نقطہ نظر

تاشقند میں شاستری کی وفات

کلدیپ نائر
لوگوں کی یادداشت کس قدر کمزور ہوتی ہے۔ پچاس سال پہلے بھارت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری 10 اور 11 (جنوری 1966) کی رات کو تاشقند میں وفات پا گئے۔ میں شاستری کا پریس آفیسرتھا۔ اگرچہ اس وقت تک میں نے یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے ایڈیٹر اور جنرل مینجر کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہوا تھا۔ ایک سوال جو آج بھی پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا شاستری کی وفات فطری تھی یا انھیں دل کا دورہ پڑا تھا لیکن اس وقت ان کی موت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھائے گئے تھے سوائے اس کے کہ شاستری کی اہلیہ للیتا شاستری نے اس شبے کا اظہار کیا تھا کہ ان کے شوہر کو زہر دیا گیا ہے۔
یہ بات انھوں نے تب کہی جب میں تعزیت کرنے ان کے ہاں پہنچا۔ زہر دینے کا سوال پہلی مرتبہ کئی سال بعد رکن پارلیمنٹ دھرم دیو شاستری نے لوک سبھا میں اٹھایا تھا۔ جب دھرم دیو نے لوک سبھا میں یہ بیان دیا تو ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سارے اراکین اسمبلی مزید تفصیلات کا تقاضا کر رہے تھے جس کے بعد ایوان میں اس معاملے پر وسیع بحث ہوئی اور ملک بھر میں بھی شاستری کی اچانک موت پر بہت چہ میگوئیاں ہوئیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بحث ابھی بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ میں تاشقند کے ہوٹل میں سویا ہوا تھا جب ایک روسی عورت نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا ’’تمہارا وزیراعظم مر رہا ہے‘‘۔ تاشقند کے اس ہوٹل میں بھارتی اور پاکستانی صحافیوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ تقریباً آدھی رات کا وقت تھا جب میرے دروازے پر بڑے زور سے دستک ہوئی جس سے میں ہڑ بڑا کر جاگ اٹھا اور مجھے ایسے لگا جیسے خواب میں مجھے کوئی کہہ رہا ہے کہ شاستری فوت ہوگئے ہیں۔
میں ان چند لوگوں میں شامل تھا جو سب سے پہلے شاستری کے کمرے میں پہنچے جہاں ان کی میت بستر پر پڑی تھی۔ یہ ایک بہت وسیع کمرہ تھا جس میں ایک بہت بڑا بستر بچھا تھا۔ اس کے اوپر شاستری کا جسم سکڑا ہوا پڑا تھا جیسے ایک بڑے سے صفحے پر فل اسٹاپ پڑا ہو۔ میرے ساتھ پریس انفارمیشن بیورو کا فوٹو گرافر بھی تھا‘ ہم دونوں نے مل کر ان کے جسم کو سیدھا کیا اور اس پر اپنا قومی جھنڈا پھیلا دیا جو کہ کمرے کے ایک کونے میں لٹک رہا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ جلد ہی سوویت یونین اور پاکستان کے لیڈر بھی اس کمرے میں پہنچ جائیں گے۔
سوویت وزیراعظم اے این کو سیجن پہلے اس کمرے میں پہنچے جس کے بعد پاکستان کے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان بھی تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔ انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا ’’وہاں وہ شخص پڑا ہے جو بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا تھا۔ جب شاستری کی میت ایئرپورٹ کی طرف لے جائی جا رہی تھا تو پورا تاشقند ہی سڑکوں پر نکل آیا تھا۔ ہجوم میں سے بہت سے لوگ ہمارے ساتھ ہاتھ ملا کر تعزیت کرنا چاہتے تھے۔
لوک سبھا میں اس وقت کے وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ نے ایک غلط بیان جاری کیا کہ شاستری کے کمرے میں ’’کال بیل‘‘ لگی ہوئی تھی حالانکہ درحقیقت وہاں کوئی کال بیل نہیں تھی۔ شاستری کے نجی اسٹاف کے لوگ دو کمرے چھوڑ کر ٹھہرے ہوئے تھے جن کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ شاستری نے رات کے وقت ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس ڈاکٹر کو بھیجیں جو دہلی سے ان کے ساتھ آیا تھا۔ اس پر ان کا نجی اسٹاف انھیں سہارا دیکر ان کے کمرے میں واپس چھوڑ گیا۔ شاستری کی وفات کے بعد جب ان کا ڈاکٹر کمرے میں پہنچا اور اس نے ایک لمبی سرنج ان کے دل میں چبھو کر دل کی حرکت جاری کرنے کی کوشش کی تو ناکام ہو گیا۔ اس پر ڈاکٹر نے کہا ’’بابو جی‘ آپ نے مجھے موقع ہی نہیں دیا کہ کچھ کر سکوں‘‘۔
کیا معاہدہ تاشقند سے انھیں اتنا صدمہ ہوا تھا؟ یقینااس میں کوئی شک نہیں کیونکہ معاہدے کے بعد جب انھوں نے پریس کانفرنس کی تو بھارتی صحافی سخت اشتعال میں تھے کیونکہ معاہدے کے تحت ہمارے کشمیر کی دو اہم چوکیاں حاضی پیراور ٹتھوال پاکستان کو واپس کر دی گئی تھیں۔ شاستری نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے بتایا تھا کہ وہ مجبور ہو گئے تھے کیونکہ سوویت یونین نے دھمکی دی تھی کہ سلامتی کونسل میں کشمیر پر جو قرارداد زیر التوا تھی اسے ویٹو کر دیں گے۔
شاستری کو اس کے اہل خانہ کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب پریس کانفرنس کے بعد وہ کمرے میں واپس آئے تو انھوں نے اپنے سیکریٹری سری واستوا کو کہا کہ وہ ان کے گھر ٹیلی فون ملائے۔ یہ ٹیلی فون شاستری کی سب سے بڑی بیٹی کْسم نے اٹھایا اور کہا کہ اسے اس بات کی بڑی ناراضگی ہے کہ حاضی پیر اور ٹتھوال کی دونوں چوکیاں پاکستان کو واپس دیدی گئی ہیں حالانکہ وہ ہمارے کشمیر کا حصہ تھیں۔ شاستری نے بیٹی سے کہا وہ اپنی والدہ کو فون دے۔ کسم نے کہا کہ ماں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ وہ حاضی پیر اور ٹتھوال کی چوکیاں واپس دینے پر ناراض ہیں۔
شاستری نے کہا کہ اگر میرے گھر والے ہی اتنے ناراض ہو گئے ہیں تو دوسرے تو اس سے کہیں زیادہ خفا ہو نگے۔ میرا خیال ہے کہ اس بات نے شاستری کو اتنا زیادہ رنجیدہ کر دیا کہ وہ اپنے کمرے کے اندر چکر لگانے لگے۔ جب ان کے ذاتی ملازم نے کہا کہ آپ فرش پر سو جائیں لیکن شاستری نے اس کی بات نہیں مانی۔ سیاست دان تو سیاست دان ہی ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے تاشقند میں سورن سنگھ نے مجھ سے کہا تمہارے خیال میں اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟ مگر میں اسقدر غمزدہ تھا کہ میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔
لیکن سورن سنگھ اور وائی بی چاون مسلسل امکانی جانشین کے بارے میں بحث کرتے رہے جب کہ انھیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ کانگریس کے صدر کامراج پہلے ہی چنائی سے چارٹرڈ طیارے میں بیٹھ کر دہلی پہنچ چکے ہیں اور انھوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ مسز اندرا گاندھی شاستری کی جگہ وزیراعظم بنیں گی۔ کامراج نہیں چاہتے تھے کہ مرار جی ڈیسائی کو جانشین بنایا جائے کیونکہ ان کے خیال میں وہ بہت زیادہ اکھڑ اور اپنی رائے پر مصر رہنے والے ہیں۔ کانگریس پارٹی چاہتی تھی کہ اگلا امیدوار متفقہ ہو لہٰذا انھوں نے یہ بات کامراج کے ذمے لگا دی کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کی رائے لے کر اگلے وزیراعظم کا فیصلہ کریں۔ کامراج نے دیکھا کہ اراکین اسمبلی کی اکثریت اندرا گاندھی کے حق میں ہے۔
مرار جی ڈیسائی نے اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے بجائے انھوں نے پارٹی میں انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا جس میں وہ خود ہار گئے۔ مسز اندرا گاندھی پہلے ہی تیار تھیں اور اپنی نامزدگی کا انتظار کر رہی تھیں۔ یو این آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں وہ پہلے ہی کہہ چکی تھیں کہ وزارت عظمیٰ کا انحصار عوام پر ہے پارٹی پر نہیں۔ یہ مرار جی ڈیسائی کے لیے ایک کھلے چیلنج کے مترادف تھا کیونکہ کانگریس کے زیادہ تر وزرائے اعلیٰ ڈیسائی کے حق میں نہیں تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اندرا گاندھی کے انتخاب میں کامراج کی حمایت نے نمایاں کردار ادا کیا جب کہ اس موقع پر مرار جی ڈیسائی اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کا منصب حاصل نہ کر سکے حتیٰ کہ جب کئی سالوں کے بعد وہ بالآخر وزیراعظم بن گئے تو انھوں نے پارٹی توڑ دی اور یوں ان کی حکومت بھی ٹوٹ گئی کیونکہ ان کی فطرت میں مفاہمت کرنا تھا ہی نہیں۔
آج 50 سال بعد شاستری کی مثال ملک کے لیے ایک سبق ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی کنجی فراہم کر دی جس سے کہ کوئی بھی تالا کھولا جا سکتا ہے۔ مودی کی حکومت کو شاستری کی کتاب سے ایک ورق پھاڑ کر ملک پر قومی نقطہ نظر سے حکومت کرنے کا اصول سیکھنا چاہیے نہ کہ پارٹیوں کے نقطہ نظر کو مقدم رکھنا چاہیے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)