اداریہ

بے روزگاروں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ

ریاست میں تعلیم یافتہ بیروزگار نواجوں کی تعداد روزافزوں بڑھتی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد 6لاکھ سے بھی زیادہ بڑھ گئی ،جن میں سے لگ بھگ پچاس ہزار نوجوان عمر کی حد کو پار کر بیٹھے۔ حالانکہ بڑھتی ترقی میں جہاں نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ وارانہ ڈگریاں حاصل کرنے کی غرض سے کافی مواقعے میسر ہیں وہیں روزگار کے مواقعے محدود ہیں مختلف محکموں میں ہر سال ہزاروں کی تعدادمیں خالی ہونے والی اسامیاں برسوں تک خالی ہی رہنے سے جہاں ایک طرف سرکاری کام کاج ناتسلی بخش او ر عوامی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے وہیں دوسری طرف ان اسامیوں پر تعینات ہونے کے مستحق تعلیم یافتہ نوجوان تذبذب کے شکار ۔ بھرتی ایجنسیاں اگرچہ برسوںبعدکئی اسامیاں پُرکرنے کا عمل شروع تو کرتی ہیں لیکن تکمیلی کام مہینوں کیا برسوں بعدبھی نامکمل رہتا ہے۔سروسز سلیکشن بورڈ کی طرف سے گذشتہ برسوںسے آگے مشتہر کی گئی مختلف اسامیاں پر کرنے کے لئے نہ جانے ابھی کتنا وقت درکار ہوگا ۔ کچھ اندازہ نہیں ۔ حال ہی میں فاسٹ ٹریک بنیاد وںپر 70ہزار سے زائد اسامیوں کے لئے جو امتحانات لئے گئے وہ بھی ایک مزاک سے کم نہیں۔ ایک طرف یہ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کی سخت مشکلات سے دوچار ہیں دوسری طرف ان بے روزگار نوجوانوں کو اب یہی خدشہ سامنے آتا کہ کہ آج نہیں تو کل وہ عمر کے حد کو پار کر بیٹھے گے۔یہ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں پہلے سے ہی مختلف ذہنی کوفتوں کے شکار ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار تعلیم یافتہ بے روزگار جوانوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔