خبریں

تازہ برف باری سےمعمو لات زندگی پھر متاثر

تازہ برف باری سےمعمو لات زندگی پھر متاثر

وادی کشمیر میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب کو پیش گوئی کے برعکس برفباری کا تازہ سلسلہ شروع ہوا ،جو وقفے وقفے سے سنیچر کی دوپہر تک جاری رہا جسکی وجہ سے ایک مرتبہ پھر معمولات زندگی متاثر ہوئے جبکہ 4روز بعد بحال ہوا فضائی رابطہ بھی ایک مرتبہ پھر درہم برہم ہوا ۔ادھر تازہ برفباری کے سبب دارالحکومت سرینگر سمیت کئی رابطہ سڑکوں پر پھسلن سے آوا جاہی میں خلل پڑا جبکہ کئی گاڑیوں کو حادثات بھی پیش آئے جسکے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔اس دوران دھوپ چھائوں کے کھیل کے بیچ وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت تنزلی کا شکار ہوا جسکی وجہ سے سردی کی لہر میں اضافہ ہوا۔اس طرح سے وادی کشمیر میں سنیچر کی علی الصبح جب اہلیان کشمیر نیند سے بیدا ہوئے تو قدرت کے عجب رنگ دیکھ کر حیران ہو کر رہ گئے ۔سنیچر کی صبح دارالحکومت سرینگر میں برفباری دو بارہ شروع ہوئی جو غالباً جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو شروع ہوئی تھی کیوں کہ سرینگر میں صبح نو بجے تک قریب قریب چار انچ تازہ برف کی پرت زمین پر بچھ گئی تھی جبکہ یہ سلسلہ دوپہر تک وقفے وقفے سے جاری رہا ۔تازہ برفباری سے سڑکوں پر برف سفید قالین کی طرح بچھ گئی جبکہ یخ بستہ ہوائوں اور گاڑیوں کی آوا جاہی سے شیشے میں تبدیل ہو ئی جسکی وجہ سے سڑکوں اور شدید پھسلن پیدا ہوئی ۔اطلاعات کے مطابق سڑکوں پر پھسلن کی وجہ سے شہر سرینگر میں سنیچر کو ٹریفک نقل وحرکت بری طرح سے متاثر ہوئی ۔اس کے علاوہ وادی کشمیر کے دیگر حصوں میں بھی تازہ برفباری کے سبب ٹریفک کی آوا جاہی متاثر ہوئی ۔اس دوران کئی مقامات پر گاڑیوں کو حادثات بھی پیش آئے ،جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ایک اطلاع کے مطابق سنگرامہ میں ایک گاڑی بجلی کھمبے سے جا ٹکرائی ۔ان دونوں حادثات میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔اس کے علاوہ دیگر حصوں سے بھی گاڑیوں کے پلٹنے اور پھسلن کے باعث دوسری گاڑیوں ،کھمبوں یا دیواروںسے ٹکرانے کی اطلاعات ہیں ۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین بر عکس وادی کشمیر میں سنیچرکی صبح تازہ برف باری سے جہاں معمولات زندگی ایک بار پھر متاثر ہو کر رہ گئے ،وہیںوادی میں تازہ برف باری کے سبب سری نگر ہوائی اڈے پر پروازوں کا سلسلہ ایک بار پھر متاثر ہوا ۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سنیچرکے روز 10 بجے تک گرمائی دارلحکومت سرینگر میں کم و بیش6 انچ تازہ برف جمع ہوئی تھی۔موسم کی تازہ صورتحال کی بات کی جائے تو 3 جنوری کو لگاتار4 روز تک برفباری ہوئی جس کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے۔ اگرچہ7 جنوری کو موسم میں تبدیلی آئی تھی اور برفباری رْکنے کی وجہ سے معمولات زندگی پٹری پر آنا شروع ہوگئی تھی۔ تاہم سنیچر کی صبح 6 بجے سے بھاری برفباری پھر سے شروع ہو گئی ۔اس بیچ وادی میں شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے مسلسل نیچے درج ہونے کی وجہ سے سردی کا زور برابرجاری ہے۔ متعلقہ محکمے کے مطابق سرینگر میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی4.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی10.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.1 ڈگری ریکارڈ ہوا ہے۔گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں رات کا درجہ حرارت منفی 2.8ڈگری ،سیاحتی مقام کوکرناگ میں منفی 4.5ڈگریاور سرحدی ضلع کپوارہ میں منفی5.4ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ وادی کشمیر میں سردیوں کا بادشاہ چالیس روزہ چلہ کلان عالم شباب میں ہے اور اپنی بھر پور طاقت آزمائی سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات سے دوچار کر رہا ہے۔چلہ کلان کی مدت گذشتہ برس21دسمبر کو شروع ہوئی اوریہ40روزہ مدت 31جنوری کو اختتام پذیر پہنچ جائے گی ۔
ادھر حالیہ برفباری سے جہاں اہلیان کشمیر کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے ،وہیں مشکلات کے ایام میں ہنسی مذاق اور تفریح کا سامان کیسے پیدا کیا جائے ،بلا یہ کشمیریوں سے بہتر کون جانتا ہے۔حالیہ بھاری برفباری کے سبب جہاں زندگی کی رفتار اب بھی دھیمی ہے ۔تاہم شہر ودیہات میں بچے ،نوجوان یہاں تک مر د زون برف سے فن پارے تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں جبکہ کئی نجی اسکولوں نے اس عمل کو ہوم ورک بھی قرار دیا ۔ مشکل حالات میں ہنسی مذاق کے لئے وقت کیسے نکالا جائے کشمیریوں سے بہتر کوئی اور نہیں جانتا ۔حالیہ برف باری کے سبب جہاں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے ،مگر پھر کشمیریوں نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، مشکل میں بھی ہنسی مذاق اور تفریح جبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا ایک بہترین رول ادا کررہا ہے ۔وادی کشمیر کے اطراف واکناف میں ہوئی برفباری کا ایک مثبت پہلویہ بھی ہے کہ یہاں بچے ،نوجوان مرد وزن برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔ ان دنوں سوشل میڈیاپر بھی سیکڑوں برف سے بنائے گئے فن پارے گردش کر رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر بچے، نوجوان برف سے مجسمے تراشنے کی ایک نئی دنیاتخلیق کررہے ہیں۔وادی کشمیرمیں ہنرکی کمی نہیں ہے۔یہاں چاہے لڑکاہویالڑکی ہرایک میں کسی نہ کسی طرح کی صلاحیت چھپی ہوئی ہے۔اگردیکھاجائے تووادی کشمیرمیں بچے،نوجوان لڑکیاں اور لڑکے تخلیقی ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ کبھی نہ کبھی کوئی نئی تخلیق کی نشانیاں چھوڑتے ہیں۔بات ان فن پاروں کی جوکچھ وقت کے لئے ہی موجود رہتے ہیں جن کیلئے خون جگرصرف کرنا درکار رہتاہے۔ یعنی وہ برفیلے فن پارے جن کے لئے سوچنا محال ہے۔وادی کشمیر میں برف گرتے ہی بچے، نوجوان برف سے مختلف قسم کے فن پارے تیار کرتے ہیں۔ ان دنوں بھی ہرجگہ چھوٹے بچے، نوجوان لڑکے اور لڑکیاں برف سے مجسمے تراشنے کی ایک نئی دنیا تخلیق کررہے ہیں۔یہ لڑکے طرح طرح کے چیزوں کی عکس بندی کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی نجی اسکولوں نے ویٹس ایپ کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا جن بچوں نے برف سے فن پارے تیار کئے ہیں ،وہ اُنکے ساتھ اپنی تصویر شیئر کریں۔اس سے بھی ایک دوڑ شروع ہوگئی ،جن بچوں نے فن پارے نہیں بنائے ،وہ بھی فن پارے بنانے میں مصروف نظر آئے۔سیاحتی مقامات پر سیاحوں نے فطری نظاروں کا خوف لطف اٹھانے کیساتھ ساتھ اپنی یادوں کو محفوظ کرنے کے لئے فن پارے تیار کئے اور سلفی اٹھا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں ۔