمایت کی تھی۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) نے تیسری متبادل پارٹی بننے کی امید اجاگر کی ہے کیونکہ اس کے سربراہ شرد یادیو نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کیمونسٹوں کی مکمل حکمرانی اور بی جے پی کی فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی کرے گی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنی حکمرانی میں یہ دکھا دیا ہے کہ شعبدہ بازیوں سے بالاتر ہو کر بھی حکومت کی جا سکتی ہے اور نتیش کمار نے درست طور پر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو بودھ گیا میں ہونے والے بم دھماکوں کی تفتیش سونپ دی ہے۔
قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح اعتماد اور مثالیت پسندی کے جذبے کو بیدار کیا جائے۔ افسوس کہ کوئی سیاسی پارٹی، حتیٰ کہ کوئی ریاست بھی، اس معیار پر پوری نہیں اتری۔ کیا آیندہ الیکشن میں ایسے لوگ آگے آ سکیں گے جو ان چیزوں کا خیال رکھیں؟ میرے جیسے لوگ اب بھی پْرامید ہیں کہ انڈیا ایک بار پھر اخلاقی اقدار کی بالادستی کے اسی راستے پر واپس آ جائے گا جو اس نے آزادی کے بعد اختیار کیا تھا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)