خبریں

تاج پوشی کیلئے تیاریاںمکمل

تاج پوشی کیلئے تیاریاںمکمل

ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور اُن کی کابینہ کے وزراءکی تقریب حلف برداری کل سوموار یعنی 4 اپریل کو جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے جارہی ہے جس کے ساتھ ہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی وساطت سے بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کی انتخابی تاریخ میں دوسری مرتبہ ملک کی واحد مسلم اکثریت والی اس ریاست میں حکومت کا حصہ بنے گی۔ ریاست میں سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے ایک روز بعد یعنی 8 جنوری کو گورنر راج نافذ کردیا گیا تھا جس کو مکمل ہوئے آج قریباً تین ماہ ہونے جا رہے ہیں۔بی جے پی کی طرف سے نامزد نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کے مطابق تقریب حلف برداری 4 اپریل کی صبح منعقد ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا ”ایجنڈا آف الائنس ہماری رہنما کتاب ہے اور یہ پی ڈی پی کے لئے بھی مقدس ہے“۔ڈاکٹر نرمل سنگھ کے مطابق سابق مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا 7 جنوری کو انتقال کرجانے کے بعد سے پی ڈی پی اور بی جے پی لیڈرشپ مسلسل رابطے میں تھی۔ ڈاکٹر سنگھکا کہناکہ دونوں جماعتوں نے معاملات کو نپٹایا ہے اور فی الوقت دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کا پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد بہتر حکمرانی کے لئے کیا گیا ہے اور ہم اسے ریاست کے مفاد اور فلاح وبہبود کے لئے آگے بڑھائیں گے۔ محبوبہ مفتی کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ ’اگرچہ محبوبہ مفتی انتظامی تجربہ نہیں رکھتی ہیں لیکن اُن کا سیاسی کیریئر مثالی رہا ہے“۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ جوں ہی نئی مخلوط حکومت اپنا کام شروع کرے گی تو سابقہ مخلوط حکومت کے دس ماہ بھی ثمرآور ثابت ہوں گے اور سب کچھ ٹریک پر واپس آئے گا۔ ادھر تقریب حلف برداری 4 اپریل کو منعقد ہونے جارہی ہے۔ یہ تقریب 11 تا 4 بجے دن منعقد ہوگی۔ اس کا انعقاد جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں ہوگا“۔ انہوں نے بتایا جاتا ہے کہ تقریب حلف برداری سادگی کے ساتھ سرانجام پائے گی۔بتایاجاتا ہے کہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی ، مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، بی جے پی ممبر پارلیمنٹ اور جموں وکشمیر امور کے انچارج اویناش رائے کھنہ اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو کی شرکت متوقع ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی شرکت کا دعوت نامہ ارسال کردیا گیا ہے، چونکہ وہ بیرون ممالک دورے پر ہیں، اس لئے اُن کی شرکت کا امکان بہت ہی کم ہے۔ رپورٹوں کے مطابق محبوبہ مفتی کی دو بہنیں اور دو بیٹیاں تقریب حلف برداری میں موجود رہیں گی۔ بتایا یہ بھی جاتا ہے کہ تقریب حلف برداری کے سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ اسے پہلے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں کل سنیچر کو جموں یونیوسٹی کا 16 واں جلسہ تقسیم اسناد منعقدکیا گیا جس میں نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری بحیثیت مہمان خصوصی تھے اور اس کے پیش نظر کیمپس کے گردونواح میں سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی پہلے ہی بڑھا دی گئی تھی ۔تقریب حلف برداری کے پیش نظر کیمپس کے گردونواح میں سیکورٹی اہلکاروں کا پہرہ جاری جاری ہے۔ محبوبہ مفتی نے 26 مارچ کو ریاستی گورنر این این ووہرا سے ملاقات کرکے ریاست میں نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ وہ ریاست کی 13 ویں وزیر اعلیٰ ہوں گی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم مفتی سعید نے گذشتہ سال کے 13 نومبر کو اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کو ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خواہش کا بلواسطہ طور پر اظہار کیا تھا۔ انہوں نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت کے حصے کے طور پر محبوبہ مفتی ریاست کی نئی وزیر اعلیٰ ہوسکتی ہیں۔ مرحوم مفتی سعید کی جانب سے اپنی بیٹی کو ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ بنائے جانے کی خواہش کے اظہار پر بی جے پی کے صرف ایک لیڈر پروفیسر ہری اوم نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جموں واسیوں اور بی جے پی کیلئے محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے نام 13 نومبر کو بھیجے گئے ایک مکتوب میں لکھا تھا کہ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے اعلان سے جموں خطے کے لوگ اور بی جے پی کے کارکنان مایوس اور تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا تھا کہ جموں واسیوں نے ایک آواز میں کہا ہے کہ محبوبہ مفتی کا وزیر اعلیٰ بننا انہیں ناقابل قبول ہے تاہم ہری اوم کو بعدازاں بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے چھ ماہ کے لئے بے دخل کیا گیا تھا .