مضامین

بے لگام اشتہار کی تباہ کاریاں

عبدالمعید ازہری

اکیسویں صدی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے ۔ نئے نئے ایجادات ہو رہے ہیں۔ نقل وحرکت کے نئے وسائل وذرائع ماضی کو حیرت زدہ کر رہے ہیں ۔ برسوں کا سفر چند دنوں میں سمٹ گیا۔ سات سمندر پار کی دوری اب محاورہ نہ رہی۔ پوری دنیا نے ایک گائوں کی مشکل اختیار کر لی ہے ۔ اس تکنیکی دور میں پردیش اور ودیش دور نہ رہا ۔ شہر کے ساتھ گائوں بھی اس ترقی کے اثرات کو قبول کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ موبائل فون نے جہاں دوریاں ختم کر دیں وہیں ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو قریب کرنے کے ساتھ ضروری سامان تک کی رسانی کو آسان بنا دیا ۔ ہر چیز کے نفع ونقصان کی خبر اب گھر بیٹھے مل ہو جا تی ہے۔ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور کمی کے بارے میں قبل از وقت پتہ چل جا تا ہے ۔ اب تو یہاں تک بھی سہولت ہے کہ گھر بیٹھے آ پ کا سامان پہنچ جا تا ہے۔ یہ جدید دور کی تکنیکی ترقی کی دین ہے ۔ آئے دن اشتہارات کے ذریعہ ہمیں نئی نئی چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو تی رہتی ہیں۔ ان اشتہارات کے ذیعہ ایک سے زائد متبادل ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ جن میں سے ہمارے لئے زیادہ مفید اور مناسب کا انتخاب کرنا آسان ہوتا ہے۔ان اشتہارات میں تمام تر معلومات موجود ہوتی ہیں ۔کاروبار میں آئے اتار چڑھائو کی خبروں سے صنعت کاروں اور کاروباریوں کے رویوں میں تبدیلی محسوس ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن شاید اشتہار ایک ایسا کاروبار ہے جس میں گھاٹا اور نقصان کے امکانات قدرے کم ہو تے ہیں ۔ اشتہار نے کاروباری اور خریدار دونوں کے لئے آسانیاں فراہم کر دیں ۔اس دور میں لوگوں کے پاس پیسہ ہے لیکن وقت نہیں ۔ایک سامان کو گلی گلی گھوم کر دکھانے سے ایک جگہ سب لوگوں کے دیکھنے کا انتظام ہو گیا۔ ا س لئے اشتہار ایک بہتر ذریعہ ابلاغ ہے۔ وقت کے ساتھ اشتہار نے بھی ترقی کی ہے ۔ پہلے ریڈیو یا دور درشن پر مخصوص انداز میں اشتہار نشر ہو تا تھا ۔ اب تو اس کی ہزاروں شکلیں بازار میں آ گئی ہیں۔ پمفلیٹ ،پوسٹر، اسٹیکر ،فلیکس،اسکرین، بینر، وال پینٹنگ وغیرہ۔اور ایک سے ایک نئے نرالے انداز میں رنگ برنگے پوسٹر اور بینر بازار میں نظر آتے ہیں ۔ ایک سے ایک قیمتی، دیدہ زیب اور دلکش اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہلے اکثر فلموں کے پوسٹر یا چنائو کے پوسٹر نظر آتے تھے۔ایک ایک پوسٹر پورے سال لگا رہتا تھا ۔ سنیما ہال سے فلم نکل بھی جا تی تھی پھر پوسٹر دیوار سے اعلان عام کر رہا ہوتا ہے۔ اور لوگ چلتے پھرتے تبصرہ کرتے تھے جب دیوار کی پوسٹر سے سنیما ہال کے اندر کی فلم میچ نہیں کرتی تھی۔ اب حال یہ ہے کہ ایک رات کا پوسٹر دوسری رات کو نظر نہیں آتا ۔ بلکہ ایک ہی رات میں ہر دو گھنٹے کے بعد ایک پوسٹر کے سینے پر دوسرا پوسٹر سوار ہو کر اپنی دلیری کا اظہار کر رہا ہوتا ۔ اس کے بعد دو گھنٹے کے بعد ہی اس کے سینے پر دوسرے پوسٹر کا پردہ لگا دیا جا تا ہے بینر، پوسٹر،ہورڈنگ اور فلیکسی لگوانے کی اب تو با قاعدہ پر میشن لینی ہو تی ہے ۔ سرکاری کھمبوںپر باقاعدہ ہورڈنگ کی قیمت وصول کی جا تی ہے ۔ ابھی حال کے لوک سبھاالیکشن میں کئی ایسے کیس عدالت پہنچے جس میں شکایت کی گئی کہ ہمارے پوسٹر کے لئے پورے شہر میں کہیں کوئی جگہ نہیں ۔ مالک مکان نے بھی اپنی دیوار پرStick no billsلکھنا شروع کر دیا ہے ۔
ان اشتہاروں میں الفاظ اور تصویر دونوں ہی باتوں کی اہمیت ہو تی ہیں ۔ جتنا اچھا ڈائلاگ ہو گا اور جتنی دلکش تصویر ہوگی اتناہی اچھا اشتہار سمجھا جا ئے گا ۔اسی اعتبار سے اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جاتاہے ۔ اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا کہ سامان اور تصویر میں مطابقت ہے کہ نہیں ۔ بڑے عجیب و غریب اشتہار ہوتے ہیں ۔ان میں بڑے نادر اور شاطر کھیل ہوتے ہیں۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اشتہار کسی عورت کے جسم کا ہے یا اس کے کان میں پڑے چھوٹے چھوٹے بندوں،بالیوں کا ہے ۔ افسوس ! تقریبات کی نمائش سے لے کر ہوٹل ، کرکٹ، آئی پی ایل اور اشتہار تک ہر جگہ ایک عورت کے جسم کا سہارا لیا جا تا ہے۔ اشتہارات نے جہاں ایک طرف آسانیاں پیدا کی ہیں وہی دوسری طرف تہذیب ،اخلاق کے ساتھ حقیقت اور سچائی کا گلہ گھونٹ کر دھوکہ ، جال سازی اور مکر و فریب کو عام کیا ہے ۔ چیزوں کے زیادہ فروخت کرنے کے لئے بھاری سیل،سنہرا موقعہ، خاص آفر،فری سیل ،ایک کے ساتھ ایک مفت جیسے ہزاروں جملوں کے ساتھ عام آدمی کو بے وقوف بنایا جا تا ہے۔ کیونکہ یہ سارے جملے بڑے اور سنہرے حرفوں میں لکھے ہوتے ہیں۔ وہیںبالکل نا قابل دید ،چھوٹے حروف میں لکھا ہوتا ہے ’’ شرطیں لا گو‘‘ یہ لفظ اس وقت دکھا یا جاتا ہے جب سودا طے ہو جا تا ہے اور سامان کا عیب ظاہر ہوجاتا ہے ۔ یہ دھوکہ سب سے زیادہ عورتوں کے میک اپ کے سامان میں ہوتا ہے۔ آج تک دنیا کی کوئی ایسی کریم ،پائوڈر یا دوسری زیبائش کے سامان نہیں بنے جن کے اشتہار میں نارمل اور عام چہرہ ہو۔ دعویٰ ہو تا ہے کہ ایک ہفتہ سے لے کر چار ہفتوں تک میں ایسا خوبصورت چہرہ ہوگا جس کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ یہ بات بھی وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ اشتہار میں جن کا چہرہ دکھا یا گیا ہے کیا واقعی اس نے کبھی اس سامان کو استعمال کیا ہو۔
اشتہار کے معاملے میں سب سے زیادہ دھوکہ اداکاروں نے دیا ہے ۔ اپنے چاہنے والوں اور مداحوں کو الگ الگ سامان کی خوبیوں کو خوبصورت انداز میں بتاکر ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ جبکہ خود ان کا استعمال کتنا کرتے ہیں کوئی نہیں جا نتا ہے ۔ ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹرس نے بڑے وثوق کے ساتھ نقصان دہ قرار دیا لیکن ان اداکاروں نے پیسے کی خاطر اس اشتہار میں کام کیا ۔ آج کے تقریبا کے زیادہ تر اشتہار میں عریانیت عام بلکہ شرط ہو گئی ہے ۔ اشتہار کے نام پر عریانیت پھیلائی جارہی ہے رواں دور کے اشتہارات میںپرفیوم نے عورتوں کی عزت کو بر سر عام رسوا اور بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ایک عورت کو ذلیل کرکے، اسکی عزت کو فروخت کرکے ،اس کے جسم کی نمائش کرکے لوگ روٹی کمانے میں مصروف ہیں ۔یا تو عورت آج کے سماج میں اتنا مجبور ہو چکی ہے کہ اسے پیٹ کیلئے جسم کو بازار کے حوالے کرنا ہوگا۔ یا موجودہ سماج نے ایک ایسا ما حول بنا دیا ہے جہاں عریانیت کو ترقی کا نام دیا جاتاہے ۔اس معاشرے کی غیرت کو کیا ہوگیا ہے۔ اپنی ہی عزت کو محفل و بازار میں عریاں کرنے پر آمادہ ہے ۔
بدن پر لگانے والا ڈیو ڈرنٹ پرفیوم جو پسینہ کی بدبو کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ پہلے تو اسے عورتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ پھر مرد وعورت دونوں اشتہار میں استعمال کرتے نظر آئے۔ اس بار پرفیوم میں جادو یہ ہے کہ اسے استعمال کرتے ہی ایک دوسرے کو اپنے اختیار میںکرسکتے ہیں ۔ ایک اشتہار میں بے غیرتی کی ساری حدیں پار کر دیں۔ ایک پرفیوم کے اشتہار میں دکھایا گیا کہ ایک مرد نے اپنے کمرے میں پر فیوم لگایا تو الگ الگ مقامات سے عورتیں کھینچی ہو ئی اس کے پاس چلی آ ئیں۔ اور اپنے آپ کو اس مرد کے حوالے کر دیا۔ لو جی اب تو سارے راستے آسان ہو گئے۔ کسی قانون کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ ایک پرفیوم لو اور کسی بھی عورت کو اپنے اختیار میں لے لو اور عیش کرو۔ جس بے غیرتی اور جرأت مندی سے اس اشتہار کو پیش کیا گیا اس سے کہیں زیادہ مردہ ضمیری اور بے حیائی سے اسے پاس کیا گیا اور اس سے کہیں زیادہ وہ لوگ بے حس ہیں جو اسے دیکھنے کے بعدخاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ ایک عورت کے کاروبار کا کاتماشہ بڑے مزے سے دیکھتے ہیں۔یہ اشتہارات کہیں نہ کہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اب عصمت دری آسان ہو گئی ۔جب ایک عورت خود عورت کے دامن عصمت کو جھوٹی اور مصنوعی خوبصورتی کے فریب میں جلا کر خاکستر کرنا چاہتی ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ سماج میں اب تبدیلی کی ضرورت ہے ۔جب انسان اپنے ہاتھوں اپنی عزت کی نیلامی کرتا نظر آئے تو یا تو وہ مجبور ہے یا پا گل۔ دونوں ہی صورتوں میں اس کے علاج کی ضرورت ہے ۔
اشتہار کے لئے اداکاروں کو کروڑوں روپئے دئے جا تے ہیں پھر اس کی نشر واشاعت کے لئے کافی رقم خرچ کی جا تی ہے ۔ ٹیلی ویژن پر پروگرام سے زیادہ اشتہار ہو تا ہے۔ حتی کہ نیوز چینل پر بھی اس کی کثرت سے بھر مار ہے ۔ خود نمائی کے شوق نے انسان کو انسانیت سے دور کر دیا ۔فحش اور عریا نیت ،لہو ولعب و سامان ذوق ہو گئے ۔ تہذیب کا گلا اجتماعی طور پر گھونٹا جا رہا ہے ۔ اور ہم خاموش ہیں ۔ کسی ترقی کے خواب میں جی رہے ہیں ۔ یہ کون سا جدید دور اور اس کے تقاضے ہیں جہاں ہم اپنی بیٹی ،ماں ، بہن کا تماشہ خود دیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی فخر یہ دکھا تے ہیں۔ بغیر عریانیت اور جسم کی نمائش کے بھی اشتہار ممکن ہے۔ عورتوں کی حصہ داری اور مساوات کی طلب ان کا تماشہ نہیں بلکہ ان کی عزت و تعظیم ہے۔ جس کا آج بڑی بے دردی سے کاروبار ہوتا ہے اور ہم تالیاں بجا تے ہیں ۔ ترقی کا کھو کھلا نام دے کر انسانیت کو قربان نہ کریں اگر اہلیت اور قابلیت ہے تو محنت اور مشقت سے رزق کمایا جا سکتا ہے ۔ کاروبار بغیر عریانیت کے بھی ممکن ہے ۔ جھوٹ ، دھوکہ ، فریب ،عیاری اور مکاری سے کمائی ہو ئی دولت کا استعمال تو ہم کر لیں گے مگر یاد رہے !پھر اس کا نتیجہ ہمیں کو جھیلنا پڑے گا۔ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی زمین پر قدم رکھو پھر پتہ چلے گا کہ یہ دنیا کتنی حسین ہے ۔
ایک عورت کو اس کا مقام اس کی عزت اچھال کر نہیں بلکہ اسے سہارا دے کر اور اس کی عزت کر کے ہی دیا جا سکتا ہے ۔ ایسے بے ہودہ اور فحش اشتہارات کے ذریعہ انسانی اقدار کی پامالی کے ساتھ عورتوں کی عزت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کی جا ئے ۔ ایسے دھوکہ اور فریب سے ملک و ملت کو بچانے میں لطف اور مزہ ہے نہ کہ ملک اور انسانیت کی عمارت کو کھائی میں گرانے میں کامیابی ہے ۔ وہ انسان کبھی خوش نہیں رہ سکتا جو کسی کی تکلیف کا باعث بنا ہو ۔ جدید دور کی تکنیکی ترقیوں کا استعمال ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں کیا جا نا چاہئے ۔تہذیب و ثقافت اور انسانی رواداری کو ختم کرنے کے لئے نہیں ۔ غور کریں ،سنبھل جا ئیں ورنہ کل خود آپ اس کا شکار ہوں گے۔