مضامین

ترکی سے مطالبات، امریکی مسلمانوں پر مظالم

ترکی سے مطالبات، امریکی مسلمانوں پر مظالم

مظفر اعجاز
’’ترکی کی اسلامی حکومت ترکی کے تمام طبقات کے حقوق کا خیال کرے ان کے حقوق ان کے رسوم ورواج اور رہن سہن کے طریقوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔‘‘ یہ ہدایات امریکی حکومت نے گزشتہ دنوں ترکی کے تقسیم اسکوائر پر حکومت مخالف لوگوں کے احتجاج اور اس کو طاقت کے ذریعہ منتشر کرنے کی کوشش پر جاری کی تھیں۔ ترک حکومت بارہا وضاحت کرچکی ہے رجب طیب ایردغان بھی سب کے حقوق کے تحفظ کی بات کرچکے ہیں لیکن امریکی اور مغربی میڈیا اور اس کے زیر اثر پاکستانی میڈیا بھی اسے ترک حکومت کے خلاف عوامی سیلاب، ترک بہار اور نہ جانے کیا کیا قرار دینے میں مصروف ہے۔ طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں ایک مغربی دانشور نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ترک حکومت سیکولر لوگوں کا طرززندگی زبردستی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ پتا نہیں یہ خیال ان مٹھی بھر سیکولر لوگوں کو کیونکر آگیا کہ ان کا طرززندگی تبدیل کیا جانے والا ہے جنہیں اب بھی ہر قسم کی آزادیاں حاصل ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ترکی کا جو چہرہ مصطفی کمال اور دیگر سیکولر عناصر نے فوج کی مدد سے بنایا تھا وہ مصنوعی تھا۔ جوں ہی ترک عوام کو موقع ملا انہوں نے اسلام اور اسلام پسندوں کے حق میں رائے دے دی133
ہم نے امریکی حکومت کی ہدایات کا ابتدا میں تذکرہ اس لیے کیا کہ سیکولر امریکا میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے وہاں صرف مسلمان ہونے پر سختیاں مقدر بن جاتی ہیں۔ کئیرکی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست مشی گن میں کسٹم اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کی جانب سے امریکا وکینیڈا کی سرحد پر مسلمانوں کو آمدورفت کے موقع پر بلاجواز تنگ کرنے کی شکایات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم کیئر CAIRنے اس حوالے سے مشی گن میں فیڈرل جج کی عدالت میں مقدمہ درج کرادیا ہے کہ سی بی پی اور ایف بی آئی ایجنٹس امریکی مسلمانوں کو سرحدوں پر تنگ کرتے ہیں انہیں بے جا روکا جاتا ہے اور غیر ضروری سوالات کیے جاتے ہیں۔ وکیل شریف عقیل کی سرکردگی میں چار امریکی مسلمانوں کی جانب سے مقدمہ کیا گیا ہے۔ ان مسلمانوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں کسی غلط کام کے ثبوت کے بغیر ہتھکڑی لگائی گئی۔ ان مسلمانوں سے ان کے مذہبی عقائد اور عبادات کے بارے میں زیادہ تر سوالات کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سوالات جو تو اتر سے کیے جاتے ہیں یہ ہیں کہ تم دن میں کتنی مرتبہ نماز پڑھتے ہو133 تم فجر کی نماز مسجد میں ادا کرتے ہو یا گھر میں تمہارے ساتھ مسجد میں اور کون کون نماز پڑھتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ133 اور یہ سارا کام صرف اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے ناموں کے ساتھ اسلامی لاحقے ہوتے ہیں۔ جب امریکا میں خود امریکی مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے تو تارکین وطن کا کیا حال ہوگا ہاں یہ ضرور ہے کہ ابھی امریکی عدالتیں قانون کی کسی حد تک پاسداری کرلیتی ہیں اور لوگوں کی بات سن لی جاتی ہے یہ اور بات ہے کہ عافیہ امریکی نہیں تھی تو اس کا مقدمہ وچ کرافٹ کورٹ یا کینگرو کورٹ کو دیا گیا اور یہاں کیئر کے ذمہ داروں نے فیڈرل جج کی عدالت میں مقدمہ کردیا133 ایسے ملک کے حکمرانوں کی جانب سے ترکی کی اسلامی حکومت کو سیکولر سٹوں کے عقائد اور حقوق کے تحفظ کا درس تو سمجھ سے بالا ہے133 جبکہ حال ہی میں ایک سروے میں ترک عوام کی اکثریت نے حکومت کی جانب سے کسی قسم کی پابندیوں کے حوالے سے سوال کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ہمیں حکومت سے کوئی شکایت نہیں خصوصاً عقائد وخیالات اور طرز زندگی کے حوالے سے حکومت نے کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ لیکن پھر بھی ترک حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ترکی کی حکومت کو محض اس لیے تنگ کیا جارہا ہے کہ وہ اسلام پسند ہے۔ اس نے ترکی سے مغربی اثرات اور قوانین کو نکال باہر کیا ہے۔ اگر وہ سرعام شراب کی فروخت ہوٹلوں اور تعلیمی اداروں میں شراب کی فروخت روک رہی ہے تو کسی طرح بھی سیکولرزم کے خلاف نہیں۔ اب جبکہ مظاہرے ٹھنڈے پڑچکے ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ ترک حکومت نے ان پر قابو پالیا ہے اور لگ رہا ہے کہ ترک حکومت اور عوام بہت جلد اس سازش پر بھی قابو پالیں گے اور ایسے سیکولر عناصر کی بیخ کنی کردی جائے گی جو ترکی کو اس کی اصل کی طرف لوٹنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ 20ویں صدی کے اوائل میں مسلمانوں کی آخری خلافت ترکی ہی میں تھی اور اب واضح نظر آرہا ہے کہ ترکوں کا رخ خلافت ہی کی طرف ہے133 اس لیے مغرب کو بے چینی ہے۔